تازہ ترین

جموں میں شراب کی دکانوں کے خلاف عوامی برہمی شدت اختیار کرنے لگی | شہر کے کئی علاقوں میں عوام کا احتجاج

رہائشی علاقوں میں شراب دکانیں کھولنے کے اجازت نامے منسوخ کرنے کا مطالبہ

تاریخ    9 جون 2021 (22 : 02 AM)   
(عکاسی: میر عمران)

نیوز ڈیسک
 جموں// جموں و کشمیر کے سرمائی دارالحکومت جموں میں شراب کی نئی دکانیں کھولنے کے خلاف مقامی لوگوں کا احتجاج ہر گزرتے دن کے ساتھ زور پکڑ رہا ہے۔سروال، گجر نگر، چوک چبوترا اور دیگر علاقوں کے بعد منگل کو شکتی نگر میں لوگ سڑکوں پر آئے اور شراب کی دکان کھولے جانے کے خلاف احتجاج کیا۔احتجاجی 'شراب کی دکانیں بند کرو بند کرو'، 'شراب کی دکانیں نہیں کھلنے دیں گے نہیں کھلنے دیں گے' جیسے نعرے لگا رہے تھے۔اس موقع پر ایک احتجاجی نے نامہ نگاروں کو بتایا: 'ہماری مائوں، بہنوں اور بچیوں کے گھروں کے باہر شراب کی دکانیں کھولی جا رہی ہیں۔ بالکل قریب میں آنگن واڑی، سکول، مندر اور بینکز ہیں۔ پورے جموں میں ہا ہا کار مچی ہوئی ہے'۔انہوں نے سوال انداز میں کہا: 'ایل جی منوج سنہا صاحب کیا ہماری ماتائوں اور بہنوں کی آوازیں آپ تک نہیں پہنچ پاتی'۔مذکورہ احتجاجی نے بتایا کہ یہ شکتی نگر ہے لیکن حکام نے ہر جگہ چاہے وہ پٹولی، سروال یا نیو پلاٹ ہے، شراب کی دکانیں کھولی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا: 'ہر جگہ ہا ہا کار مچی ہوئی ہے۔ اگر بی جے پی یہ دکانیں بند نہیں کراتی ہے تو سمجھا جائے گا کہ یہ دکانیں اسی جماعت کی ایما پر کھولی جا رہی ہیں'۔جموں میں لوگوں کا کہنا ہے کہ شراب کی دکانیں عبادت گاہوں کے نزدیک اور بستیوں میں کھولی جا رہی ہیں جس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔جموں میں کورونا کرفیو اور نئی ایکسائز پالیسی کے نفاذ کے پیش نظر شراب کی دکانیں بند تھیں۔ لیکن کورونا کرفیو میں نرمی کے اعلان کے بعد 2 جون کو جموں سمیت یونین ٹریٹری کے مختلف علاقوں میں یہ دکانیں کھل گئیں اور لوگوں کا احتجاج بھی شروع ہوا۔جب دو جون کو دکانیں کھلیں تو ان پر شراب خریدنے والوں کی کافی بھیڑ دیکھی گئی تھی۔قبل ازیں جموں و کشمیر حکومت نے رواں برس 20 اپریل کو نئی ایکسائز پالیسی کے تحت شراب دکانوں کی لائسنسز ای نیلامی کے ذریعے فروخت کیں جو حکومت کے لئے بے انتہا سود مند سودا ثابت ہوا۔288 شراب دکانوں کی ای نیلامی سے جموں و کشمیر حکومت کو سالانہ 140 کروڑ روپیوں کی آمدنی ہوئی جو سابقہ آمدنی سے 130 کروڑ روپیہ زیادہ ہے۔ شراب دکانوں کی گذشتہ نیلامیوں سے حکومت کو صرف 10 کروڑ روپے کی سالانہ آمدنی ہوتی تھی۔