تازہ ترین

آہ !مفتی فیض الوحید صاحب

اسلامی دنیا کا ایک چمکتا ستارہ غروب

تاریخ    4 جون 2021 (00 : 01 AM)   


سوفیہ یوسف
مفتی فیض الوحید صاحب اسلامک دنیا کی جانی مانی شخصیت ہیں۔ جو دودشن بالا میں 1966 کو پیدا ہوئے۔ مفتی فیض بچپن سے ہی کافی ذہین تھے۔ انھوں نے قرآن مجید کو 1982 میں مکمل حفظ کیا۔ صرف اتنا ہی نہیں مفتی صاحب نے تجوید کے فن کو بھی سیکھ لیا۔ مفتی فیض صاحب جموں وکشمیر کے راجوری سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مدرسہ کاشف العلوم تھنہ منڈی اور مدرسہ تعلیم القرآن مظفر نگر سے حاصل کی۔ اسکے بعد انھوں نے دو سال تک درس نظامی مدرسہ خادمل السلام ہاے پور میں پڑھا۔ اور اپنی گریجویشن دارالعلوم دیوبند میں 1911 میں مکمل کی۔ مفتی فیض صاحب نے اپنی ایم-اے اردو کی ڈگری ڈاکٹر بیم راؤ امبیدکر یونورسٹی میں حاصل کی۔
مفتی فیض الوحید صاحب نے پڑھانے کی شروعات مدرسہ اشرف العلوم جموں سے کی۔ اسکے بعد انھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جامعہ معارفِ القرآن کو شروع کیا اور 5 اکتوبر1990 کو وہ وہی چلے گئے۔ اس سفر کے دوران انہوں نے بہت سی مصیبتوں کا سامنا کیا اور آخر کار ان کی محنت اور لگن نے اپنا رنگ دکھا دیا اور وہ جامعہ معارفِ القرآن میں چیف مفتی کی حیثیت پر فائز ہوگئے۔
مفتی صاحب ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی زندگی دین اسلام کی راہ میں صرف کی۔ انکو اللہ تعالیٰ نے بہترین صلاحیتوں سے نوازا تھا جنکا انہوں نے بھر پور فائدہ اْٹھایا، جسکا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ اپنی محنت اور بھر پور صلاحیتوں سے انھوں نے پہلی بار قرآن مجید کا گوجری زبان میں ترجمہ کیا۔
مفتی فیض الوحید صاحب اسلام کے ایک بہت بڑے عالم دین تھے جنکو اسلام کے بارے میں بہت عملیت تھی۔ عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک بہت بڑے قاضی، ترجمہ نگار اور واعظ تھے۔ مفتی صاحب بہت ہی محنتی انسان تھے جنہوں نے اپنے دین کے لئے بہت ساری خدمات انجام دی۔ وہ اپنی تقریر سے لوگوں کو صحیح اور غلط کی فرق سمجھاتے تھے اور ان کی زندگی کا مقصد انکو یاد دلاتے تھے۔ نومبر 2018 میں انھوں نے ایک تقریر میں کہا تھا  " ہر شخص کی کامیابی قرآن مجید میں پوشیدہ ہے"۔
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی کتاب ہیں جسکو انہوں نے اپنے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا اور اس کی زبان عربی تھی۔ قرآن مجید صرف ایک کتاب نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ لیکن عربی زبان صرف عرب والے سمجھ سکتے ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے عربی زبان پڑھی ہوگی۔ عجمیوں کے لئے عربی کو سمجھنا مشکل ہے خاص طور سے ان لوگوں کے لئے جو پڑھنا لکھنا نہیں جانتے۔ پھر کچھ ایسے لوگوں نے جنم لیا جنہوں نے قرآن مجید کا بہت ساری زبانوں میں ترجمہ کیا جس کی مدد سے ہر کسی نے قرآن مجید کو اپنی مادری زبان میں سمجھنے کی کوشش کی۔ انھی حضرات میں سے ایک مفتی فیض الوحید صاحب بھی شامل ہیں۔ جنہوں نے اس عظیم فریضے کو انجام دیا اور گوجری زبان میں قرآن مجید کا پہلا ترجمہ لکھا۔ جسکی مدد سے اس زبان سے وابستہ لوگوں نے آسانی سے قرآن مجید اور اسکی تعلیمات اپنی مادری زبان میں سمجھا۔
مفتی فیض صاحب مترجم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مصنف بھی تھے جنہوں نے بہت سارے کتابچہ لکھے ہیں جن میں "سراجم منیرا"، "احکام میت " اور" نماز کے مسائل قرآن اور حدیث کی روشنی میں" شامل ہیں۔ لیکن زندگی کا دستور ہے جس طرح اسکا آغاز ہوتا ہے اسی طرح اسکا ایک دن اختتام ہونا بھی لازم ہے اور اسی طرح اس عظیم الشان شخصیت کی زندگی کا اختتام یکم جون2021 کو ہوا اور وہ اس دارفانی کو رخصت کرکے آخری سفر پر چلے گئے۔اللہ تعالیٰ انکی خدمات کو قبول فرمائے اور ہم سب کو صحیح راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین ثم آمین۔
(مضمون نگار جامعتہ البنات سرینگرکی طالبہ ہیں)
ای میل۔Sofisufaya1999@gmail.com