تازہ ترین

مولانافیض الوحید کا’فیض‘

یادیں

تاریخ    4 جون 2021 (00 : 01 AM)   


احمد توصیف قدس،کشتواڑ
 
وہ ابھی محض 55 برس کے تھے۔ لیکن چلے گئے تو سب کو رْلا گئے۔ "تعلق"گوجر برادری سے تھا لیکن "تعارف" انسانوں سے ۔مذہب و ملت کے لحاظ کے بغیر "انسانی برادری" آپ کا احترام کرتی۔ آپ سے ملاقات کرتی، آپ سے مشورے لیتی، آپ کو عزیز رکھتی۔ 
 مولانامفتی فیض الوحید صوبہ جموں کے ضلع راجوری میں پیدا ہوئے تھے۔ لیکن آپ نے اپنی زندگی کا اکثر حصہ جموں شہر میں گزارا۔ بٹھنڈی کے مدرسہ "مرکز المعارف" کا یہ معلم ِ حق نونہالوں کو دنیا کی حقیقت سے آشنا کرتا تھا۔ سْنا تھا مدرسہ کے محدود احاطہ کے باہر دنیا کے وسیع احاطے میں بھی آپ کے کئی متعلم آپ سے "فیض" حاصل کرتے تھے۔ چنانچہ راقم کئی ایسے لوگوں کو جانتا ہے جو مرحوم مفتی فیض الوحید کے ساتھ براہِ راست رابطے میں تھے اور آپ کو استاد اور مربی تصور کرتے تھے۔ 
ہر سال ماہِ رمضان میں مسلمانوں کو تفسیرِ قرآن سنانے والا مفسر ِقرآن امسال رمضان کے مقدس مہینے میں بیمار ہوگیا تھا۔ آپ اس بار دروس نہیں دے پائے۔ اس اچانک بیماری کا سبب اولاً تو سمجھ نہیں آیا۔ لیکن آج رمضان کو رخصت ہوئے تقریباً آدھے سے زیادہ مہینہ ہو گیا ہے اور یوں قدرت کا فیصلہ واضح ہو گیا کہ یہ رمضان آپ کا "آخری رمضان" تھا۔
سال 2018 کی بات ہے۔ راقم کشمیر یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔ اْس سال کا (National Eligibility Test)NET امتحان  (National Testing Agency)NTA منعقد کر رہی تھی۔ ہمارے سینٹرس کشمیر کے بجائے جموں میں رکھے گئے تھے۔ چنانچہ کشمیر یونیورسٹی سے برادر ہلال احمد تانترے کے ہمراہ جموں آنا ہوا۔ امتحان سے فارغ ہوئے تو ہم نے مفتی فیض الوحید صاحب سے ملنے کا پروگرام بنایا۔ 
ایڈریس معلوم کر کے ہم صبح 10 بجے بٹھنڈی کے مدرسہ مرکزالمعارف پہنچے تو مفتی صاحب کو تدریس میں مشغول پایا۔ ہم نے تعارف دیا اور  آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا سبب بیان کیا۔  پہلے آپ نے وقت دینے کے لیے معذرت کر دی کہ وہ "بچوں کو پڑھا رہے ہیں"۔ ہم نے شوقِ ملاقات کا ذکر کیا تو آپ نے ظہر کے بعد کا وقت متعین کیا کہ "اگر تب تک رْک سکتے ہیں تو ملاقات ممکن ہو سکتی ہے"۔ ہم مفتی صاحب سے اسی قسم کے جواب کی توقع کر رہے تھے۔
ظہر تک ہم بٹھنڈی کے علاقے کا جائزہ لینے لگے۔ چند اشخاص سے گفتگو بھی ہوئی۔ کچھ ایسی باتوں کا علم بھی ہوا کہ جس سے اب تک ہم ناآشنا تھے۔ 
کھانا کھا کر اور نمازِ ظہر ادا کر کے ہم مفتی صاحب کی خدمت میں پہنچے تو آپ کو منتظر پایا۔ ہم نے ازسر نو اپنا تعارف کرایا۔ ابتداء میں وہ کھل کر بات نہیں کر رہے تھے۔ لیکن جب انھیں احساس ہو گیا کہ ہم اْن سے "فیض" حاصل کرنے کی غرض سے ہی ملاقات کرنے آئے ہیں تو پھر یک دم کھل گئے۔ راقم سے کشتواڑ اور میری تعلیم اور دیگر مشغولیات کے بارے میں دریافت کرنے لگے اور ہلال صاحب سے بھی اسی طرح کے سوالات پر استفسار فرمایا۔
تعارف اور چند ضروری باتوں کے فوراً بعد اْن کے اور ہمارے مابین ایک سنجیدہ گفتگو شروع ہوئی۔ ہم نے سوالات پوچھے اور آپ جوابات دینے لگے۔جوابات نپے تْلے تھے۔
ہم نے پوچھا "تفسیر ِ قرآن (گوجری زبان میں)لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟"
آپ نے فرمایا "گوجر برادری اس نعمت سے محروم تھی۔ علاوہ ازیں قرآن کے ساتھ ابتداء سے ہی لگاؤ تھا۔ جب کچھ سمجھ بوجھ حاصل ہوئی تو سمجھا کہ اس نعمت کو انسانوں تک پہنچایا جانا ازحد ضروری ہے"۔
ہم نے پوچھا "قرآن کے متعلق کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ علماء کی کتاب ہے۔ عام لوگ بس تلاوت پر اکتفا کریں۔ گہرائی میں جائیں گے تو گمراہ ہوں گے۔ ایسا کیوں؟
آپ نے فرمایا"غلط کہتے بلکہ ظلم کرتے ہیں۔ قرآن آسان کتاب ہے۔ یہ ہدایت "من جانب اللہ" ہے۔ ہدایت کو آسان ہی ہونا چاہیے"۔
ہم نے پوچھا"جموں جیسے جدید شہر میں دین داری کا ماحول کیسے پیدا کیا جائے؟"
آپ نے فرمایا"دین کو واضح اور آسان الفاظ میں پیش کرکے۔ خدا کے اس دین میں کشش ہے۔ شرح و بسط کے ساتھ اسے پیش کیا جائے تو انسان کے لیے ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں"۔
ہم نے پوچھا"امت بکھری پڑی ہے،انتشار ہے۔ حل بیان فرمائیں؟"
آپ نے فرمایا"چبنے والا سوال پوچھا ہے۔ ہم مسلمانوں کا سب کچھ ایک ہے۔ اللہ، رسول ، کتاب۔ لیکن ہماری کج فہمیوں نے ہمیں تقسیم کر دیا ہے۔ دین کا کام کرنے والے سبھی افراد قابلِ قدر ہیں۔ ہمیں دین کی بنیادوں پر جمع ہونا ہے اور اسلام کی نعمت کو انسانوں تک پہنچانا ہے"۔
اس پورے سوال جواب سیشن کے دوران کئی دوسرے لوگ وہاں شامل ہو گئے تھے جو کہ ظاہر ہے مفتی صاحب کے ساتھ ملاقات کرنے کی غرض سے ہی وہاں تشریف لائے تھے۔ 
2018 ء کے زمانے میں راقم رسالہ "پیام طلبہ" کے ساتھ معاون مدیر ( Editor  Associate) کی حیثیت سے جڑا تھا۔ ملاقات ختم ہوئی تو ہم نے مفتی صاحب کو پیام طلبہ کا مکمل تعارف کرایا نیز آپ کو پیام کے کچھ خصوصی شمارے بھی دئے اور پڑھنے کی درخواست کی۔ آپ نے رسالے پر سرسری نگاہ ڈالنے کے بعد ہماری خوب حوصلہ افزائی کی اور خصوصی شمارے دینے پر شکریہ ادا کیا اور انھیں پڑھنے کا وعدہ بھی کر گئے۔
نشست تقریباً دو گھنٹہ جاری رہی۔ مہمان نوازی کا حق ادا کرتے ہوئے آپ نے ہمیں نوع بہ نوع پھل کھلائے۔ علاوہ ازیں نشست کے آخر پر چائے سے بھی ہماری تواضع کی۔ 
نشست ختم ہوئی تو نمازِ عصر آن پہنچی۔ ہم نے آپ کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز عصر باجماعت ادا کی۔ ادارے کے ایک طالب علم نے امامت کرائی۔ نماز ختم ہونے کے فوراً بعد ہم نے آپ سے رخصت لی اور براہِ راست گوجر نگر کی ہماری عارضی قیام گاہ پر پہنچے۔ یہ مفتی صاحب سے ہماری پہلی اور دوسری آخری ملاقات تھی۔ 
بات 2019 کے سرما کی ہے۔ راقم آبائی ضلع کشتواڑ میں ہی موجود تھا۔ ان ہی دنوں مرکزی جامع مسجد کشتواڑ کے سابقہ امام غلام نبی قاضی صاحب کا انتقال ہوا۔ متوفی نے عقیدتاً اور احتراماً وصیت کی تھی کہ "میرا جنازہ مفتی فیض الوحید صاحب پڑھائیں گے"۔ چنانچہ مفتی صاحب وصیت کی تکمیل کے لیے جموں سے کشتواڑ وارد ہوئے۔ کشتواڑ کے چوگان میں ایک بڑا جنازہ ہوا۔ مفتی صاحب نے جنازہ پڑھانے سے قبل فکر ِ آخرت کے موضوع پر ایک پر اثر خطاب فرمایا۔ 
جنازہ بعد ِ نماز عصر پڑھایا گیا تھا۔ ایک جم ِ غفیر تھا لوگوں کا۔جنازے سے فارغ ہو کر آپ برادر برہان میر کے دولت کدے پر تشریف فرما ہوئے۔ ہمیں معلوم ہوا تو برادر راشد گلکار اور راقم مفتی صاحب سے ملاقات کرنے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ 
ملاقات ہوئی تو راقم نے آپ کو جموں میں ہوئی ہماری سابقہ ملاقات یاد دلا دی۔ فوراً پہچان گئے۔ نہ صرف ہمیں پہچان گئے بلکہ یہ بھی کہا کہ "آپ کے دیے ہوئے وہ خصوصی شمارے ہم نے پڑھے تھے اور بہت اچھے لگے"
اس مختصر سی ملاقات کے فوراً بعد ہی آپ رات کا کھانا کھا کر اور نمازِ عشاء پڑھ کر جموں کے لیے روانہ ہوئے۔ یہ مفتی صاحب سے ہماری دوسری اور آخری ملاقات تھی۔ 
اب مفتی صاحب دنیا سے کوچ کر گئے ہیں۔ آپ کی خدمات اور لوگوں کی آپ سے عقیدت دیکھ کر رشک آتا ہے۔ ایسے بندے اللہ کے مقربین میں سے ہوتے ہیں اور یہ مرتبہ سب کو حاصل نہیں ہو پاتا۔ دل سے دعا نکلتی ہے کہ آپ کی خدمات قبول ہوں اورانسانی سماج کو آپ کا نعم البدل حاصل ہو!۔
حق مغفرت کرے، عجب آزاد مرد تھا