تازہ ترین

با مقصدمعاشرہ !۔کارہائے زندگی کو پائیدار سمجھ

معاشرت

تاریخ    27 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


اے مجید وانی
اُمتِ مسلمہ لوگوں کا کوئی ایسا گروہ نہیں، جسے زندگی کی ضرورتوں اور مفادات نے اکٹھا کردیا ہوبلکہ اس اُمت کا ایک خاص رنگ اور ممتاز طرزِ عمل ہے۔اسلام ایک قدیم نام ہے، جس کا خاص مفہوم ہے۔یہ حضرت ابراہیم ؑ کی زبان پر حاوی ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اسے قبول کرلیا تھا ۔حقیقت یہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم ؑ نے یہ نام ’’مسلمان‘‘تجویز کیا تھا تو کوئی نئی ایجاد نہیں فرمائی تھی بلکہ ایک قدیم حقیقت کا اِثبات کیا تھا۔یہ فطرت الٰہی تھی جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو فرمایا تھا اور جس کی طرف سے اس سے پہلے انبیاء دعوت دیتے رہے تھے ۔حضرت نوح ؑکے حق پر اَسرار اور ثابت قدمی پر حضرت ابراہیمؑ کی پسندیدگی ہی تھی ،جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی مطلوبہ اُمت کا نام مسلم رکھا تاکہ حضرت نوح ؑ ماضی میں جس بات پر زور دے چکے تھے ،مستقبل میں بھی اُسے دوام حاصل رہے ۔اس طرح یہ اُمت تمام انبیاء کی وارث اور ان سب کی تعلیمات کی نمائندہ ہے۔اَزل سے اَبد تک دنیا اور اس کے پیدا کرنے والے کے درمیان تعلق کی نوعیت نہیں بدل سکتی اور نہ کبھی اپنے عظیم پروردگار کے ساتھ لوگوں کی ربط کی نوعیت ہی بدل سکتی ہے۔اسلام اسی شعار اور اس سے متعلق اخلاص اور اطاعت کا نام ہے۔
یہ عنوان قدیم بھی ہے اور جدید بھی اور مسلمانوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ اولین حقائق کو دوسروں تک پہنچائیں اور ان حقائق کی تحریف اور بگاڑ سے بچیں۔نبیوںؑ نے جو لباس اس انسانیت کو پہنایا تھا ،وہ زمانے گذرنے کے باوجود نہیں بدلا ،ہاں! کبھی کبھی وہ گندا ہوجاتا ہے یا کمزور ہونے کی وجہ سے پھٹ جاتا ہے ۔وقت اصولوں کو دائیں بائیں مُڑنے کی کوشش کرتا رہا ہے،۔حضرت محمد ؐ سے پہلے بہت سے نبی آئے جو حق کو روشن رکھنے کی جدوجہد کرتے رہے کہ حق جعل سازیوں کا شکار نہ ہوجائے۔کچھ لوگ شرک کو ایمان اور بُرائی کو بھلائی نہ بنانے لگیں ،دوسرے کچھ لوگ اپنے آپ پر ظلم نہ کرنے لگیں اور خوشگوار زندی کے حق سے محروم کرکے اپنے جسم و روح کو مبتلائے عذاب کرکے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش نہ کرنے لگیں ۔ایسی حالتوںمیں وہ کس طرح ایسے شخص کے ضرورت مند نہ ہونگے جو انہیں نیک کام کا حکم کرے۔بُرے کام سے روکے ،حلال اور حرام سمجھائے ،ایسا شخص جو راستے کے اُن نشانوں کو اُجاگر کرے، جنہیں بھول اور سرکشی کے ہوائوںنے دُھندلا کردیا ہو یا بالکل مِٹا دیا ہو۔مسلمانوں کو کبھی اس بات پر افسوس نہیں ہوا اور نہ ہی ہوسکتا ہے کہ یہودیوں نے حضرت موسیٰؑ کی پیروی کی یا عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کی فرمانبرداری کی ۔اس طرح کا احساس بھی مسلمانوں کے لئے خدا اور اُس کے رسول ؐ سے غداری کے مترادف ہے۔افسوس تو انہیں اس بات پر ہوتا ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوںنے اُس پیغام الٰہی سے کنارہ کشی کرلی جو موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ لے کر آئے تھے اور خود اپنی اور دنیا کی اصلاح کرنے سے انکار کردیا ۔اس کنارہ کشی کے بعد یہ بات فطری تھی کہ اللہ تعالیٰ زمین کو ایسے لوگوںکی ذمہ داری میں چھوڑکر غرور و تکبُر کے حوالے نہ کردے، جنہوں نے ہدایات کو ماننے سے ہی انکار کردیا ہو،اسی لئے اسلام کی ضرورت پیش آئی اور اسی لئے اُمت ِ مسلمہ کا وجودہوا، جو دن رات کی گردش کے ساتھ باقی رہے گا ،جو خصوصیت اس اُمت کا امتیاز ہے اور جس کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں عزت کے مستحق ہوسکتی ہے وہ دینی حقائق کی اشاعت ،اللہ تعالیٰ کے حدود کی حفاظت ،بھلائی کی حیثیت سے اور بُرائی کو بُرائی کی حیثیت سے برقرار رکھنا ہے ،یہ خصوصیت اُمت کے لوگوں کے درمیان ویسا ہی امتیاز عطا کرتی ہے جیسا امتیازی مرتبہ اُن کے مقابلے میں اُن کے رسول کو حاصل ہے ۔جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کو پوری طرح واضح فرمایا اور آخر میںیہ کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ تُو گواہ رہنا کہ میںنے پیغام پہنچا دیا ہے ،اسی طرح اُمت پر بھی حق کی وضاحت ،اِسی سے نسبت اور اسی کے لئے اور اسی پر جینے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے یعنی اُمت ِاسلامیہ کا ایک پیغام ہے ۔دین کی ایمان سے عہد ہ بر آںہوجانا اور اس کے عقائد و عبادات اور اخلاق و معاملات کو لوگوں تک پہنچانا۔
بہت سے ممالک رسولوں کے پیغامات سے دور ہیں ،کچھ اللہ تعالیٰ کے کھلم کھلا دشمن ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیںجو بظاہر نسبت رکھتے ہیں لیکن بہ باطن دشمنی۔لیکن اُمتِ اسلامیہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ظاہر و باطن دونوں صورتوں میں اللہ تعالیٰ کی نسبت کو اپنے لئے عزت کا ذریعہ بنائیں اور قوانین ِ الٰہی زندہ کرنے کے لئے کوشاں رہے۔یہودیوں کو توریت دی گئی کہ وہ اس پر عمل کریں اور اس میں نازل کئے گئے حق کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلے کریں ۔اسی طرح عیسائیوں کو انجیل دی گئی کہ وہ خود بھی اس پر عمل کریں اور دوسروں کو بھی اس پر اکٹھا کریںلیکن یہ روشنی والے چراغ بہت جلداُن کے ہاتھوں میں بُجھ گئے ۔حضرت موسیٰ ؑ اور حضرتِ عیسیٰ ؑکے ساتھیوں نے نہ تو اپنے عہد کے ساتھ وفاداری نبھائی اورنہ ہی بہت دنوں تک اپنے پیغام کی ذمہ داری اُٹھائی ۔اُمتیں اپنے پیغام سے ہاتھ دھولیتی ہیں جب ہدایت پر نفسانی خواہشات کو غالب ہوجانے دیتی ہیں اور باطل کو اس کا موقعہ فراہم کردیتی ہیں کہ وہ حق کو شکست دیدے۔اُن کی آسمانی کتابیں اُن کے پاس تو رہتی ہیں لیکن بالکل معطل ہوکر ،طاق کی زینت بن کر ،جس طرح اقوام متحدہ کے منشور کو بڑی محنت اور نہایت سمجھ بوجھ کے ساتھ تیار کیا گیا تھا لیکن عملی طور پر بار بار اُس کی خلاف ورزی ہوتی رہتی ہے۔کبھی ایسا ہوتا ہے کہ باطل تحریف و تنسیخ اور اضافہ کے راستوں سے خود ان کتابوں کی اصل عبارتوںمیں داخل ہوکر ایک قابو سے باہر حالت پیدا کردیتا ہے گویا وہ شمعیں ہی گُل کردی گئی ہوں اور اندھرا بالکل مسلط ہوگیا ہو،تب دنیا کے سامنے صرف پریشان اور پرگندہ خیالی کے کوئی اور راستہ باقی نہیں رہ جاتا۔
حقیقت یہی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کا دین کب کا ضائع کیا جاچکا ہے ،اب اس کی جگہ جو کچھ ہے وہ کوئی اور ہی چیز ہے ۔یہی صورت حال حضرت عیسیٰ ؑ کے دین کے ساتھ بھی ہے ۔آج مسیحی دین کے نام پر جو کچھ بچا کھُچا پایا جاتا ہے اُس کا وحی سے کوئی تعلق نہیں ہے ،نہ اُس سے انسانوں کی خوش بختی ممکن ہے ۔تب دنیا کو ایک رسالت کی ضرورت ہوئی جس کے علمبردار از سر نَو لوگوں کی ہدایت کا فریضہ سنبھالیں،اللہ کے نام پر اُن کی رہنمائی کریں جسے پایہ ٔ تکمیل تک پہنچانے سے اگلے لوگوں نے انکار کردیا ۔اُمت اسلامی اسی ضرورت کی تکمیل ہے،وہ جس حق کی علمبردار ہے اُسے قیامت تک کے لئے محفوظ کردیا گیا ہے ۔جب تک زمین پر زندگی باقی ہے ،ایمان کے حقائق اور حکمتِ عالیہ کے مقررہ طریقوں میں کوئی تبدیلی اور خلل پیدا نہیں ہوسکتا ۔اگر کچھ لوگ اس ذمہ داری کو نبھانے سے انکار بھی کرتے ہیں تب بھی اہلِ قرآن ایسی غلطی نہیں کرسکتے اور نہ اس طرح کی کوئی غلطی برداشت کرسکتے ہیں ۔اُمتِ مسلمہ محض اللہ تعالیٰ سے نسبت کی زبانی دعویدار نہیں ،یہ اُمت صرف اللہ کے سامنے جھکتی ہے اور بس۔یہ اُمت خوشحالی اور تنگدستی میں اللہ کے سوا کسی اور کی طرف رجوع نہیں کرتی،یہ اُمت حُکمِ الٰہی کی پیروکار ہے اور اسی کے مطابق زندگی گذارتی ہے،یہ اُمت اپنے باطن کو تقویٰ سے ،اپنے سلوک و معاملہ کو عدل و انصاف سے اور اپنے مقاصد کو آخرت کے حقائق سے ہم آہنگ و مزین کرتی ہے۔اسی اُمت کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرے ۔بہت سی قوموں نے اللہ تعالیٰ سے نسبت کا دعویٰ کیا لیکن دنیا پرستی سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی اور نہ طلب ِ آخرت کی کوشاں ہوئیں ،نہ اس کے لئے تواضع ،بھلائی اور اصلاح کا راستہ اپنایا ۔گویا اس نسبت کو مُسترد کردیا گیا ،پھر جس سزا کے وہ مستحق تھے وہ اُن پر نازل ہوئی۔اُمت ِ اسلامیہ الٰہی ہدایت سے کبھی کنارہ کشی اختیا ر نہیں کرسکتی ،اسلئے رسالت کے ساتھ اس کی نسبت کی عزت برقرار رہے گی اور جب تک وہ اللہ کے لئے مخلص رہے گی ،اُس کی حمدو ثنا کرتی رہے گی اور اپنے اعمال سے اُس کی خوشنودی کے حصول کے لئے کوشاں رہے گی ،وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ سے نہیں گرے گی ۔اس اُمت کی کتاب کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کردیا گیا ہے اور اس میں کوئی تحریف نہیں ہوسکتی۔
خرافات و ادہام پھیل سکتے ہیں،گناہ اور ظلم کا صدور ہوسکتا ہے اور یہ زندگی میں کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں لیکن اہلِ ایمان اُن کی مزاحمت کرکے تلافی کرتے رہتے ہیں،جس سے یا تو اُن کا بالکل خاتمہ ہوتا ہے یا کم از کم اُن کی بُرائی محدود ہوجاتی ہے۔حق پر قائم رہنا صرف بلیغ تقریروں اور بہترین کتابوں ہی میں نہیں ہوتا ہے،اس کا اظہار حالات اور اعمال میں اور ہدایت ِ الٰہی کے مطابق معاشرے کی تشکیل اور اُس کے خاص و عام معاملات میں ہوتا ہے۔اسلام کسی ایسی اُمت کا عنوان نہیں ہوسکتا جو پستی کا شکار یا سرکش ہو ،جو زندگی میں اپنی مرضی کے مطابق جو چاہے طرز عمل یا غلط رُخ اختیار کرے۔اسلام تو دل کی گہرائیوں اور معاشرے کے گوشے گوشے میں نمایاں اُن حقائق کا نام ہے جو شب و روز اللہ تعالیٰ کی یاد دلاتے ہیں ،اُس کی فرمانبرداری پر زور دیتے ہیں ،اُس سے ڈرنے پر آمادہ کرتے ہیں اور اُسی کے لئے اخلاص پر اُبھارتے ہیں۔
رابطہ۔احمد نگر ،سرینگرکشمیر
فون نمبر۔9697334305