غزلیات

تاریخ    23 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


تُمہی نے عہد کیا اور کر کے توڑ دیا
یہ کیا کہ چند ہی قدموں پہ ساتھ چھوڑ دیا
وہ جس کو چھوڑ کے لہروں میں تُم چلے آئے
سُنا ہے اُس نے سمندر کے رُخ کو موڑ دیا
مزہ تو تب تھا کہ کوہکن تڑپ کے مر جاتا
یہ رسمِ عشق نہیں ہے کہ سر کو پھوڑ دیا
ہمارے پاس تو اب کُچھ نہیں بہانے کو
تُمہارے ہِجر میں آنکھوں کو بھی نچوڑ دیا
بھلے دنوں کا بھروسہ نہیں رہا مجھ کو
سو میں نے رشتئہ اُلفت غموں سے جوڑ دیا
کرے وہ مُجھ پہ عنایت کہ پھر ستم جاویدؔ
ہر ایک فیصلہ میں نے اُسی پہ چھوڑ دیا
 
سردارجاویدخان
 مینڈھر، پونچھ
موبائل نمبر؛9419175198
 
 
 
میرے جینے کا سبب ہے بس یہی
دوستوں کی دوستی ہے دوستو
چَھٹ گئے بادل اندھیری رات کے
ہر طرف اب روشنی ہے دوستو
کیوں حریمِ ذات کی پروا کروں
ساتھ میرے بے بسی ہے دوستو
میں چراغِ کُشتہ لے کر کیا کروں
چارسو میں تیرگی ہے دوستو
اُٹھ گیا دیر و حرم سے ساقیا
اب نہیں وارفتگی ہے دوستو
لکھ دیا ہے شامتِ اعمال میں
سر بسجدہ بندگی ہے دوستو
پھر چلی بادِ سحر یاورؔ کہ جب
امن سے اب آشتی ہے دوستو
 
یاور حبیب ؔ
بڈکوٹ ہندوارہ
موبائل نمبر؛6005929160
 
 
رات کا اشارہ ہے
دن کہاں گزارا ہے
 
جو نہیں ہے خود کا بھی
بس وہی ہمارا ہے
 
بوجھ تھا کئی دن کا
جو ابھی اُتارا ہے
 
باقی سب بھُلا بیٹھے
بس ترا سہارا ہے
 
کر مرا یقیں  اِندرؔ
عشق میں خسارہ ہے
 
 اِندرؔ سرازی
پریم نگر، ضلع ڈوڈہ
موبائل نمبر؛7006658731
 
 
وقت تیزی سے گزرتا ہے گزر جانے دے
ہاں مگر یاد ہی یادوں میں ٹھہر جانے دے
 
تیرے غم میں تو بکھر جانے سے بہتر یہ ہے 
مجھ کو تقدیر کے ہاتھوں ہی بکھر جانے دے
 
میرے بارے میں تو سوچا نہ کبھی بھی تم نے
اب جدھر سے بھی بٹک جاؤں اُدھر جانے دے
 
میں نے کیا کیا نہیں کھویا ہے تیری چاہت میں 
 من میں آتا ہے تجھے بولوں مگر جانے دے
 
تم نئے دن کے اُجالے کی حسیں رونق ہو
میں اندھیرا ہوں سرا سر  مجھے مر جانے دے
 
میں تجھے بھول نہ پایا ہوں کبھی بھی لیکن 
میں تجھے بھولوں گا! دل سے تو اُتر جانے دے
 
تھک گیا ہوں میں عقیل اُس کے بنا جی کر بھی 
آج مجھ کو میرے وعدے سے مکر جانے دے
 
عقیل فاروق
 بنہ بازار شوپیان،موبائل نمبر؛7006542670
 
 
دیکھتے کیا ہو تم ان آنکھوں میں
زخم تو چھپے ہوے ہیں سینوں میں
چارسُو یاں اندھرا پھیلاہے
روشنی بھی نہیں ہے کچھ ستاروں میں
میری پہچاں کو کچھ اماں ملے اب تو 
کوئی تصفیہ توہو اشاروں میں
پھر گرا ہے لہو کہیں دیکھو
پھیلی خوشبوہے جو ہواؤں میں
ظلم کی بادشاہت سدا نہیں رہتی
ہم یہ پڑھتے تھے داستانوں میں
کیسے منزل تلاش کرلوگے
ہر سُو کا نٹے بچھے ہے راہوں میں
راز پوشیدہ دل کے اندر ہے 
ڈھونڈتے کیا ہو ان کتابوں میں
مرض عشق کا جب تجھے لگے راشدؔ
ہوگا تیرا شمار پھر دوانوں میں
 
راشدؔ اشرف 
کر الہ پورہ سرینگر 
موبائل نمبر؛9622667105
 
اُجڑی بستی اُجڑے لوگ
گئے کہاں وہ بچھڑے لوگ
 
دوستی میں ہی زندگی ہے
کیوں کرتے ہیں جھگڑے لوگ
 
ہے غفلت کی یہ وبا کیسی 
بیچ کے سوئے ہیں گھوڑے لوگ
 
آپس میں ہی لڑنا کیوں 
کن مسئلوں میں ہیں الجھے لوگ
 
عبادت کیلئے جب اعلان ہوا
گھروں میں دبک کر بیٹھے لوگ
 
افواہ اُڑی جو معاونت کی
سرپٹ‌دوڑے سارے لوگ
 
شمع جلائوں چوراہے پر
پھونک کے بجھا تے ہیں بگڑے لوگ
 
محمد یوسف شاہین
آزادی بستی غوثیہ سیکٹر نٹی پورہ
موبائل نمبر؛9140484453

تازہ ترین