تازہ ترین

خوشی ہو کیوں کر عید کی! | ہنگامہ خیز دور میں وبا ء متاثرین کو نہ بھولیں

تاریخ    13 مئی 2021 (20 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
 خوشی کا کوئی بھی موقع انسانی روح کو سیراب کرتا ہے۔ اگر خوشی اجتماعی ہو تو یہ اُس ایک ایسے دریا کی مانند ہے جو باغ کے بیچوں بیچ سے بہتا ہے اور ہم اس مسحور کن ماحول میں کہیں کھو جاتے ہیں۔ عید خوشی ، مسرت اور اطمینان کا ایک ایسا ہی موقع ہے۔ لیکن گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی عید تو آئی ہے لیکن خوشی کے آسمان پر غم کے کالے بادلوںکا ڈھیرہ ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ اس وباء نے ہماری زندگی اور اس زندگی کے حسین و جمیل لمحات و مواقع کے ساتھ کیاکیا ہے۔
مایوسی کے اس ماحول میں جشن منانے کاایک دن ہمیں راحت و فروانی فراہم کرسکتا تھااور ہمارے ملول و مضطرب دلوں کو ٹھنڈک پہنچاکر ہمارے ارد گرد چہار سو جو مایوسی کے گھنے بادل چھائے ہوئے ہیں،اُنہیں چھٹا سکتا تھا،لیکن ایسا نہیں ہوگاکیونکہ ہم یہ دن ویسے نہیں مناسکتے ہیں جیسے ہم پہلے منایا کرتے تھے۔ہم اس عید پر اُس طرح جمع نہیں ہوسکتے ہیں ،جس طرح ہم پہلے جمع ہوا کرتے تھے۔ہمارے بچے محلے کے بچوں کے ساتھ اُس طرح کھیل نہیں پائیں گے جس طرح وہ کھیلا کرتے تھے۔آج اس عید پر ہمارے فیملی ملن بھی نہیں ہونگے جس طرح ماضی میں عیدوںپر ہوا کرتے تھے ۔سب کچھ ایک طرف چھوڑ دیں،ہم اس عید پر اجتماعی نماز بھی ادا نہیں کرسکتے ہیں جو اس تہوار کی پہچان ہے۔
 یہ عید ان تمام چیزوںسے خالی ہے جو اسے ایک تہوار بنا دیتے تھے تاہم اس کے باوجود یہ ایک اہم موقعہ ،لمحہ یا تہوار ہے۔ہم پورا ایک مہینہ روزدار رہے اور اللہ کی قربت حاصل کرنے کی بے انتہا کوششیں کیں۔اب یہ وقت ہے کہ ہم اللہ کا شکر بجا لائیں اُن تمام رحمتوں اور برکتوں کیلئے جو رمضان کا مہینہ ہمارے لئے لیکر آتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اڑوس پڑوس کے لوگوں سے زیادہ معنی خیز طریقوں سے رابطے استوار کئے جائیں اور اس موقع پر لوگوں سے رابطہ مستحکم کرنے کااس سے بہتر اور افضل طریقہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ ہم اس موقع پر اپنی دولت اوراپنے وسائل کو اپنے مستحق پڑوسیوں میں بانٹ دیں۔
 اس وبائی بیماری نے لوگوں سے اُن کا روزگار چھین لیا ہے ،اس ناگہانی قہر نے لوگوں کے لئے دو وقت کی روٹی کے سادھن ختم کر دئے ہیں۔کل تک جو ہاتھ دوسروں کو دینے کیلئے اٹھا کرتے تھے ،آج وہ ہاتھ لینے والوں میں شامل ہوگئے ہیں ۔کل تک جہاں امیری کی چکا چوند ہوا کرتی تھی ،آج وہاں غریبی نے ڈھیرہ ڈالا ہوا ہے۔اس سے زیادہ المناک کیا ہوسکتا ہے۔ جو کل تک صحتمند تھے وہ اس وائرس کی وجہ سے آج شدید بیمار ہوچکے ہیں اور خاندانوں کے خاندان اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔
 ان حالات میں عید منانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کیلئے راحت کا ذریعہ بنیں۔ اور ہاں یہ موقع ہے کہ رب کائنات کے سامنے ہمیں ان بحرانوں سے نجات دلانے کے لئے گڑ گڑا کر دعائیں کریں۔ خدا ہمیں اس وبائی مرض سے پیداشدہ تکلیف سے نجات دے اور خالق کائنات عمومی زندگی کی خوشیوں کو پھر سے بحال کردے ۔آمین
گوکہ اس عید پر ہر سو ماتمی فضاء ہے اور ہر آنکھ نمناک ہے لیکن اس کے بعد چونکہ یہ اللہ ذوالجلال کی جانب سے عطا تہوار ہے تو اس تہوار کی مناسبت سے روزنامہ کشمیر عظمیٰ اپنے تمام قارئین کرام کو عید کی مبارک باد پیش کرتا ہے تاہم اس مبارک بادی کے ساتھ ایک گزارش بھی ہے۔خدا کیلئے گھروں میں رہیں اور محفوظ رہیں۔عید کے دن پڑوسیوں اور رستہ داروں کے ہاں ماضی کی طرح جاکر اپنی اور دوسروں کی زندگی خطرے میں نہ ڈالیں۔برائے مہربانی خود اپنی نقل و حمل محدود کریں۔دوسروں کے کہنے کا انتظار کئے بغیرخود اپنے آپ پر بندشیں عائد کریں۔عید انتہائی سادگی کے ساتھ صرف اور صرف اپنے کنبہ کے ساتھ اپنے گھر میں منائیں کیونکہ انسانی جان بے مول ہے اور اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔