تازہ ترین

کرونا وائرس

افسانہ

تاریخ    9 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


وردہ فاطمہ
دوپہر کاوقت تھا-سورج کی شعاعوں پر دھندلے بادل حاوی ہو رہے تھے۔ روشن کرنیں دھندلے بادلوں میں رفتہ رفتہ گم ہو گئیں۔ ہرسوٗ دہشت کا عالم تھا۔ سڑکیں خالی اور بازار ویران نظر آرہے تھے۔ لوگ گھروں کے اندر محصور تھے۔ چاروں اور مصائب و پریشانی کا عالم تھا۔ ہر طرف سناٹا چھا یا تھا۔ انسان اپنے ہم نسل انسان سے دور بھاگ رہا تھا۔ ہر طرف خوف و ڈر کا ماحول تھا۔ ہوائوں میں اُڑان بھرنے والا اور اعلی تکنیکی وتجرباتی کارنامے انجام دینے والا بشر آج بے یارومددگار پڑا تھا۔ دنیا کی تمام تر طاقتیں قدرت کے سامنے آج عاجز و کمزور پڑی تھیں کیونکہ قدرت کے پیدا کردہ ایک نہایت ہی چھوٹے وائرس نے پورے عالم کی ناک میں دم کر رکھا تھا۔ یہ وائرس دنیا کی تمام تر طاقتوں پر حاوی ہو کر قدرت کی قوت و بادشاہی اور بشر کی بے بسی عیاں  کر رہا تھا۔ "کرونا وائرس" کے نام سے یہ وائرس دہشت نما بیان ہو رہا تھا اور اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ 
اسی خوف و دہشت کے عالم میں، جب کہ ہر روز ہزاروں کی تعداد  میں لوگوں کے اس وبا میں مبتلا ہونے کی خبریں آ رہی تھی، آج محلّے میں امجد صاحب کا کووِڑ ٹیسٹ مثبت آ گیا۔ گذشتہ سال سے اسی حالت میں زندگی بسر کرتے، اب یہ کوئی نئی خبر نہ تھی۔ یہ خبر اگرچہ عام ہوگئی تھی لیکن اس خبر اور کووِڑ نام سے جڑا ڈر کم نہیں ہوا تھا۔ امجد صاحب کے کووِڑ مثبت (پوزیٹیو)ہونے کی خبر رفتہ رفتہ پورے محلّے کے ساتھ ساتھ پورے گاؤں میں پھیل گئی ، جس سے محلّے میں مزید دہشت بڑھ گئی۔ لوگ ہراساں ہو گئے۔مائیں اپنے بچّوں کو گھر کے اندر رہنے کی تلقین کررہی تھیں۔ محلّے والے امجد صاحب کے گھر کی اور جانے سے گریز کر رہے تھے جو کہ ایک لازمی احتیاط بھی تھا۔ اب محلّے کے وہ لوگ بھی ماسک پہننے لگےجو کہ اب تک توکّل کے نام پہ قاتل بن رہے تھے۔ انہیں بھی اب معلوم ہوا کہ یہ وبا صحیح معنوں میں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ اب لوگ فضول باہر آنے سے بھی گریز کرنے لگے۔ وہاں امجد صاحب اور ان کے افرادِخانہ اپنے ہی گھر کے اندر قرنطینہ میں تھے۔ کورونا وائرس کی اس وبا سے پیدا ہونے والا درد اور اس سے جڑے مصائب وہ ہی جانتے تھے۔ وہ دوائیاں، نسخے آزماتے اور صاف صفائی کا بھر پور خیال رکھتے۔ ساتھ ہی ساتھ بارگاہِ الہٰی میں بھی سر بہ سجود اور دعا گوٗہوتے۔ احسان صاحب، جو کہ محلّے کے نہایت ہی نیک و خوش اخلاق فرد تھے، نے امجد صاحب کی فون پر خبر پرسی کی اور ان کے جلد از جلد صحتیاب ہونے کی دعا بھی کی۔ اگلے روز نماز سے فارغ ہو کر کچھ لوگوں نے باہر مسجد کے احاطے میں امجد صاحب کے وبا کا شکار ہونے کی خبر چھیڑی، جس پر اسلم صاحب کہنے لگے، "یہ تو ﷲ کا قہر ہے۔ جب لوگوں نے ﷲتعالیٰ کو یاد کرنا چھوڑ دیا اور دنیا کی رنگ رلیوں میں مشغول ہوگئے ، تو اﷲ بھی ایسے لوگوں پر اپنا قہر اسی طریقے سے نازل فرماتا ہے"۔ اس کے لہجے سے ایسا لگ رہا تھا کہ گویا امجد صاحب ہی تمام دنیا میں پھیلی اس جان لیوا وبا کا ذمہ دارتھا۔ اس کی نظر میں امجد صاحب جیسے سب سے بڑا گنہگار تھا۔ وہاں موجود لوگوں میں سے تو کچھ نے اسلم صاحب کی ہاں میں ہاں ملائی اور کچھ ذی شعور شخص وہاں سے چلے گئے۔ احسان صاحب بھی وہاں سے چلے گئے۔ کچھ مزید گفتگو اور امجد صاحب کے اعمال کا تجزیہ کرنے کے بعد اسلم صاحب بھی گھر کی اور بڑھ گیا۔ گھر میں آمد پزیر ہونے کے بعد گھر والوں نے بھی اس سے امجد صاحب کی حالت کی خبر پوچھی، جس پر اس کا جواب کچھ ایسا ہی تھا کہ، "کون جانے! یہ سب تو اپنے کئے کا نتیجہ ہے۔ اﷲ ایک بندے کے ساتھ اس کے اعمال کے مطابق ہی معاملہ فرماتا ہے۔" یہ سن کر اس کی اہلیہ نے اُسے کہا کہ، ہمیں تو ایسا نہیں بولنا چاہیے۔ ہم کیا جانیں کس کے اعمال کیسے ہیں؟ "۔ یہ وائرس تو بڑھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ کیا معلوم کون کب اس وبا کا شکار ہو جائے۔ اﷲ سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے اور اس وبا کا جلد از جلد خاتمہ ہو۔ اس جواب سےاس  نے اس بات کی توثیق کی کہ ہمیشہ عورت ہی غلط نہیں ہوتی اور معاشرے میں پھیلے اس قول کو کہ ہمیشہ عورت ہی فتنہ برپا کرنے والی ہوتی ہے کو رد کر دیا۔ لیکن اسلم صاحب کا کیا، اس نے تو ٹھان لی تھی کہ یہ امجد صاحب کے کرموں کی سزا ہے۔ امجد صاحب اپنے گھر کے اندر ہی رہ کر دربارِ الٰہی میں دعا گوٗ ہونے کے ساتھ احتیاطی تدابیر پر بھی عمل پیراتھا۔ اس نے ہمّت نہیں ہاری اور پندرہ دنوں کے بعد اس کا ٹیسٹ منفی(نگیٹیو) آ گیا۔ وہ اب بھی گھر کے اندر ہی رہتا۔ زیادہ لوگوں سے نہیں ملتا جلتا اور ماسک کا استعمال بے حد پابندی سے کرتا۔ 
کورونا وائرس کا پھیلاؤ دن بہ دن بے حد تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ یہ امیر، غریب، چھوٹا، بڑا، گورا،سیاح کسی کو بھی زیرِ نظر نہیں رکھتا۔ اب تو ماس ٹیسٹنگ اور ویکسینیشن بھی شروع ہوئی تھی۔ محلّے کے تمام لوگوں کی جانچ کے لئے ٹیسٹ سیمپل لئے گئے۔ اگلے روز رپورٹ آنی تھی۔ اگلے روز جب رپورٹ آگئی تو اسلم صاحب کی رپورٹ مثبت آ گئی۔ اسلم صاحب کو جب یہ معلوم ہوا کہ وہ کووِڈ پوزیٹیو ہیں تو وہ ششدرہ رہ گئے۔ اُن کے چہرے سے پسینہ ٹپکنے لگا۔ وہ ڈرے سہمے گھر کے اندر محصور رہ گئے۔ انہیں اپنی جگہ سے ہلنے کی بھی ہمت نہ ہوئی۔ اس ڈر اور ہمت ہارنے سے کووِڑ ان پر زیادہ مسّلط ہوا۔ ان کی حالت کچھ زیادہ خراب ہوئی۔ وہاں آج مسجد کے احاطے میں اسلم صاحب کے کووڑ مثبت ہونے کی خبر تھی۔ احسان صاحب مسجد سے سیدھا گھر آئے اور گھر پہنچ کر اسلم صاحب کی خبر پرسی کے لئے انہیں فون کیا۔ اسلم صاحب نے کھانستے ہوئے اپنا حال پیش کیا اور ضعف نما آواز میں کہنے لگے:جی احسان صاحب! کیا کریں یہ تو اﷲ کا منشا ہے۔ا ﷲتعالیٰ اپنے بندوں کو کئی طریقوں سے آزماتا ہے اور یہ تکلیف تو انسان کے لئے گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بنتی ہے۔کوئی وباء میں فوت ہو تو اسے شہید کا درجہ حاصل ہوتا ہے اور تو یہ وباء پورے عالم میں پھیلی ہے، کیا کر سکتے ہیں! یہ سن کر احسان صاحب بولے: جی اسلم صاحب بالکل! ایسے شخص کے اعمال ﷲ کی بارگاہ میں بلند مرتبہ پاتے ہیں اور اپنے اعمال کی وجہ سے اس شخص کو ابدی زندگی میں اعلی مقام حاصل ہوتا ہے۔ احسان صاحب لفظ "اعمال" کو پُر زور انداز میں کہتے، جس سے اسلم صاحب کو اس کی بات کا اشارہ مل گیا۔ انہیں امجد صاحب کے کووِڑ لاحق ہونے پر ان کے اعمال کی سزا کی بات یاد آ گئی۔ وہ امجد صاحب کے کووِڑ مثبت ہونے کی وجہ ان کے اعمال کی سزا اور اپنے کووِڑ مثبت ہونے کو آزمائش وذریعۂ مغفرت کہہ کر اب شرمسار ہوگئے۔ وہ کچھ اور نہ کہہ سکے کہ احسان صاحب بولنے لگے، "اسلم صاحب! یہ بات تو بالکل صحیح ہے کہ یہ وباء جو رونما ہوئی انگنت گناہوں کا ہی نتیجہ ہے۔ لیکن وہ گناہ کسی ایک شخص کے گناہ نہیں بلکہ ہم سب لوگوں کے گناہ ہیں۔ ہم تو سب لوگ گناہوں سے گھرے ہوئے ہیں۔ ہماری نہ تو یہ اوقات ہے اور نہ ہی ہمارا کام کہ ہم کسی کے اعمال کے قاضی بن جائیں۔ کون نیک انسان ہےاور کون گنہگار یہ کووِڑ ٹیسٹ کے منفی یا مثبت ہونے سے پتا نہیں چلتا۔ یہ تو وبا ہے اور ہم سب کے گناہوں کی سزا۔" یہ سن کر اسلم صاحب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، جس کا اظہار اس نے احسان صاحب سے کیا ۔ احسان صاحب  ان کے اس احساس پر خوشی کا اظہار کیا اور یہ کہہ کر کال منقطع کی کہ اﷲ آپ کو جلد از جلد صحت یاب کرے اور ہمارے گناہوں کی بخشش کرے۔ کچھ روز بعد اسلم صاحب کا ٹیسٹ بھی منفی آگیا۔ اب وہ کسی شخص کے کووِڑ مثبت ہونے کی خبر سن کر اس کے اعمال پر مباحثہ نہیں کرتے بلکہ اس کی صحت یابی اور اس وباء کے خاتمے کی دعا کرتے! 
اﷲ ہمارے گناہوں کی بھی بخشش فرمائے اور تمام عالم انسانیت کو کورونا وائرس کی اس مہلک وباء سے آزاد کرے، آمین! 
 
���
طالبہ :سکواسٹ کشمیر
wardahfatima716@gmail.com
Visit blogsite for other write-ups: vardahfatima.blogspot.com
 

تازہ ترین