تازہ ترین

مزید خبرں

تاریخ    7 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


یو ٹی انتظامیہ صورتحال سے سے نمٹنے میں ناکام، جموں میں آکسیجن کا بحران: بی جے پی

جموں//بھارتیہ جنتا پارٹی جموں و کشمیر یونٹ نے یونین ٹریٹری انتظامیہ پر کووڈ 19 کی صورتحال سے پیدا شدہ بحران سے نمٹنے میں ناکام ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں کے ہسپتالوں میں نصب آکسیجن پلانٹوں میں خرابی ہے اور مریضوں کو ہسپتالوں میں داخلہ پانے کے لئے دھکے کھانے پڑتے ہیں۔بی جے پی جموں و کشمیر یونٹ کے نائب صدر یدھویر سیٹھی نے جمعرات کو یہاں ترکوٹہ نگر میں واقع بی جے پی دفتر پر نامہ نگاروں کو بتایا: 'ہمیں بڑے دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہسپتالوں میں جو آکسیجن پلانٹ نصب کئے گئے ہیں ان کا تھوڑی دیر بعد ہی فلو کم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے مریضوں کی موت واقع ہو رہی ہے ۔ گاندھی نگر ہسپتال میں گذشتہ رات کو بھی آکسیجن نہیں مل رہی تھی جس کی وجہ سے وہاں مریضوں کو بھرتی نہیں کیا جا رہا تھا'۔انہوں نے کہا: 'نجی سیکٹر کی بات کریں تو نارائنا ہسپتال پچھلے سات دن سے ایک بھی مریض کو بھرتی نہیں کر رہا ہے ۔ باترا ہسپتال 110 بستروں والا ہے لیکن وہاں صرف چالیس مریضوں کو ہی بھرتی کیا جا رہا ہے '۔یدھویر سیٹھی نے آکسیجن پلانٹوں میں خرابی کو 'ایک بہت بڑا جرم' قرار دیتے ہوئے کہا: 'یہ بہت بڑا کرائم ہے ۔ میکینکل انجینئرنگ محکمے سے پوچھا جانا چاہیے کہ آپ پچھلے ایک سال سے کیا کر رہے تھے ۔ اگر آج کوئی کرئمنل ہیں تو آپ لوگ ہیں۔ آج جو لوگوں کو سزا مل رہی ہے وہ آپ کی وجہ سے مل رہی ہے '۔انہوں نے کہا: 'کووڈ کے مریضوں کو پہلے سی ڈی ہسپتال جانا ہوتا ہے لیکن پچھلے کئی دنوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہاں پر آکسیجن کا انتظام ہی نہیں ہے ۔ لوگوں کو ہسپتالوں میں بھرتی ہونے کے لئے دھکے کھانے پڑتے ہیں'۔بی جے پی نائب صدر نے کہا کہ صوبہ جموں میں پلازما عطیہ کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا: 'لیفٹیننٹ گورنر اور ان کی ایڈمنسٹریشن سے جڑے لوگوں کو کم از کم فون اٹھانا چاہیے ۔ لوگ اپنی فریاد لے کر کس کے پاس جائیں گے ؟'۔
 
 

کووڈ وباء متاثرین کے لئے خصوصی پیکیج کا مطالبہ 

 جموں//اپنی ٹریڈ یونین ریاستی صدر جموں وکشمیر اعجاز کاظمی نے جمعرات کے روز لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کی ہے کہ سماج کے کمزور طبقہ جات ، ہاؤس بوٹ، شکارہ، ٹیکسی وکیب، آٹو رکشا کاروبار سے جڑے لوگ اور رھیڑی فروشوں کو ای ایم آئی قسطوں سے چھوٹ دی جائے۔انہوں نے کہاکہ وباء کے دوران ملک میں لاک ڈاؤن اور بندشیں عائد کرنے سے تاجروں اور کاروباری طبقہ کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں تجارت وکاروباری صنعت لگاتار بندشوں اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے پچھلے ایک سال کے دوران سخت متاثر ہوئی ہے جس سے غریب تاجر جوکہ شکارا، ہاؤس بوٹس، ٹیکسی، کیپ اور رکشا کا چھوٹا کاروبار کرتے ہیں ، سخت متاثر ہوئے ہیں۔ لگاتار لاک ڈاؤن اور بندشوں سے اِن کی روزی روٹی چھین گئی ہے اور اُن کی مالی حالت بہت ہی خستہ ہوکر رہ گئی ہے۔اُن کے لئے ماہانہ قرضہ جات کی قسطیں ادا کرنا اور بیک وقت کنبہ جات کی کفالت کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا’’ہمارے سماج کے کمزور طبقہ جات کی موجودہ مالی حالت کو دیکھتے ہوئے میں جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کرتا ہوں کہ اِن غریب تاجروں کے مستقبل کو انسانی بنیادوں پر محفوظ کریں اور اُنہیں بینک قرضہ جات کی قسطوں پر ایمنسٹی دی جائے تاکہ اُنہیں کچھ راحت ملے‘‘۔انہوں نے کہاکہ دیگر ریاستوں کی طرز پر یہاں پر اِن کاروبارو تجارتی طبقہ کے روزگار کی بحالی کے لئے خصوصی پیکیج دیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ ایسے راحتی اقدامات کی اشدضرورت ہے۔ 
 
 

بنی کی پنچایت بنجال بھٹوال میں صاف 

پانی اور بجلی کی بلاخلل سپلائی یقینی بنائی جائے :یاسر چوہدری

کٹھوعہ//اپنی پارٹی لیڈر یاسر چوہدری نے ضلع انتظامیہ کٹھوعہ اور پی ایچ ای کے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ ضلع کٹھوعہ کے اسمبلی حلقہ بنی کی پنچایت بنجال بھٹوال میں پینے کے صاف پانی اور بجلی کی بلاخلل سپلائی یقینی بنائی جائے جہاں پر لاک ڈاؤن کے دوران پانی اور بجلی کی عدم دستیابی سے وسیع آبادی کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ کٹھوعہ سے اپیل کی ہے کہ اِن عوامی مشکلات کو سنجیدگی سے لیکر متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی جائیں کہ فوری اقدامات اُٹھائے جائیں اور بنیادی ضروری سہولیات یقینی بنائی جائیں۔ 
 

کسان متاثر، محکمہ زراعت اُن کی پیداور خریدنے میں ناکام :منجیت سنگھ 

 وجے پور//اپنی پارٹی صوبائی صدر اور سابقہ وزیر منجیت سنگھ نے محکمہ زراعت سے اپیل کی ہے کہ ضلع سانبہ میں کسانوں سے زرعی پیداور خریدنے کے لئے عملہ کی تعداد بڑھائی جائے۔ منجیت سنگھ نے کہاکہ ’’محکمہ زراعت کسانوں سے زرعی پیداور خریدنے میں ناکام رہاہے جس وجہ سے وہ درمیانہ دار کو کم قیمت پر بیچنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ زراعت کسانوں سے اُن کی زرعی پیداور خریدنے میں ناکام رہا ہے اور اِس کا درمیانہ دار یعنی کے ایجنٹ لوگ فائیدہ اُٹھارہے ہیں جس سے کسانوں کو بھاری مالی نقصان ہورہاہے۔انہوں نے کہاکہ محکمہ کے حکام کو خریداری میں کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی ہے کہ محکمہ کی فعالیت کا جائزہ لیں اور زرعی پیداور کی خریداری کے لئے موثر اقدامات اُٹھائے جائیں۔

تازہ ترین