تازہ ترین

’’آکسیجنو فوبیا‘‘

لب ِ اظہار

تاریخ    5 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


محمد ارشد چوہان
 
 کب کوئی دیش دروہی ٹھہرے پتہ ہی نہیں چلتا- زندگی کی پہلی ضرورت جسکو عرف عام آکسیجن کہا جاتا ہے مانگنا بھی کبیرہ گناہ بن گیا ہے۔ آکسیجن سے ڈرنے کی ساری کہان ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کے گرد گھومتی ہے۔ اس سے پہلے مختلف اقسام کے فوبیوں مثلاً ہاییڈرو فوبیا، اسلامو فوبیا وغیرہ کے بارے میں تو سن رکھا تھا لیکن آکسیجن سے بھی کوئی ڈرتا ہے پہلی بار دیکھا ۔ پتہ نہیں یوپی کا موجودہ ایوان اقتدار آکسیجن کی ڈیمانڈ کرنے پر سیخ پا کیوں ہو جاتا ہے ۔ کرونا کی دوسری لہر نے ملک بھر کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔ یقین جانیں جس طرف نظریں اٹھاؤ لاشوں کے انبار دکھائی دے رہے ہیں ۔صبح اٹھ کے اخبارات دیکھو تو ان سے بھی موت کے انگارے بھڑک رہے ہیں ۔ پوری دنیا سے ہمدردیوں و امدادی پیکیج کا سلسلہ جاری ہے ۔ مختلف ممالک سے یہ امدادی پیکیج آکسیجن کی صورت میں بھارت پہنچ رہی ہے ۔ ملک کے ہسپتال آکسیجن کی کمی کا شکار ہیں ۔ زیادہ تر اموات آکسیجن کی عدم دستیابی یا بروقت فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے ہو رہی ہیں ۔ مکھیہ منتری اتر پردیش کو چاہیے تھا کہ سرکاری و نجی ہسپتالوں میں آکسیجن کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ۔ برعکس اسکے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق آکسیجن کی کمی سے مرنے والوں کو ہی مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے ۔ ایک فرمان جاری ہوا کہ ریاست بھر کے ہسپتالوں میں آکسیجن وافر مقدار میں موجود ہے ۔ یہ بات اگر یقین دہانی کی حد تک رہتی تو جھوٹ کی حد تک ہی سہی لیکن چلتی۔مگر آکسیجن مانگنے والوں کیخلاف نیشنل سیکورٹی ایکٹ و گینگسٹر ایکٹ کے تحت کاروائی کرنے کا پروانہ بھی جاری ہوگیا ۔آرڈر دیا گیا کہ اگر کوئی سرکاری ہسپتال آکسیجن کی کمی کی نشاندہی کرے تو اسکے ملازمین کیخلاف ایکشن لیا جائے اور پرائیویٹ ہسپتال کرے تو لائسینس کینسل کیے جائیں ۔اور اگر کوئی شہری اس بابت بات کرئے یا جینے کے لئے ہوا مانگے تو اسکی جائیداد ضبط کر لی جائے ۔
 پتہ نہیں یوگی آکسیجن پر بات کرنے سے کتراتے کیوں ہیں ۔ اب تو پوری دنیا پر بھارت میں آکسیجن کی کمی کا راز آشکار ہو چکا ہے اسی لئے مختلف ممالک ایمرجنسی آکسیجن بھیج رہے ہیں۔ یوپی سرکار آکسیجن کی کمی جوکہ ایک حقیقت ہے کو ماننے سے انکار ہے ۔ وہ اس پر ڈتی ہے کہ ریاست  میں آکسیجن کی کوئی کمی نہیں ہے ۔پچھلے تین دنوں سے اخبارات میں دھڑلے سے خبریں آ رہی ہیں کہ آکسیجن کی عدم فراہمی کے باعث ریاست کے مختلف ہسپتالوں میں اموات ہوئی ہیں۔ یہ تو وہ خبریں ہیں جو میڈیا کی زینت بن رہی۔ اصل ڈیٹا تو کہیں زیادہ ہے۔24 اپریل کو یوگی کے شہر گورکھپور سے محض 60 کلومیٹر دور بلحراج ہسپتال میں پانچ لوگ آکسیجن کی عدم دستیابی سے وفات پا گئے۔ اسی طرح شاہی گلوبل ہسپتال میں چار اموات ہوئیں ۔کل جب صبح اخبار کھولی تو میرٹھ کے آنند ہسپتال میں 3 اور کے ایم سی ہسپتال میں 4 لوگ بروقت آکسیجن نہ ملنے سے لقمہ اجل بن گئے۔ آج صبح اخبار کھلی تو پہلے صفحہ پر ہی خبر چھپی تھی کہ مرادآباد کے ایک نجی اسپتال برائیٹ سٹار ہاسپیٹل میں 15 لوگوں کو آکسیجن نہ مل سکی اور وہ زندگی کی جنگ ہار گئے۔ یوپی میں زمینی حقیقت یہ ہے کہ لوگ آکسیجن سیلینڈرز بھروانے کے لیے رات لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں پھر بھی نہیں مل رہی۔ 
یوگی کا آکسیجن سے ڈرنا کوئی نیا نہیں ہے۔ 2017میں بی آر ڈی میڈیکل کالج، گورکھپور کفیل خان کو بچوں کی جان بچانے پر انکو عہدے سے فارغ کر دیا تھا - کفیل خان کا گناہ سرکاری ہسپتال میں آکسیجن کی کمی کی نشاندہی کرنا تھا جس کے باعث 63 نومولود بچے زندگی کی بازی ہار گئے تھے ۔خان نے اپنے خرچے سے آکسیجن خرید کر کچھ معصوم بچوں کی جانیں بچائیں تھیں ۔یوگی حکومت نے انہیں گرفتار کیا ۔ بعد ازاں 2018 میں ان کو بیل پر رہائی ملی ۔ یوگی تب بھی یہی کہہ رہے تھے کہ ہسپتال میں آکسیجن کی کوئی کمی نہیں تھی بلکہ کفیل خان کی لاپرواہی سے بچوں کی جانیں گئیں۔ 2019 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں پوپی سرکار کی طرف سے لگائے گئے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کفیل کیخلاف مقدمہ خارج کر دیا۔
خوفناک عمل یہ ہے کہ ریاست میں آکسیجن کی قلت سے مرنے والوں کے لواحقین اگر اس بابت بات کرتے ہیں تو ملزم قرار دیئے جا رہے ہیں ۔ سوموار کو دی وائر سے منسلک صحافی عارفہ خانم شیروانی انکت نامی شخص کی جانب سے ایک ٹویٹ کرتی ہیں کہ اسکے دوست ششانک یادیو کے نانا کو امیٹھی میں آکسیجن کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے کچھ دیر بعد ششانک کے نانا دنیا سے رحلت کر گئے۔ صحافی شیروانی کی جانب سے ٹویٹ کیا کرنا تھا کہ آکسیجنو فوبیا ٹولے کو یہ بات ناگوار گزری اور ششانک پر ہی مقدمہ دائر کر دیا گیا۔ گو کہ سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد یہ مقدمہ واپس لینا پڑا لیکن اسطرح کا ریاستی حراسمنٹ تشویشناک ہے۔ یوپی پولیس کی جانب سے ایسے اور بھی لوگوں پر مقدمات بنائے گئے ہیں ۔یہ مقدمات بنانے کا اصل مقصد لوگوں کو تنبیہ کرنا ہے کہ خبر دار کوئی حکومت کی کمزوری پر نقطہ اٹھائے ، عالی پناہ کو گراں گزرے گی۔ آخر میں عدالت عظمیٰ کے شکریہ کیساتھ کالم کو سمیٹتے ہوئے وما علینا الا البلاغ کہتا ہوں۔30اپریل کو عدالت عظمیٰ کے سہ رکنی بنچ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اپنی شکایت کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ اگر کوئی حکومت یا انتظامیہ سوشل میڈیا پر شکایت کی بنیاد پر کسی کیخلاف مقدمات بناتی ہے تو یہ توہین عدالت کے زمرے میں آئے گا ۔ 
 
���
 
(کالم نگار جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں ریسرچ سکالر ہیں) 
ای میل۔ mohdarshid01@gmail.com