تازہ ترین

’ہم بھی تو اللہ کو ناراض کر بیٹھے ہیں‘

میری بات

تاریخ    29 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


رشدہ شاہین
رات کے ڈھائی بج چکے تھے نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ عجیب سی گھبراہٹ اور بے چینی ہو رہی تھی۔ نیند آنے کی ناکام کوشش کے بعد تھک ہار کر کمرے سے باہر چھت پر آ گئی اور ٹہلنا شروع کیا۔ پچھلی شام بارش ہونے کی وجہ سے موسم خوشگوار تھا، ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے اندر ہی اندر سوچنے لگی، یا اللہ! چاروں طرف جو سوگواری پھیلی ہے اس خوشگوار موسم کی طرح حالات بھی خوشگوار کر دے۔
اندھیرے کی وجہ سے مجھے چھت کا باقی حصہ صاف نظر نہیں آ رہا تھا، اچانک محسوس ہوا کہ چھت کی سامنے والی دیوار سے لگ کر کوئی بیٹھا ہے قریب جا کر دیکھا تو میری ہی پہچان کی ایک لڑکی تھی۔ میں نے اس سے اتنی رات گئے یہاں بیٹھنے کی وجہ دریافت کی تو اس نے الٹا مجھ سے ہی سوال کر ڈالا۔ بہرکیف اس نے بتایا کہ نیند نہیں آرہی تھی اور کمرے میں طبیعت گھبرا رہی تھی اس لیے یہاں آ کر بیٹھ گئی۔
تھوڑی دیر بعد مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگی: 'یہ کیا ہو رہا ہے دنیا میں؟؟؟ جانتی ہو میں کئی دن سے سو نہیں پا رہی ہوں۔ روزانہ لوگوں کے مرنے کی خبریں پڑھ پڑھ کر ذہن مائوف ہو چکا ہے۔ یہ کرونا کی وجہ سے پھر سے لاک ڈائون اور یونیورسٹی بند ہونے کا ڈر۔ ہمارا کیا ہوگا ؟؟؟ اسی طرح بار بار یونیورسٹی خالی کرا کر ہمیں گھر بھیجا جاتا رہا تو ہو گئی ہماری پی ایچ ڈی۔ ہمارا کام صرف یہیں رہ کر ہو سکتا ہے کیونکہ ہم سائنس والوں کی پوری ریسرچ تو لیب سے ہی جڑی ہے۔'
"ہاں تم سہی کہہ رہی ہو۔" میں نے اس کی تائید کی۔ وہ آگے کہنے لگی: 'اگر اب لاک ڈائون لگا اور یونیورسٹی خالی کرانے کی بات ہوئی تو کم سے کم میری پی ایچ ڈی بہت مشکل ہے کہ مکمل ہوگی۔ گھر والے کب تک رکیں گے۔ ان کا شادی کے لیے دبائو بڑھتا جا رہا ہے اور میں ٹھہری گائوں کی لڑکی۔۔۔ کب مجھے شادی بعد پڑھنے کی اجازت ملے گی؟ پورا مستقبل خراب ہونے والا ہے کچھ بھی اچھا نظر نہیں آ رہا ہے۔ جس طرح کرونا نے تباہی مچائی ہے مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ اگر میں سوئی تو پتہ نہیں کل سہی سلامت اٹھ سکتی ہوں یا نہیں۔۔۔'
اس کی باتیں سن کر میں اور زیادہ پریشان ہوئی کیوں کہ میں بھی اس ڈر کی وجہ سے سو نہیں پا رہی ہوں کہ نہ جانے کس پہر آنکھ لگے اور موت کا فرشتہ روح قبض کر لے۔ کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر آنکھ بند کی تو شاید ہی کھول پائوں گی۔ موت سے اتنا ڈر پہلے کبھی نہیں لگا۔ حالاںکہ 'موت کا ایک دن معین ہے' پچھلے کئی دنوں سے موبائل اٹھاتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے۔ اگر واٹس ایپ پر کسی کا تحریر شدہ اسٹیٹس دیکھتی ہوں تو جان بوجھ کے نظرانداز کرتی ہوں کہ نہ جانے کس کی موت کی خبر ہو۔ اسی طرح روزانہ فیس بک کھولو تو کسی نہ کسی کی وفات پر کف افسوس اور غم کا اظہار کیا جا رہا ہوتا ہے۔ فیس بک تو موت کی کتاب بنتی جا رہی ہے۔ انگلیاں تھک گئی ہیں دعائے مغفرت اور 'انا للہ' لکھتے لکھتے 'اے موت کے فرشتوں! ذرا دم تولو کہ ہم۔۔۔ کہہ کہہ کے تھک گئے ہیں خدا مغفرت کرے۔'
صرف نامور اور چنندہ لوگوں کی وفات کی بات نہیں ہو رہی بلکہ گھر سے بھی اگر بے وقت فون آ جائے تو دل زوروں دھڑکتا ہے۔ وہاں بھی اپنی جان پہچان میں روزانہ دو تین اموات ہو رہی ہیں۔ اپنوں کا اس طرح روز روز بچھڑنا بہت بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ موت کا یہ لامتناہی سلسلہ جو شروع ہوا ہے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ نت نئی بیماریوں اور پریشانیوں نے الگ گھیر رکھا ہے۔ عام بخار، سردی زکام اور کمزوری گھر گھر کی بیماری بنی ہوئی ہے۔ لاک ڈائون، یونیورسٹی بند ہونے کا خوف، مستقبل کا خوف، گھر اور رشتہ داروں کے کھونے کا خوف ان سب نے مل کر دماغ کو شل کر کے رکھ دیا ہے۔ عجیب سی ذہنی اذیت اور خوف و ڈر میں زندگی بسر ہو رہی ہے۔
حکمران طبقے کو یہ کہاں فکر ہے کہ دیش کے انمول چراغ بجھتے جا رہے ہیں، لاکھوں لوگ ان کی لاپرواہی کی نظر ہو رہے ہیں۔ دیش کی نوجوان نسل کس کرب و اذیت میں مبتلا ہے؟ جن سے ملک کی ترقی اور مستقبل روشن ہے۔ ہمارے رہنمائوں نے ملک کی عوام کو مرتا چھوڑ دیا ہے۔ دیش کا وکاس کرنے کے بجائے وناش کر رہے ہیں۔ ان سے اور توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے۔
پچھلے سال سے ہم نے بہت سے عزیزوں کو کھویا ہے، بے شمار تکالیف کو برداشت کیا ہے کچھ کی ٹیس تو اب بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ حال صرف میرا نہیں بلکہ میں نے اپنے آس پاس کئی ایسے لوگوں کو پایا جو اس طرح کی کشمکش اور خوف میں مبتلا ہیں۔ پچھلے کئی ہفتوں سے ہم اپنے اساتذہ اور کرم فرمائوں کو جس طرح کھو رہے ہیں ان تمام نے نہ صرف مجھے بلکہ میرے جیسے نہ جانے کتنے حساس لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر میں کئی دنوں سے یہ بھی دیکھ رہی ہوں کہ لوگ بڑے عاجزانہ طور پر گزارش کر رہے ہیں کہ برائے کرم کسی کی اموات کی خبر پوسٹ نہ کی جائے کیوں کہ اس سے بہت سے لوگ پریشان ہو رہے ہیں۔ ہر کوئی خدا وند تعالیٰ سے رحم کی بھیک مانگ رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ موت ہر کسی کے دروازے پر دستک دینے والی ہے۔
اندازہ لگائیے کہ لوگوں کی نفسیات پر حالات کا کتنا گہرا اثر ہو رہا ہے۔ میری ایک ساتھی نے کافی عرصے کے بعد فون کیا گفت و شنید کے بعد فون رکھنے سے پہلے بولتی ہے کہ 'میں چاہتی ہوں کہ ہم سب آپس میں ایک دوسرے سے اسی طرح باتیں کرتے رہیں ورنہ رب جانے ہم سے کون الوداع کہہ جائے'۔ میں نے اس کی آواز میں عجیب سا درد محسوس کیا ایسا لگ رہا تھا کہ وہ بہت مایوس ہو گئی ہے اور مجھ سے آخری بار بات کر رہی ہے۔ اللہ اس کی عمر دراز کرے، آمین۔ اسی طرح میرے کئی جاننے والے فون یا میسیج کر رہے ہیں۔ جس کا نچوڑ یہی ہوتا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کی خیر خیریت لیتے رہنا چاہیے نہ جانے کب ہم سے کوئی ایک زندگی سے منھ موڑ لے۔ غرض کہ ہر کوئی پریشان ہے۔ حال یہ ہے کہ 'جانے کس کی موت کی آئے خبر یہ سوچ کر۔۔۔ ہر گھڑی، ہر پل، ہر اک لمحہ ہے خدشہ ذہن پر'۔
بیش قیمتی زندگیاں تڑپ رہی ہیں اس وحشت ناک سائے کی زد میں۔۔۔۔ ہمارے دوست و احباب، عزیز و اقارب کے ساتھ مشہور و معروف ہستیاں بھی ہیں۔ صرف کچھ دنوں میں نہ جانے کتنے لوگ دیکھتے دیکھتے لقمہ اجل بن گئے۔ تمام حالات اور لوگوں کے تاثر کے بعد اسی نتیجے پر پہنچی ہوں کہ کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ کرونا کے علاوہ نت نئی بیماریوں اور نجی پریشانیوں نے ہمیں موت کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ آج کل روز رات میں بستر پر جانے سے ڈر لگتا ہے کہ شاید یہ میری آخری رات ثابت ہو پھر آنکھیں بھیگنے لگتی ہیں اور نیند جسے آنی بھی ہوتی ہے وہ روٹھ کر کوسوں دور چلی جاتی ہے۔ پھر پوری رات اسے واپس لانے کی ناکام جدوجہد میں گزر جاتی ہے۔
کرونا کی اس تباہی میں نہ جانے کب ہم سے کوئی الوداع کہہ دے، جن سے ہم انا اور خودی کا مسئلہ بنا کر دوری اختیا رکھیں ہوئے ہیں اس کی میت میں شامل ہونا پڑ جائے اور ہمیں معافی مانگنے کا بھی وقت میسر نہ ہو سکے۔ بہتر ہے کہ ہم آگے بڑھ کر ہاتھ ملا لیں اور مل جل کر ساتھ رہنے کی قسم اٹھا لیں۔ اس تباہی کے بعد بھی اگر ہماری، نفرتیں،عداوتیں، جھوٹ، دھوکے بازی ختم ہونے کے بجائے بدستور جاری ہے تو یہ افسوس کا مقام ہے پھر ہمیں اپنی تباہی کا انتظار کرنا 
کوئی کہتا ہے کہ نہ جانے کس کی بد دعا لگ گئی ہے کہ یہ عذاب ہم پر نازل ہوا کوئی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔ مجھے ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ ہم اپنے گناہوں کا ٹھیکرا کسی کی بد دعا یا حکومت پر کیوں پھوڑتے ہیں؟ حکومت کی لاپرواہی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لیکن کیا ہم دنیا جہاں کے گناہوں میں ملوث نہیں تھے؟ کیا ہمارے ظلم و ستم نہیں بڑھے تھے؟ کیا ہم اپنی طاقت اور انا کے نشے میں چور نہیں تھے؟ خود کا محاسبہ کریں اور نتیجہ نکالیں کہ آج جو کچھ بھی ہو رہا ہے یا جس اذیت میں ہم سب مبتلا ہیں کیا ہم اس کے حق دار نہیں تھے؟
میری ایک دوست جو ہندو مذہب سے ہے ایک دن کہنے لگی رشدہ! تم لوگ کا رمضان چل رہا ہے میں نے سنا ہے کہ یہ بہت پوتر ہوتا ہے اس میں جو بھی دعائیں کی جاتی ہیں پوری ہوتی ہیں تم اپنے اللہ سے مانگو نہ کہ سب ٹھیک کر دیں۔۔۔ میں نے کہا کہ تم بھی تو مانگ سکتی ہو۔ اس کا جواب سن کر میں سوچ میں پڑ گئی۔ کہنے لگی کہ یار کیا بتائوں؟ ہم نے اپنے کرموں سے بھگوان کو ناراض کر دیا ہے وہ ہماری کیسے سنے گا۔ یہ کام تو ہم نے بھی کیا ہے اللہ کو ناراض کر کے بیٹھے ہوئے ہیں اور پریشان ہو رہے ہیں۔ حالات سے گھبرا کر اگر ہم ڈرتے رہیں تو پھر ہمارا بیڑا غرق ہے۔ اللہ پر توکل کر کے اس سے مدد مانگتے رہیں اور اپنے طور پر احتیاطی تدابیر کرتے رہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "ہر مشکل کے بعد آسانی ہے"۔ انشاء  اللہ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔
آخر میں آیئے ہم سب مل کر اللہ سے دعا کریں کہ اس موذی مرض سے ہم سب کو بچائے، ہمارے گناہوں کو معاف کرے اور ہر طرح کی پریشانیوں سے نجات دلائے۔ خصوصی طور پر میں اپنے والدین اور بھائی بہنوں کے لیے دعا گو ہوں کہ اللہ ان سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے، صحت و تندرستی عطا کرے اور اس وباء  سے بچا کر رکھے۔
���
ای میل؛rushdashaheen25@gmail.com
رشدہ شاہین یونیورسٹی آف حیدرآباد کے شعبہ اردو کی پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔