تازہ ترین

۔5اگست2019کے مرکزی حکومت کے فیصلے سے کشمیری بددل | لوگ دفعہ370،35A اورریاستی درجہ کی بحالی کے خواہاں

میرواعظ کی نظربندی افسوسناک:کپل کاک

تاریخ    18 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سری نگر//سابق مرکزی وزیر خزانہ یشونت سنہا کی سربراہی میں کنسرنڈ گروپ آف سٹیزنز (سی سی جی) نے جموں وکشمیر کے حالیہ دورے کے بعد اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مرکزی سرکار نے کشمیر میں حالات کی بہتری کے متعلق جو دعوے کئے ہیں، وہ حقائق پر مبنی نہیں ہیںاور5 اگست 2019 کے مرکزی سرکار کے فیصلے نے کشمیر کے لوگوں کو انتہائی رنجیدہ کردیا ہے اور وہاں پر بیشتر لوگ اس فیصلے سے ناخوش ہیں۔اس دوران رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 5 اگست 2019کو ریاست جموں و کشمیر میں مرکزی حکومت کی جانب سے آئینی اقدام کے بعد زمینی سطح پر لوگوں میں خوف اور شدت کا غصہ ہے اور 95 فیصد لوگوں کے دل اس فیصلے سے زخمی ہوئے ہیں۔کے این ایس کے ساتھ بات  کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر خزانہ یشونت سنہا کی سربراہی میں (سی سی جی) کے اہم رکن کپل کاک نے کہا کہ اگرچہ ظاہری طور پر کشمیر میں حالات نارمل لگتے ہیں لیکن5اگست 2019کے مرکزی سرکار کے فیصلے پراصل میں وہاں پر لوگوں میں انتشار ، خوف ، غصہ اور بیگانگی عروج پر نظر آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ حالیہ دورہ کشمیر کے دوران شہریوں کے متعلقہ گروپ (سی سی جی) کے وفد نے کولگام کا دورہ کیا تھا اور پولیس اور سرکاری فوجوں نے انہیں کسی بھی جگہ نہیں روکا تھا لیکن حال ہی میں منتخب ہونے والے ڈی ڈی سی نمائندوں کو بااختیار بنانے کے سرکاری دعووں کی مقامی لوگوں کے ساتھ ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل ممبران نے مخالفت کی اور انہوں نے الزام  لگایا کہ اس حوالے سے مرکزی سرکار اور گورنر انتظامیہ کے اعلانات صرف اعلانات تک ہی محدود ہوکے رہ گئے ہیں جبکہ زمینی سطح پر صورتحال بالکل اسکے برعکس دیکھنے کو مل رہی ہے۔انہوں نے میر واعظ مولوی عمر فاروق کی نظربندی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی سی جی کے وفد کو میرواعظ کی حفاظت پر مامور سیکیورٹی گارڈز نے میر واعظ منزل کے گیٹ پر روکا اور 15 منٹ کے طویل انتظار کے بعد ہمیں گیٹ سے فون پر میر واعظ سے بات کرنے کی اجازت دی گئی جبکہ یہ افسوس کا مقام ہے کہ میرواعظ کو لگاتار 90 جمعہ نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔کاک نے مزید بتایا کہ میں خود ایک کشمیری ہوں ،میں کشمیر میں پیدا ہوا اور کشمیر میں ہی تعلیم حاصل کی ہے لیکن کشمیری بددل ہوئے ہیں اور ان کی تذلیل کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ گزشتہ تین برسوں میں" سی سی جی" ممبروں کا آٹھ واں دورہ ہے اور اس بار میں نے کشمیری عوام کو مرکزی سرکار کے5 اگست 2019 کے آئینی اقدام کے خلاف سراپا احتجاج پایا۔انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگ آرٹیکل 370 ،  35 اے اور ریاستی درجہ کی بحالی چاہتے ہیں جو 5 اگست سے پہلے موجود تھا۔مرکزی حکومت کی طرف سے رپورٹ کے ردعمل کے امکان کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کپل کاک نے بتایا ہم سی سی جی کے ممبر ہیں اور یشونت سنہا کے ساتھ ہیں جو سابق مرکزی وزیر خزانہ رہے ہیں ، وجاہت حبیب اللہ سابق چیف انفارمیشن کمشنر اور میں خود ایک ریٹائرڈ ایئر مارشل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی سرحدوں پر جنگ بندی کی توقع نہیں تھی لیکن سیز فائر معاہدہ کا اچانک اعلان ہوا اور نافذ بھی ہوگیا۔انکا مزید کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کے بارے میں ہندوستان اور پاکستان کے مابین تعطل کو دور کرنے کے لئے بیرونی قوتیں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ بھارت اگلے ہفتے کویڈ ویکسین کی ساڑھے4 کروڑ خوراکیں پاکستان بھیج رہا ہے اورکوئی چیز ناممکن نہیں ہے۔ کپل کاک نے کہا کہ ہم نے 17صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ عوامی سطح پر یعنی پبلک ڈومین پررکھی ہے جبکہ یہ رپورٹ وزیر اعظم آفس (پی ایم او) اور وزیر داخلہ کو بھی ارسال کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرکزی حکومت کی ذمہ داری  ہے کہ وہ کشمیر میں بڑھتے ہوئے غصے، عدم اعتماد اور انتشار کو کم کرنے کے لئے بات چیت شروع کریں۔