تازہ ترین

’آخرمیں ہی کیوں‘

گردوپیش

تاریخ    17 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


ساحل احمد لون
مولانا ابواکلام آزاد کی شہرۂ آفاق کتاب ’’غبارِ خاطر‘‘ چند سال قبل تحفے میں ملی ۔اس کا مطالعہ کیا تو میں کافی متاثر ہوا ۔اس کتاب میں مولانا نے ایک جگہ لکھا ہے کہ اصل عیش دماغ کا عیش ہے۔یعنی اگر انسان کے پاس عالیشان مکان ہو،مہنگی گاڑیاں ہو،لذیذ پکوان ہو لیکن ان سب کے باوجود وہ ذہنی انتشار میں مبتلا ہو تو وہ ’عیش‘ اُس کے کسی کام کے نہیں ۔اس کے برعکس اگر انسان کے پاس یہ سب چیزیں نا بھی ہو لیکن ذہنی سکون میسر ہو تو اصل عیش اُسی کے پاس ہے۔حالات کی چکی میں ہم گزشتہ چند سال سے اس طرح پِس گیے ہیں کہ یہ ’اصل عیش‘ کی دولت ہم سے چھِن چکی ہے۔راقم الحروف بھی  چند روز قبل ایک عجیب ذہنی کیفیت میں مبتلا ہوا۔چنانچہ نیم بے خودی کے عالم میں میں نے جھیل ڈل کا رخ کیا ۔درگاہ حضرت بل سے میں نے پیدل سفر شروع کیا اور نشاط پہنچ گیا۔حالانکہ میں باغ کے اندر تو نہیں گیا لیکن باغ کے باہر طعام کیا اور پھر باغ کے باہر ہی ایک بینچ(Bench) پر قیام کیا۔وہاں ایک چھوٹی سی غیر ریاستی بچی میرے پاس آئی جو قلمیں (Pens) بیچ رہی تھی۔مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ اُس کی عمر کتنی تھی لیکن وہ اتنی چھوٹی تھی کہ بات بھی ٹھیک سے نہیں کرپارہی تھی اور قد اتنا تھا کہ جس (Bench) پر میں بیٹھا تھا وہ اُس پر چڑھ ہی نہیں پارہی تھی۔ پھر میں نے مدد کی اور اُس پر بٹھایا۔زندگی کے دو پہلو میرے سامنے وہاں عیاں تھے۔ایک طرف وہ لوگ تھے جو فرط انبساط میں نشاط باغ کی سیر کرنے آئے تھے(حالانکہ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی ’اصلی عیش‘ کا متلاشی زندگی کی تلخیوں سے فرار ہوکر وہاں آیا ہو) اور دوسری جانب ایک چھوٹی سی بچی تھی ،جو اپنی اصل سرزمین سے دور ایک علاقے میں قلمیں بیچ رہی تھی۔یہی زندگی ہے اور یہی اس کے روپ۔
 اگر آپ نے کسی اسپتال میں کسی مریض کی تیمارداری کی ہیں تو آپ کو شائد یہ تجربہ ہوا ہوگا کہ جب وہاں ایک انسان دوسرے مریضوں کی حالتِ زار دیکھتا ہے تو  وہ اپنا دکھڑا بھول جاتا ہے۔یہ سچ ہے کہ کسی نہ کسی طرح ہم سب نے مشکلات کا سامنا کیا ہے اور بات جب اہلیان ِ وادی کی آئے تب تو کیا ہی کہنے۔اپنے مصائب اور مشکلات دیکھ کر شائد آپ میں سے کوئی یہ سوچتا ہو کہ ’ ان مصیبتوں کے لیے بھلا خدا کو میں ہی کیوں ملا؟‘‘ لیکن اگر اللہ نے آپ کو ایک مشاہد آنکھ عطا کی ہو تو بند کمرے سے باہر آکر دیکھیے کہ لوگوں کو کن کن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ شائد اُن کی حالتِ زار دیکھ کر آپ اپنا نظریہ بدل دیں ۔اللہ رب العزت کا فرمان ہے کہ انسان بڑا ناشکرا ہے ۔آئیں چند حقیقی واقعات آپ کی بصارتوں کی نذر کردوں اور اُن واقعات کو پڑھ کر شائد آپ کے دہن سے بھی’الحمداللہ‘ نکل جائے۔
کچھ دن پہلے شالیمار باغ کے باہر ایک بیل پوری والے کو دیکھا(جس کی عمر 50 سے 60 برس ہوگی اندازاً)تو اُس کے پاس بیل پوری کھانے کی غرض سے چلا گیا۔ باتوں باتوں میں اُس سے پوچھا کہ کہاں سے ہو تو اُس نے جواباً ''بِہار'' کہا۔ میں نے پوچھا کہ ووٹ کس کو دیتے ہو، نتیش کمار یا لالو؟ اُس نے کہا کہ میرا نام ووٹر لسٹ سے ہٹایا گیا ہے۔ پھر میں نے پوچھا کہ گھر والے کس کو ووٹ دیتے ہیں تو کہنے لگا کہ ''وہ تو نیچے چلے گئے ''۔ اُس کا اللہ کے سوا کوئی نہیں تھا اس دُنیا میں، سارے عزیز و اقارب انتقال کر چکے تھے۔۔۔۔۔۔۔ ہم سب میں سے کون ایسا ہے جس کا دُنیا میں کوئی بھی نہیں ہے اور اُس کے باوجود بھی اُسے اپنے گھر، اپنی ریاست سے دور کسی دور افتادہ علاقے میں دو وقت کی روٹی کمانے جانا پڑتا ہے؟ اگر نہیں ہے تو ہم کیوں شکر بجا نہ لائیں؟ہماری زبانوں سے کیوں الحمداللہ نا نکلے؟
تقریباً ایک ماہ سے کم وقت ہوا ہوگا کہ میں سرینگر کی طرف سفر کررہا تھا۔ پانپور پہنچے تو وہاں ایک Passenger Shed کے بالکل قریب ایک عورت کھلے عام کپڑے تبدیل کررہی تھی۔ گوکہ گاڑی تیز رفتاری سے چل رہی تھی، اس کے باوجود میں اتنا دیکھ سکا کہ شکل و صورت سے وہ غیر ریاستی لگ رہی تھی اور اندازاً عورت تھی۔ اس کی بے لباس کمر سڑک کی طرف تھی اور چہرہ Passenger Shed کی طرف۔ کھلے عام کپڑے تبدیل کرنے کی وجہ شائد یہ ہوسکتی ہے کہ بے چاری کے پاس سر چھپانے کے لیے کوئی معقول ٹھکانہ نہ تھا ورنہ کوئی کسی بھی مذہب، ذات یا علاقے سے ہو، عصمت ہر ایک کو پیاری ہوتی ہے۔ خیر بات جو بھی ہو لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے کتنوں کی مائیں، بہنیں ایسی ہے جنہیں کھلے عام ایک بھیڑ بھاڑ والی سڑک پر کپڑے تبدیل کرنے پڑتے ہیں اور سڑک پر سفر کررہے سینکڑوں مسافر اُن کا بے لباس جسم دیکھتے ہیں؟اگر ایسا نہیں ہے تو ہم کیوں شکر نا کریں؟
بے لباس خاتون کا یہ واقعہ جب رونما ہوا، اندازاً ان ہی دنوں کی بات ہے کہ گورنمنٹ وومنز کالج ایم اے روڈ سرینگر میں چھٹی ہوئی تو ایک معذور شخص کالج کے باہر اپنی وہیل چیئر(wheel chair) پر وارد ہوا۔ عام طور پر تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ یہ شخص کالج کے سینکڑوں طلبہ کے سامنے ہاتھ پھیلاتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس شخص نے اپنی وہیل چیئر کو اس طرح تبدیل (Modify) کیا تھا کہ یہ ایک چھوٹی سی چلتی پھرتی دُکان بن گئی تھی۔ اور اپنی اسی دُکان پر وہ شخص مختلف اشیاء بیچ رہا تھا مثلاً قلمیں، ناخن تراش (Nail Cutters) وغیرہ۔ واضح رہے کہ معذوری بس یہ نہیں تھی کہ یہ شخص چلنے پھرنے سے قاصر تھا بلکہ وہ بات بھی نہیں کرپا رہا تھا اور شائد اپنے ہاتھ بھی مکمل طور پر نہیں چلا پارہا تھا اس لیے جو شخص بھی اُس سے کچھ خریدتا، اُسے خود ہی ایک بکسے میں پیسے ڈالنے پڑتے تھے(کوئی بے ایمان شخص باآسانی اُس شخص کو لوٹ سکتا تھا)۔ اب بتائیں کہ ہم میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو اس قدر معذور ہیں کہ نا ہی چل پارہے ہیں اور نہ بات کرپارہے ہیں اور اس کے باوجود خود ہی دو وقت کی روٹی کمانی پڑتی ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو ہم کیوں شکر نا کریں؟ اور تندرست ہوکر بھی ہم کیوں بہانے تلاش کریں؟کیا اب بھی ہمارے پاس یہ کہنے کی گنجائش ہے کہ ’آخر میں ہی کیوں؟‘
رابطہ۔برپورہ ،پلوامہ کشمیر