تازہ ترین

بے قراری کا سبب بننے لگی دانشوری

مقالہ

تاریخ    17 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر فلک فیررز
دانشوری کا ابدی تعلق دانش ، عقل ، فہم، حکمت، دانائی، ذہانت اور علم سے ہے ۔ یعنی جب بندۂ خداحکمت سے کام لیتا ہے تو دانشور کہلایا جا سکتا ہے ۔اب یہ حکمت مختلف معنوں میں استعمال کی جا سکتی ہے ۔کبھی حکمت حماقت اور چالاکی یا مکاری کا اشتراک ہوتی ہے اور کبھی یہ دانائی مقرر کردہ اصولوں کو توڑنے کانام ہوتی ہے ،چاہئے جو بھی ہو دانشوری ہی کہلائی جاتی ہے ۔ ؎
ہمارے لوگ اسیران شعبدہ بازی
ہمارے شہر میں دانشوری کا رونا ہے …(محسن جلگانوی )
دانشوری کا استعمال ہر شخص اپنی استعداد اور فہم و فراست کے مطابق کرتا ہے ۔ایک عام انسان کی دانشوری اس سب میں پنہاں ہے کہ وہ اپنی بات دوسروں تک بڑی وضاحت کے ساتھ عیاری کے انداز میں پہنچائے اور اس کی رسائی کے انداز بھی منفرد ہوتے ہیں۔ کبھی دوسرے لوگوں کی تعریف کر کے ،کبھی کچھ لوگوںکی برائی کر کے، کبھی مخالفین کی نکتہ چینی کر کے اور کبھی نہایت بے چارگی یا لا چارگی کا اسلوب بیان اختیار کر کے خود کو دانشور ثابت کرنے کی کوششیں جاری رہتی ہیں ۔
علم و فضل یا خود کو افضل لوگوں میں تصور کرنے والے لوگوں کی دانشوری کا اندازہ ہی نرالا ہوتا ہے۔ اپنے آپ کو دانشور ثابت کرنے کے لئے اکثر و بیشتر خاموشی اختیار کرتے ہیں اور جب بولنے کی کوشش کرتے ہیں تو زبان فرنگ میں موٹی موٹی آواز میں تقریر کرتے ہیں لیکن اس بات کا بھی خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ مخاطب کوئی بات سمجھ نہ پائے ۔ بہت سارے دوست خود کو دانشور بنانے کی تاک میں اپنا حلیہ یا اسلوب بھی بدل دیتے ہیں ،ایک ہاتھ میں سگریت کی ڈبیہ اور موبائیل فون ،دوسرے ہاتھ میں کاغذات کی فائل اور گاڑی کی چابی اور خیرو عافیت دریافت کرنے کی غرض سے معمولی سطح پر سر کو ہلا کر ہونٹوں پر مختصر سا تبسم لاتے ہیں اور لوگوں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ ہم دانشور ہیں ۔ 
 دانشوری ہر شخص کا قرینہ نہیں ہے بلکہ یہ مادہ خاص لوگوں میں ہی موجود ہوتا ہے جو زندگی کے ہر نشیب و فراز کو عقلی سطح پر حل کرنا چاہتے ہیں لیکن زندگی کا کون سا فیصلہ ہر صورت میں عقلی دلیل مانگتا ہے۔ کبھی کبھار تو دانشور حضرات ہی زندگی کی جنگ لڑتے لڑتے تھک ہار جاتے ہیں اور فنا کا عالم حاصل کرنے کی تگ و دو کرتے ہیں ۔ دانشوری کی ضد بیوقوفی میں مضمرہے یعنی جو دانش ور ہے بیوقوف نہیں ہو سکتا اور جو بے و قوفی کے حصار میں مبتلا ہو دانشور بن نہیں سکتا ۔اس تقابلی عمل کا مطالعہ ہزار سوالات کو جنم بھی دیتا ہے اور ہزار جوابات کے لیے راستہ ہموار بھی کرتا ہے ۔ ایک شخص ہر فکر کو دھویں میں اڑاتا چلا گیا اور ایک شخص حال کے آئینے میں خود کو تاکتا ہے اور سمجھنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے ۔اس کوشش کے عمل میں لاکھ نئے دروازے واہو جاتے ہیں جہاں سے واپس لوٹنا آدمی کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ واپس لوٹنے کا عمل بھی خاصا ہوتا ہے جہاں آدمی کو جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا خطرہ لاحق رہتا ہے اور ہر زرّہ خاک ہو جاتا ہے ۔ 
کتابوں سے نہ دانش کی فراوانی سے آیا ہے 
سلیقہ زندگی کا دل کی نادانی سے آیا ہے… (فصیح اکمل ؔ)
دانشور حضرات کی کئی قسمیں ہیں جو دانش سے کام تو لیتے ہیں لیکن عوام سے رابطہ مظبوط نہیں کر پاتے ہیں جس کی وجہ سے دانش وروں کی دانش لٹ جاتی ہے۔ کچھ دانش ور ایسے ہوتے ہیں جو عقل رکھتے تو نہیں ہیں لیکن اس ہر کمزوری کا فائیدہ حاصل کرتے ہیں جہاں سے ان کی دانش ثابت ہوتی ہے اور وہ دانشور کہلائے جاتے ہیں ۔ کچھ دانشور ایسے ہوتے ہیں جو دوسرے لوگوں کے مطالعات، خیالات، تجربات، مشاہدات چرا کر بغیر حوالہ جات کے اپنی عیاری سے عوام تک پہنچاتے ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں کہ صاحب علم دانش ور ہے ۔ اپنی دانشوری کو سر عام عیاں نہ کرنے والے دانش ور اعلیٰ قسم کے دانش ور تصور کئے جا سکتے ہیں جو حاصل شدہ علوم کو دوسروں تک پہنچانے کو گناہ تصور کرتے ہیں اور بعض اوقات علوم کو محفوظ الماریوں میں مقید رکھتے ہیں ۔ دانشوروں کی وہ قسم فہم و ادراک کی بہترین مثال ہے جن کا علم لا محدود وسعتوں پر مبنی ہوتا ہے جو عام سطح کا علم نہیں ہوتا بلکہ علم الخاص جانا جاتا ہے جس کو سمجھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے ۔ 
مشہور مقولہ ہے لوگ دانشوری بے وقوفوں سے سیکھتے ہیں ۔گویا بے و قوف تعمیری سماج میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ جہاں دانش کام نہیں آتی وہاں بے و قوفی آسانی سے کام نکالتی ہے ۔اکثر زندگی کا بہترین طور پر مزہ بے و قوف لوگ ہی حاصل کرتے ہیں جو کہیں پر بھی وقوف کر سکتے ہیں ان کا وقوف کبھی بے معنی نہیں ہوتا ہے ۔ جمہوری ممالک میں سیاست دانوں کی دانش کی واہ ہو جاتی ہے اور کسی صورت میں صحافی حضرات کی دانش کام نہیں آتی ہے ۔ 
ان دانشوروں سے بھی ملیے جن کے یہاں نہ کوئی دانش ہوتی ہے اور نہ ہی مفکری کا کوئی خاص سلیقہ بلکہ انہیں لوگ بات بات پر فتوری کا خاص لقب عطا کرتے ہیں لیکن کیا کیجئے جمہوری سطح پر گھٹ جوڑ کی ان کمزوریوں کا ،جن کا قانونی اورانتخابی استعمال کر کے فتوری دانش مستعار لے کر یا خرید کر خود ور (درخوست کرنا) بن کر دانشور بن جاتا ہے،اور سماجی سطح پر اس کی دانشوری عوام میں موضوع بحث بن جاتی ہے اور بعضے اس کی دانش سر بازار لٹ جاتی ہے اور وہ صرف یوں گنگنانا پھرتا ہے ۔
نازان نہ ہو خرد یہ جو ہو نا ہو وہی ہو 
دانش نہ تیری نہ کچھ میری دانشوری چلے
واعظو اب کے شراب عشق پر تقریر ہو 
میکشو اللہ کی دیدار کی باتیں کرو 
صنف نازک کی دانش ہزار جمالیاتی حسن کی مالک ہوتی ہے جہاں بات کا ایک پہلو اگر ہاتھ میں آگیا تو ناممکن ہے کہ صورت حال کا کوئی پہلو ہاتھ سے نکل جائے گا بلکہ ممکنات میں یہ چیز شامل ہے کہ بات میں سے بات نکل آئے گی اور اس طرح سے بات پھیل جائے گی جو دانشوری کا بین ثبوت ہے جس میں نہ صرف محلے کی بلکہ پوری بستی کی حسین انداز میں خبر لی جاتی ہے اور انداز بھی ایسے مقرر کیے جاتے ہیں کہ کسی کو کانوں کان خبر نہیں رہتی ۔خواتین و حضرات ،خاص کر حسینوں کے قصے ایسے بیان ہوتے ہیں جیسے کہ پڑھنے والا قصئہ لیلا مجنون یا شیرین و فرہاد پڑ ھ رہا ہو اور سننے والا کسی بہترین ٹی وی پر لائیو منظر دیکھ رہا ہو ۔بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ دانشوری کا ثبوت فراہم کر نے کے لیے وہ مثالیں بھی پیش کی جاتی ہیں جو مخا طب نے بھاگنے والی حسینا کی والدہ کو پیشگوئی کے بطور قبل از وقت بہم رکھی تھیں لیکن انہوں نے ان سنی کی تھی اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے ۔
دانش کا تعلق نظریات، امکانات، خدشات، الہامات سے قریب تر ہے جو انتہائوں کا سفر طر کر کے اشکالات کو چاک کر کے فلسفیانہ انداز کے اختیارات کو برتنے کا قائل ہے، جہاں سے حدود علوم کے نئے راستے ہموار ہو جاتے ہیں اور دانشور کہتے جاتے ہیں   ؎
بے قراری کا سبب بننے لگی ہے دانشوری 
اب سکون درکار ہے بے کار کی باتیں کرو …(امتیاز خان ؔ)
 (مقالہ نگار ڈگری کالج حاجن میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر تعینات ہیں)
ای میل۔falakfayrooz@gmail.com
������