تازہ ترین

خیراتی اداروں کی جوابدہی

جذبات کی سوداگری پر حکومت کی گرفت صحیح قدم

تاریخ    17 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


عبدالقیوم شاہ
گزشتہ فروری میں کمشنر سیکریٹری منوج کمار دِویدی کی طرف سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا۔ اس میں تمام خیراتی اداروں، فلاحی انجمنوں اور دیگر غیرسرکاری تنظیموں کو 31 مارچ تک مطلوبہ کاغذی کاروائی مکمل کرنے کو کہا گیا۔حکم نامے میں بتایا گیا تھا کہ باریک تفتیش کے بعد معلوم ہوا ہے کہ اکثر ادارے ضروری ضوابط کی خلاف ورزی میں نہ تنظیمی ڈھانچے کے لئے انتخابات کرتے ہیں، نہ وہ رجسٹریشن کی تجدید کرواتے ہیں اور نہ ہی مالی معاملات کی تفصیل مشتہر کرتے ہیں۔ اس حکمنامے انتباہ دیا گیا کہ مطلوبہ کاغذی کاروائی نہ کرنے کی پاداش میں ایسے اداروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔ 
راقم نے گزشتہ برس ان ہی سطور میں عرض کیا تھا ہر چہار سو گاڑیوں پر لائوڈ سپیکر لگا کر متعدد انجمنیں لوگوں کا جذباتی بلیک میل کرکے اْن سے پیسے اینٹھتے ہیں اور بچارے معصوم لوگوں کو لگتا ہے کہ وہ اپنے لئے جنت خرید رہے ہیں۔ اور یہ سلسلہ رمضان کے مقدس مہینے میں اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔
جس حکم نامہ کو نقل کیا گیا ہے اْس پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ کمشنر سیکریٹری کو چاہئے کہ رمضان کے متبرک مہینے کے دوران اس حکمنامہ پر فالواپ ایکشن کرے۔سماجی بہبود، قانون، مال اور فائنانس کے محکموں سے معتبر افسران کا ایک ٹاسک فورس تشکیل دے کر جذبات کے سوداگروں پر گرفت کس لی جائے۔
 اس میں شک نہیں کہ بعض ادارے زکواۃ اور صدقات کا سرمایہ مساکین اور یتیموں کی کفالت پر خرچ کرتے ہیں، لیکن خیرات اداروں کے نام پر یہاں جذباتی بلیک میلنگ کا ایک ایسا کلچر پروان چڑھ چکا ہے جس میں کئی ابن الوقت حضرات کْود پڑے ہیں اور یومیہ اْجرت پر لوگوں کو گاڑیوں میں دوڑاتے ہیں اور وہ لائوڈ سپیکر پر عجیب طرح کی آوازیں نکال کر بستیوں میں لوگوں خاص طور پر خواتین کو پیسہ دینے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم علما سے گزارش کرتے ، لیکن وہ فتوے دے چکے ہیں دارالعلوموں کے لئے چندہ جمع کرنا ضروری ہے۔ 
رضاکارانہ خدمتِ خلق ایک نیک جذبہ ہے۔ اس میں لوگ اپنا قیمتی وقت نکال کر محتاجوں اور ناداروں کی کفالت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن جب ریٹائرڈ افسران، ناکام تاجر یا دوسرے لوگ اسی جذبے کو باقاعدہ انڈسٹری بناتے ہیں تو ایک وائٹ کالر جْرم کا کلچر پروان چڑھتا ہے۔ رضاکاری کا مطلب یہ نہیں کہ چندہ جمع کرکے گاڑی کا کرایہ اور اْس کا پیٹرول خریدا جائے، اس کا مطلب یہ نہیں صدقات کی رقم سے دفتر سجاکر اْس میں فرنیچر لگوایا جائے، اس کا یہ مطلب نہیں خیراتی ادارے کی پبلسٹی پر خرچ ہونے والی رقم لوگوں سے لئے گئے پیسے سے نکلی ہو۔ 
بغیر رجسٹریشن کے وادی میں سرگرم جن انجمنوں، سوسائیٹیوں اور اداروں کی فہرست جاری کی گئی ہے اْن کی تعداد حیران کن طور پر پانچ سو سے زیادہ ہے۔ میں بارہا عرض کرچکا ہوں کہ انفاق فی سبیل ا للہ ایک ذاتی عمل ہے، اس میں خیراتی اداروں نے ٹانگ اڑا کر دراصل ایک فرد سے اْس کا نیک جذبہ چھین لیا ہے۔ غریب اور نادار کی مدد کرنا صرف پیسوں اور اجناس کا لین دین نہیں، بلکہ یہ ایک روحانی تربیت ہے۔ جب اہل ثروت کسی غریب کے دروازے پر دستک دیتا ہے، اْس کے ساتھ کچھ پل صرف کرتا ہے اور اْس کی مالی مدد خود اپنے ہاتھ سے کرتا ہے تو یہ محض زکواۃ یا صدقات کی ادائیگی نہیں بلکہ اپنے نفس کو تکبراور غرور سے پاک کرنے کے علاوہ تشکر کے جذبات بیدار کرنے کا عمل ہے۔ 
جب ہم خدمت خلق اور محتاجوں کی مدد کے اس عمل سے دینے والے اور لینے والے درمیان ایک ایجنسی قائم کرتے ہیں تو یہ محض سرمایہ کا لین دین بن کے رہ جاتا ہے۔ کوئی اگر اہل نصاب بن گیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کسی ایجنسی سے ہزار روپے کی رسید کٹواکے اْس نے انفاق فی سبیل اللہ کا فرض پورا کردیا۔ اپنے مال کا تزکیہ کسی ٹرسٹ یا تنظیم کو کچھ رقم دینے سے نہیں ہوتا، یہ تب ہی ممکن ہے جب اس پورے عمل میں دینے والا خود شریک رہے۔ اس میں وقت کی قربانی ضروری ہے۔ خیراتی اداروں نے تو ثواب اور جنت کی ہوم ڈیلوری کا کلچر پیدا کردیا ہے جسکے نتیجہ میں اب امیر لوگوں اور غریب لوگوں کے درمیان ایک دیوار حائل ہوچکی ہے۔ 
حکومت کو کاغذی کاروائی کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر مالی امداد کی اپیلوں پر بھی غور کرنا چاہئے۔ اکثر اوقات یہ اپیلیں جعلی ہوتی ہیں اور مجرم صفائی سے اپنا کام کرجاتا ہے۔ اول تو ہم یہ جانتے ہیں کہ نادار اور محتاج لوگ کوئی خلائی مخلوق نہیں بلکہ اسی زمین پر اور اسی سماج میں رہتے ہیں۔ وہ کسی محلے ، کسی بستی میں رہتے ہیں۔ اْن کے اِرد گرد بھی انسان بستے ہیں۔ اگر لوگوں میں یہ شعور اب بھی بیدار نہیں ہوا کہ اْن کے اِردگرد رہنے والوں میں کوئی حاجت مند تو نہیں تو سالہاسال سے ہورہی مذہبی تبلیغ اور وعظ و پندار کس کام کا؟ اگر ہر شہری شعوری طور پر بیدار رہے اور اپنے ماحول میں جھانکنے کے لئے کچھ پل صرف کرے تو ہمیں اْن ایجنسیوں کی کیا ضرورت جو ہمیں جنت کی رسید تھما کر سال بھر کے لئے رفوچکر ہوجاتے ہیں۔
جدید دور میں حکومت کا ’ویلفیر سٹیٹ‘ ہوتا ہے، یعنی حکومت کے منصبی فرائض میں یہ امر شامل ہے کہ غریبوں اور محتاجوں کی مدد کی جائے۔ اسی مقصد سے تو سماجی بہبود کا محکمہ قائم کیا گیا ہے، سرکاری ہسپتال قائم کئے گئے، پبلک ٹرانسپورٹ کا مقصد بھی یہی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے کشمیر میں جب کوئی رضاکار خدمت خلق کا جھنڈا اْٹھاتا ہے تو وہ پہلے تنظیم بناتا ہے، پھر صدر بنتا ہے اور پھر دفتر سجا کر گاڑیوں کو چندے کے لئے روانہ کرتا ہے۔ رضاکاری کا مطلب ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان ایک مفید پْل بننا۔ کیا کوئی رضاکار سماجی بہبود کے محکمہ میں جاکر وہاں بجٹ میں مختص رقوم کا حساب مانگتا ہے، کیا کسی نے یہ سوال کبھی اْٹھایا کہ عمررسیدہ بیوہ خواتین، محتاج افراد اور نہایت فلاکت زدہ لوگوں کی مالی معاونت کے لئے حکومت کی پالیسی میں کوئی تجدید کیوں نہیں ہوئی۔ 
ہمارے یہاں لوگوں کی خیرات سے خریدی گئیں ایمبولنس گاڑیاں بے کار پڑی ہیں۔ ہسپتالوں کو ایک تیاربہ تیار مارکیٹ سمجھ کر بعض ادارے وہاں اپنی مارکیٹنگ کرتے ہیں۔ اگر کسی ہسپتال میں کوئی ادارہ وہی کام کررہا ہے جو ہسپتال کے ذمے ہے تو یہ ہسپتال انتظامیہ پر سوالیہ نشان ہے۔ لیکن بجائے اس کے ہسپتالوں میں مناسب سہولات کو بہتر کیا جائے، ہسپتالوں کے افسران خیراتی اداروں کا استقبال کرتے ہیں۔ ہم ایک سسٹم میں رہتے ہیں، اگر وہی کام خیراتی ادارے کریں جو ہمارے ٹیکس کے پیسے سے چلنے والے سرکاری اداروں کو کرنا ہے تو لوگوں کو دو طرف سے لوٹا جارہا ہے۔ ہم ٹیکس بھی دیں، زکواۃ بھی دیں اور نتیجہ یہ ہو کہ حکومت سہولت مہیا نہ کرسکے اور خیراتی ادارے ہمارے ہی پیسے اپنا کرّو فر چلائیں۔ حکومت نے پہل تو بہت اچھی کی ہے، لیکن اس پہل کو منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا۔ 
(کالم نویس معروف سماجی کارکن ہیں)
 رابطہ۔ 9469679449 
ای میل۔abdulqayoomshah57@gmail.com
������