تازہ ترین

سیاحتی شعبے کی ترویج و ترقی ٹھیک لیکن۔۔۔؟

شورِ نشور

تاریخ    15 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


شاہ عباس
سال2016 کے بعد2019کے حالات اور 2020میں کورونا بحران کی وجہ سے پیدا صورتحال کے نتیجے میں پہنچے پے در پے دھچکوں کے بعد رواں برس کے آغاز میں وادی کشمیر کی سیاحتی صنعت اب لگتا ہے کہ پٹری پر آنے لگی ہے۔متعلقین کے دعوے صحیح مانے جائیں تو اس سال ابھی تک کم و بیش ڈیڑھ لاکھ سیاح وادی کشمیر میں وارد ہوئے ہیں۔ ان میں اگر چہ غیر ملکی سیاح برائے نام تھے ،لیکن پہلے گلمرگ میں سرمائی کھیلوں میں بھاری شرکت اور بعد میں باغ گل لالہ کی اچھی خاصی تعداد میں لوگوں کی سیاحت سے سال کا حوصلہ افزا آغازہوگیا۔متعلقین کا بھی ماننا ہے کہ اس سال ابھی تک ہوٹلوں کی بکنگ اچھی خاصی رہی۔اس کی وجہ شاید پہلے بھاری برفباری اور بعد میں ٹیولپ گارڈن کی بہتر مارکیٹنگ تھی۔ذرائع کے مطابق سرینگر، گلمرگ اور پہلگام میں قائم اکثرہوٹلوں کی ماہ جون تک اچھی خاصی بکنگ تھی تاہم اس میں کورونا پھیلائو میں اچانک آئی تیزی کی وجہ سے بعد میں کچھ کمی واقع ہوگئی یہاں تک کہ قابل ذکر حد تک بکنگیں منسوخ بھی ہوئیں ۔لیکن متعلقین پُر اُمید ہیں کہ آغاز تو اچھا ہے، انجام بھی حوصلہ افزا ہی ہوگا۔ 
 ذرائع نے بتایا کہ کورونا وائرس کی پیدا صورتحال کے باجود اس سال وادی کی طرف سیلانیوں کا رجحان کافی بڑھ گیا ہے یہاں تک کہ حالیہ سرما سے ہی گلمرگ، پہلگام، سونہ مرگ اور دوسرے سیاحتی مقامات میں خاصی رونق رہی۔مرکزی وزیر سیاحت پرہلاد سنگھ پٹیل نے حالیہ سیشن کے دوران راجیہ سبھا کو بتایا کہ جموں و کشمیر میں سیاحوں کی آمد جنوری 2020 میں 3700 افراد سے بڑھ کر جنوری 2021 میں 19000 افراد تک پہنچ گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزارت سیاحت کی کاوشوں سے وادی میں کئی ایک فلموں کی شوٹنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
جموں کشمیر کی حکومت نے بھی اس سال سیاحتی شعبے کیلئے مختص بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔اس بھاری رقم کو سرکاری ذرائع کے مطابق محض سیاحتی شعبے کی ترویج و ترقی کیلئے خرچ کیا جارہا ہے جس میں بالی ووڈ کو وادی کی طرف راغب کرنے کے ’ضروری اقدامات‘ بھی شامل ہیں۔  ان’ضروری اقدامات‘ میں اور کیا کیا شامل ہے، اس کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ذرائع کے مطابق 2021۔22کے بجٹ میں سیاحت کیلئے786کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔اس بجٹ میں وہ رقم بھی شامل ہے جس کو ملک کے بیشتر حصوں میں روڈ شوزاور مارکیٹنگ کے دوسرے طریقوں پر خرچ کیا جائے گا ۔
اب آئے ذرا صورتحال کے ایک اور پہلو کی طرف۔ جس طرح تعمیر و ترقی قدرتی ماحول کو تہہ و بالا کرکے رکھ دیتی ہے، ٹھیک اسی طرح سیاحت کو عشرت پسندی کا جامہ پہنانے سے اخلاقی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔بیشتر حساس حلقوں کا ماننا ہے کہ سیاحتی صنعت کو حدود میں نہ رکھا جائے تو کشمیر کا منفرد کلچر خطرے میں پڑ سکتا ہے، یا یوں کہئے کہ یہاں کا اخلاقی ماحول آلودہ ہوکر اتنا ضرر رساں ثابت ہوسکتا ہے کہ بعد میں سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد بھی ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔     
محکمہ سیاحت کے ذرائع کے مطابق فی الوقت کم و بیش ایک ہزار سیاح روزانہ بنیادوں پر کشمیر وارد ہورہے ہیں۔سیاحوں کا اتنا بھاری رش اس سے قبل2011۔12میں دیکھنے کو ملا تھا۔ان سیاحوں میں اکثر تعداد اُن کی ہوتی ہے جو اپنے روزانہ معمولات کو ترک کرکے کچھ دن عیش و عشرت کے عالم میں ہر پریشانی سے دور ہوکر گذارنا چاہتے ہیں۔ظاہر ہے کہ اس کیلئے اُن کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں جنہیں وہ پورا ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومت سیاحوں کے ایسے سبھی تقاضے پورا کرنے کیلئے کوشاں ہے اور اس کیلئے قبل از وقت ضروری اقدامات بھی کئے گئے ہیں۔لیکن بعض مقامی متعلقین کا ماننا ہے کہ سیاحوں کے سبھی مطالبے پورے کرنا نہ اُن کیلئے ممکن ہے اور نہ مناسب۔زبرون پہاڑی کے دامن میں واقع ایک ہوٹل مالک کے مطابق’’پہلے پہل سیاح یہاں قدرتی نظاروں کا لطف اٹھانے اور محض سیاحت کی غرض سے آتے تھے، لیکن یہ بد قسمتی کی بات ہے کہ اب اکثر سیاح یہاں عیش و عشرت کیلئے آتے ہیں‘‘۔گلمرگ میں ٹورسٹ گائیڈ کی حیثیت سے کام کرنے والے ایک 45سالہ شہری کے مطابق’’عیش و عشرت کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اور سیاحت کے اپنے تقاضے،میں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ وادی کی سیر کیلئے آنے والے سیاحوں کے ساتھ گذاری ہے، میں محسوس کرتا ہوں کہ اب یہاں سیاح کم اور عشرت پسند لوگ زیادہ آتے ہیں‘‘۔
سیاحت صرف وادی ہی نہیں بلکہ جموں کشمیر کی ایسی صنعت ہے جس کے ساتھ ہزاروں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ یہ صنعت ہر سال یہاں کی اقتصادیات میں قابل ذکر اضافہ کرتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس اہم صنعت کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے لیکن ایسا کرتے ہوئے اس امر کا خاص خیال رکھا جائے کہ یہاں کے اکثریتی عوام کا منفرد کلچر کسی بھی طرح متاثر نہ ہو، نہ کسی کے جذبات مجروح ہوں اور نہ کسی کو اس بات کا احساس ہو کہ اُس کی شناخت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ان ساری باتوں کو ملحوظ رکھ کر سیاحتی شعبے کی ترویج کی جائے تو عوامی حلقوں کی طرف سے بھی داد تحسین حاصل ہوگی۔بصورت دیگر معلوم وجوہات کی بنا پر کتنی بھی خاموشی چھائی رہے، عوامی جذبات کو ہر وقت قابو میں رکھنا ممکنات میں شامل نہیں ہے۔اور پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوامی حلقوں کی ناراضگی مول لیکر کوئی بھی اقدام کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتا ہے، بلکہ جلد یا بدیر اس کے منفی نتائج کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے۔
کشمیر میںسیاحوں کا آنا اور یہاں کی قدرتی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ایسا برصغیر پر برطانیہ کی حکمرانی میں بھی ہوتا رہا ہے اور شخصی راج میں بھی۔ پھر جب عوامی حکمرانی کا دور آیا تو یہ سلسلہ مسلسل چلتا رہا اور اس پر تقسیم ہند کا بھی کوئی اثر نہیں پڑا ۔یہاں کے سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد یا عوامی حلقوں نے کبھی یہ شکایت نہیں کی ہے کہ ان کی تہذیبی شناخت کو سیاحوں سے کوئی خطرہ لاحق ہوا ہے ۔ابھی حال ہی میں جو آوازیں کلچر اور تہذیبی شناخت کے تحفظ کے حق میں سنی گئیں، انہوں نے بھی اس سے قبل خدشات کا اس طرح کھل کر اظہار نہیں کیا تھا ۔ان حقائق کو ملحوظ رکھتے ہوئے ارباب اقتدار اور اختیار کو چاہئے کہ وہ ان نحیف سی آوازوں کی ان سنی نہ کریں کیونکہ کبھی کبھی  بظاہرکمزور اور نحیف آوازیں بھی بڑی مؤثرثابت ہوتی ہیں اور وقت آنے پر اور بھی اثر دار معلوم ہوتی ہیں۔