تازہ ترین

مرحبا اے شہرالقرآن مرحبا

استقبال رمضان

تاریخ    15 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


شازیہ عرش ماہ بنت نقیب خان

 اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے

’’رمضان وہ مہینہ ہے ، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے ، جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے‘‘۔(185:02)
ماہ رمضان ہم پرسایہ فگن ہورہا ہے اور اس کی آمد امت مسلمہ کے لئے باعث مسرت وتسکین ہے۔اس ماہ کی عظمت کا اعتراف یقینی ہے جہاں نیکیاں آسان اور برائیاں مشکل ہوتی ہیں،جہاں نفل کا ثواب فرض کے برابر کردیا جاتا ہے اور فرائض کا ثواب ستر گنا زیادہ،یہ مبارک ساعتیں جس میں شیطان زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں اور رحمت خداوندی اپنے عروج بالا پر ہوتی ہے۔موسلا دھار بارش کی مانند برستی رحمت،برکت،مغفرت کی بوندیں ہر آن مومنین کو بشارت و خوشخبری کی نوید سناتی ہیں۔
جس ماہ کی ایک رات کو ہزار مہینوں سے بہتر کہا گیا۔جو رات اتنی افضل ترین ہے اس میں نازل ہونے والی قرآن کی کیا ہی عظمت ہوگی؟قرآن اپنے اندر یہ عظمت رکھتا ہے کہ ظلمتوں سے حق کا نور نکالے،پتھر دل کو موم کردے، مایوس کن دلوں کو امیدوں کی صبح کی یقین دہانی کرائیں،قرآن بیمارروحوں کا علاج ہیں،قرآن عظیم الشان نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جس کو پاکربندے پرلازم ہے کہ وہ ماہ رمضان میں روزہ رکھ کر رب العالمین کا شکر بجا لائے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے۔ اے نبیؐ کہو کہ ‘‘یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ اْن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں"۔(1:57,58)
قرآن ایک ایسا چراغ ہے جس کا برحق ہونا بجائے خود روشن ہے، اور اس کی روشنی میں انسان ہر اس مسئلے کو سمجھ سکتا ہے جسے سمجھنے کے لیے اس کے اپنے ذرائع علم وعقل کافی نہیں ہیں۔ یہ چراغ جس شخص کے پاس ہو وہ فکر وعمل کی بے شمار پر پیچ راہوں کے درمیان حق کی سیدھی راہ نمایاں دیکھ کرعمر بھر صراطِ مستقیم پر اس طرح چل سکتا ہے کہ ہر قدم پر اسے یہ معلوم ہوتا رہے کہ گمراہیوں کی طرف لے جانے والی شاخیں کدھر جا رہی ہیں؟ ہلاکت کے گڑھے کہاں ہیں؟ اور سلامتی کی راہ ان کے درمیان کون سی ہے؟ آج دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ’’قرآن کریم‘‘ ہی ہے۔غرض اللہ رب العالمین کے کلام نے ،پتھروں کو پانی کیا ، صحراؤں کو سبزہ زار کیا اور ساتھ ہی ساتھ دریاؤں میں ایک ایسی حیات بخش روانی پیدا کی کہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی انسان اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ حقیقت میں یہ ایک انقلاب تھا جس نے دنیا کا رخ ہی موڑ دیا ، اس کے آنے سے علم و ہنر کے وہ چشمے پھوٹے کہ کسی دوسری قوم نے اس قدر علمی و فنی خدمات اتنے زیادہ میدانوں میں کبھی نہیں کیں۔ہر ایک اس کا چاہے نہ چاہے انداز میں اعتراف کرتا ہے۔
مگر آج اس قرآن سے وابستہ زندگیاں برف سے زیادہ ٹھنڈی ہیں ، علم وعمل سے بے بہرہ مخصوص رسومات کے پیروکار ہیں گویاسمندر نہیں قطرہ پر مطمئن ہو،جو مختلف مواقع پر بغرض برکت بے سوچے سمجھے کچھ آیات پڑھ کراوہام و خرافات بنیاد عمل کرتی ہے، اس کتاب کو لے کر دنیا پر چھا جانے والی قوم اسی کتاب کو پس پشت ڈال کر ذلیل و خوار ہے۔
بنیاد ہی جب غائب ہو تو عمارت کہاں سے وجود میں آئے؟ خوبصورت ترین جْزدانوں میں رکھی جانے والی اس کتاب کی انقلابی تعلیمات سے یہ اْمت غافل ہے۔ قرآن کہتا ہے ’’ھدی للناس‘‘ یہ سارے انسانوں کی ہدایت کے لئے ہے۔ جو ڈرے اس کے لئے رہنمائی ہے۔رب العالمین کہتاہے:
’’ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کر دیا ہے تو ہے کوئی جو نصیحت پکڑے‘‘۔(54:17)
آج قرآن پڑھااور سنا جاتاہے لیکن اس پر غور و فکر نہیں کیا جاتا۔ضرورت ہے کہ اس پر غور کیا جائے کیونکہ یہ بہت مربوط کلام ہے۔ اس کا پورا فلسفہ منطقی طورپر بہت مربوط ہے‘ اس کے اندر کہیں کوئی تضاد نہیں ہے۔رب العالمین کا ارشاد ہے:
’’اللہ نے بہترین کلام اْتارا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزا ہم رنگ ہیں  اور جس میں بار بار مضامین دہرائے گئے ہیں۔ اْسے سْن کر اْن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے ربّ سے ڈرنے والے ہیں، اور پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہِ راست پر لے آتا ہے جسے چاہتا ہے۔ اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے‘‘۔(39:23)
جوقرآن پر غور نہیں کرتے ان کے متعلق کہا گیا:
’’تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے (لگے ہوئے) ہیں‘‘۔(47:24)
 قرآن ایسی کتاب ہے جو لوگوں کے لیے دنیا میں ایک مکمل ضابطہ حیات، آخرت کی راہ ،نور اور روشنی ہے لیکن یہ کام اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک قرآن کے معنی میں تدبر اور غوروفکر نہ کیا جائے۔قرآن کی آیات خزانے ہیں جب بھی کوئی خزانہ کھولا جائے اس میں موجود موتیوں اور جواہرات کو ضرور دیکھنا چاہئے اسے تلاش کرناچاہیے جوشخص قرآن میں جس قدر ڈوبتا ہے اتنے ہی موتی ،ہیرے ،علم و حکمت کے گوہرلے کر لوٹتا ہے۔
ان سب کہ باوجودموجودہ معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہیکہ امت وسط سے سرفراز قوم ہر سال ماہ رمضان میں شب قدر کو بڑی عقیدت کے ساتھ یاد کرتی ہے اور بقیہ پورا سال اس میں نازل ہونے والی قرآن کو پس پشت ڈال دیتی ہے جس کے نتیجہ میں قرآنِ یوں کہتاہے:
بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی اوصاف نہ بدل دیں۔(13:11)
بقول شاعر:
تھاما  قرآں   تو  کیے   قیصر  و کسری   نابود
اس سے منہ پھیر کے خطرے میں ہے امت کا وجود
دور حاضر میں امت مسلمہ کی فتح شکست میں بدل گئی،عزت ذلت کی صورت اختیار کر گئی،ترقی تنزل بن گئی۔ رب العالمین فرماتا ہے:
’’اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہیوہ تیرے اپنے کسب و عمل کی بدولت ہے‘‘۔ (04:78)
دوسری جانب فرمایا گیا:
’’تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کا بدلہ ہے، اور وہ رب تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے‘‘۔(30:42)
جو قوم زندگی کے ہر میدان میں اپنا لوہا منواتی رہی،وہی قوم دنیا کی مغلوب قوم بن کر رہ گئی؟بے شک اللہ اس قرآن کے ذریعے قوموں کو رفعت وبلندی بخشتا ہے اور اسی کے ذریعے قوموں کو ذلت وپستی میں ڈال دیتا ہیں۔
امت مسلمہ کے عروج و زوال کی اس تاریخ پر رسول اللہؐکا یہ فرمان صادق آتا ہے : " اللہ اس کتاب کی وجہ سے کچھ قوموں کو بلندی عطا کرتا ہے اور کچھ قوموں کو پستی میں ڈھکیل دیتا ہے _ " (مسلم)
بقول شاعر:
درسِ قرآں نہ گر ہم نے بھلایا ہوتا
یہ  زمانہ  نہ  زمانے نے دکھایا ہوتا
ہماری کامیابی اور ناکامی کا راز قرآن ہے۔جب تک ہم نے قرآنِ عظیم کوسینوں سے لگائے رکھا تب تک نصرتِ خداوندی سے سرشار ہوتے رہے ، لیکن جب اس کلامِ الہٰی سے رو گرداں ہوئیتو ذلت ورسوائی نے ہمارے گرد گھیرا تنگ کر لیا۔ 
بقولِ شاعر:
خدا شاہد ہے کہ جب تھے اہلِ قرآں، عاملِ قرآں
انہیں کے پیچھے گامزن تھی گردشِ دوراں
تاریخ کے نقوش نے اس بات کا ثبوت دیا کہ کوئی بھی قوم اپنے خالق ومالک کے احکامات سے اس کے نازل کردہ قانون سے ناطہ توڑ کر کامیاب نہیں ہو سکتی۔اس کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں بطور تذکیر قوم بنی اسرائیل ہے۔۔اللہ نے ان کے اندر ان گنت انبیاء￿  مبعوث فرمائے،انہیں اس دور کی تمام امتوں پر عزت وکرامت عطا فرمائی۔ لیکن جب انہوں نے کتب ِ الہیہ سے روگردانی کی توذلت ورسوائی ان کا مقدر بن گئی،جیسا کہ قرآنِ عظیم فرماتا ہے: 
’’آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ ذلّت و خواری اور پستی و بدحالی اْن پر مسلط ہو گئی اور وہ اللہ کے غضب میں گھِر گئے۔ یہ نتیجہ تھا اس کا کہ وہ اللہ کی آیات سیکفر کرنے لگے‘‘۔(02:61)
فرد کی کامیابی صرف رب کے دین،اس کے نازل کردہ قوانین نیزرب کی عطا کردہ شریعت کی پیروی میں ہے۔قوت وشوکت،مال ودولت،عزت وشہرت ،عقل وسیاست،فکروتدبیر سب کے سب ناکام ہیں۔
آج کے  حالات ہمیں جھنجھوڑ رہے ہیں کہ جس قرآن کو ہم پس ِ پشت ڈالے ہوئے ہیں اس کہ احکامات کو تازہ کریں۔اپنی عظمت ِ رفتہ کے حصول اور دنیا وآخرت میں رب کی خوشنودی پانے کے لیے اتباعِ قرآن کی فکر کریں۔گردشِ دوراں ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہے۔
 بقول شاعر:
قرآں میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اللہ کرے تجھ کو  عطا  جدت کردار!
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا احسان ہے کہ وہ ہمیں بارہا شہر القرآن عطا فرماتا ہے۔ آئیے! اس رمضان اپنے آپ کو اس قدر قرآن سے وابستہ رکھیں کہ بعد از رمضان قرآن کی صحبت،اس کو پڑھنا ،اس پر غور و تدبر کرنا ،اس پر عمل کرنا اور اس کو بندگان خدا تک پہنچانا ہمارے لیے آسان ہوجائیں۔
بقول شاعر:
مرحبا ، ماہِ رمضان مر حبا
مرحبا اے شہرالغفران ، مرحبا
مرحبا ، ماہِ رمضان مر حبا
مرحبا اے شہرالقرآن ، مرحبا!
اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہمیں فہمِ قرآن و اتباعِ قرآن کا شرف عظیم بخشے اور ماہ رمضان کی فیوض و برکات سے ہم کنار فرمائیں۔آمین یاذوالجلال والاکرام۔