تازہ ترین

دنیا میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 13.74کروڑ سے متجاوز

تاریخ    15 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
واشنگٹن //یو این آئی// دنیا میں کورونا وائرس کاپھیلاؤ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور اب تک 13.74 کروڑ سے زیادہ افراد وائرس کے انفیکشن سے متاثر ہوچکے ہیں اور 29.59 لاکھ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے سینٹر برائے سائنس اینڈ انجینئرنگ (سی ایس ایس ای) کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے 192 ممالک اور خطوں میں متاثرہ افراد کی تعداد 137456881 ہوگئی ہے جبکہ اب تک 2959641 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔عالمی سپر پاور سمجھے جانے والے امریکہ میں کورونا وائرس کا قہر بدستوربڑھتا ہی جا رہا ہے اور یہاں متاثرہ افراد کی تعداد 13 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے جبکہ پانچ لاکھ 63 ہزار 446 مریض فوت ہوچکے ہیں۔دنیا میں ایک کروڑ سے زیادہ کورونا انفیکشن والے تین ممالک میں بھارت نے برازیل کو پیچھے چھوڑ کر دوسرا نمبر پرآگیا ہے اور اس سے متاثرہ افراد کی کل تعداد 13873825 پہنچ گئی ہے ۔ اس وبا کے باعث 172085 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔برازیل متاثرہ افراد کے معاملے میں اب تیسرے نمبر پرآگیا ہے ۔ ملک میں کورونا انفیکشن کے معاملات ایک بار پھر تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور اس سے 13599994 افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ اب تک 358425 افراد اس کے انفیکشن کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ برازیل کورونا سے اموات کے معاملے میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے ۔ انفیکشن کے معاملے میں فرانس چوتھے نمبر پر ہے ۔ یہاں کورونا وائرس سے اب تک 51.67 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوچکے ہیں جبکہ 99639 مریضوں کی موت ہو چکی ہے ۔ اس کے بعد روس میں تقریباً 46.05 لاکھ افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں اور 101882 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔برطانیہ میں کورونا وائرس سے متاثر لوگوں کی مجموعی تعداد 43.90 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے اور 127369 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ کورونا سے اموات کے معاملے میں برطانیہ پانچویں نمبر پر ہے ۔
 
 
 

اقوام متحدہ کا کورونا کا مقابلہ کرنے میں ناکامی کا اعتراف

نیویارک //اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے اعتراف کیا ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام میں عالمی ادارہ ناکام ہوگیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ وبا کی روک تھام کے لیے ویکسین کی فراہمی اور اقتصادی امداد کے لیے عالمی سطح پر متفقہ طور پر کوئی لائحہ عمل طے نہیں کیا جاسکا۔ اقوام متحدہ میں ترقیاتی فنڈنگ فورم سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی وبا کا سامنا کرتے ہوئے عالمی رد عمل اور اقتصادی بحالی بڑا امتحان تھا،جس میں ہم ناکام ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ویکسین کی 75 فیصد خوراکیں صرف 10 ممالک میں دی گئیں،جب کہ بیشتر ممالک میں تو ابھی تک کسی نے ویکسین کی شکل تک نہیں دیکھی۔ کورونا ویکسین کی عالمی سطح پر قلت تمام لوگوں کی صحت کے لیے خطرہ ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے زور دیا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام لوگوں کے لیے منصفانہ طور پر ویکسین پہنچنے کو یقینی بنایا جائے۔ بعض ممالک نے اربوں ڈالر کے امدادی پروگراموں پر انحصار کیا، جب کہ اسی دوران میں کئی ترقی پزیر ممالک کو قرضوں کے بوجھ کا سامنا ہے۔