تازہ ترین

امریکہ کاستمبر میں افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کا فیصلہ

تاریخ    15 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


یو این آئی
 واشنگٹن// امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا اس سال گیارہ ستمبر سے شروع ہوگا۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور افغان طالبان کے درمیان یکم مئی کی ڈیڈلائن رکھی گئی تھی جس پر عمل درآمد ممکن نہیں۔امریکی صدر کی انتظامیہ کے سینئر افسر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بہت غوراور پالیسی تجزیوں کے بعد صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ 20 برس بعد افغانستان میں موجود باقی ماندہ امریکی فوجیوں کو واپس بلایا جائے گا۔واضح رہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے گیارہ ستمبر کی تاریخ بہت سوچ سمجھ کررکھی ہے کیونکہ اس سال نیویارک اور پینٹاگون میں القاعدہ کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کو 20 برس مکمل ہوجائیں گے۔اس وقت افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 2500 کے لگ بھگ ہے۔ اس سے قبل طالبان یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر امریکا نے یکم مئی کی متفقہ ڈیڈلائن میں اپنی افواج کو واپس نہ بلایا تو وہ غیرملکی افواج کے خلاف کارروائیاں شروع کرسکتے ہیں۔سینئر امریکی اہلکار کے بقول، "ہم سمجھتے ہیں کہ عسکری طاقت سے افغانستان کے اندرونی سیاسی چینلجنز پر قابو نہیں پایا جا سکتا اور اس سے افغانستان کے اندرونی تنازعات کا خاتمہ بھی ممکن نہیں۔ لہٰذا ہم افغانستان میں ملٹری آپریشنز ختم کر رہے ہیں جس کے بعد ہماری توجہ سفارتی سطح پر امن مذاکرات کی کوششوں کی حمایت پر ہو گی۔"یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان گزشتہ برس ہونے والے امن معاہدے کے تحت تمام غیر ملکی افواج کو یکم مئی تک افغانستان سے انخلا کرنا ہے۔ تاہم صدر بائیڈن کے منصوبے کے تحت افغانستان میں موجود امریکہ کے تین ہزار فوجی یکم مئی کی ڈیڈ لائن کے بعد بھی وہاں موجود رہیں گے۔

 غیر ملکی افواج کے انخلاء سے خانہ جنگی کا امکان:افغان اسپیکر

ماسکو//افغان پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کے اسپیکر رحمان رحمانی نے بدھ کے روز اس یقین کا اظہار کیا کہ ملک سے غیر ملکی افواج کا مکمل انخلاء خانہ جنگی کا باعث بن سکتا ہے ۔افغان خبررساں ایجنسی طلوع نیوز نے مسٹر رحمان رحمانی کے حوالے سے بتایا کہ " فی الحال، ملک سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے لئے حالات مناسب نہیں ہیں۔ موجودہ صورتحال میں غیر ملکی افواج کے انخلا سے حالات مزید خراب ہوں گے اور خانہ جنگی شروع ہونے کا امکان ہے ۔ جرمنی کے دفاع من نے توقع کی ہے کہ نیٹو افغانستان سے مشترکہ فوجی انخلا پر اتفاق کرے گا ۔
 
 

برطانیہ اور نیٹوبھی نکلنے کیلئے تیار

لندن //امریکا کے بعد برطانیہ بھی افغانستان سے فوجی انخلا کے لیے تیار ہو گیا۔برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ نے افغانستان سے فوجی انخلاپرامریکاکی پیروی کی تیاری کر لی ہے اور کہا ہے کہ مستحکم افغانستان کیلئے امریکا،نیٹو،شراکت داروں کیساتھ کام کررہے ہیں۔میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے برطانیہ بھی اپنی فوج افغانستان سے نکال لے گا اور برطانوی حکومت نے ان خبروں کی تردید نہیں کی۔ادھرجرمن وزیر دفاع نے کہا ہے کہ نیٹو ممکنہ طور پر ستمبر میں افغانستان سے تمام فوجیں واپس بلالے لگا۔ جرمن وزیر دفاع نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہمیشہ کہتیہیں، افغانستان ساتھ گئے تھے، مل کر ہی نکلیں گے۔جرمن وزیر دفاع نے کہا کہ امید ہے نیٹو آج اس معاملے پر رضامند ہوجائے گا۔واضح رہے کہ نیٹو بیڈکوارٹرز برسلز میں وزرائے خارجہ و دفاع کا اجلاس ہورہا ہے۔اجلاس میں افغانستان سے نیٹو کے یورپین اتحادیوں کے انخلا کا فیصلہ ہوگا۔امریکی وزیر خارجہ و دفاع یورپین اتحادیوں کو انخلا سے متعلق اعتماد میں لیں گے۔واضح رہے کہ امریکا نے افغانستان سے11 ستمبر تک افواج نکالنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
 
 

 استنبول کانفرنس کی تاریخ کا اعلان

 استنبول //ترکی میں افغانستان پر عالمی امن کانفرنس 24 اپریل سے 4 مئی تک ہوگی۔ترک وزارت خارجہ کے مطابق استنبول کانفرنس کا مقصد دوحا کے بین الافغان مذاکرات کو آگے بڑھانا ہے۔ترک وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات افغان حکومتی نمائندوں اور طالبان نمائندوں کے درمیان ہوگی،کانفرنس میں فریقین کو مشترکابنیادی نکات پر مشتمل سیاسی مفاہمت کا روڈ میپ بنانے میں مدد دی جائیگی۔خیال رہے کہ استنبول میں افغان امن کانفرنس اقوام متحدہ اور قطرکے تعاون سے ہو رہی ہے۔