تازہ ترین

بوئے گل ہے،ہے فصل بہار بھی محبت !

نوائے سروش

تاریخ    14 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


ماسٹر طارق ابراہیم سوہل
شہید محبت نہ کافر ہے نہ غازی !
محبت کی رسمیں نہ ترقی نہ تازی
وہ کچھ اور شے ہے محبت نہیں ہے
سکھاتی ہے جو غزنوی کو ایازی
یہ جوہر اگر کار فرما نہیں ہے
تو ہے علم و حکمت فقط شیشہ سازی
نہ محتاج سلطاں,نہ مرعوب سلطاں
محبت ہے آزادی و بے نیازی
  میرا فقر بہتر ہے اسکندری سے
 یہ آدم گری ہے وہ أئینہ سازی (علامہ اقبالؒ)
محبت دوستی کا نشان ہے،الفت کا بیان ہے،مسرت کی جان ہے،انسانیت کی پہچان ہے،رفعت کا سامان ہے، تلوار کی میان ہے،شرافت کی میزان ہے،رشتوں کی شان ہے،اور سچ پوچھئے تو اصل ایمان ہے۔ سلام ہے،پیام ہے،انعام ہے،اکرام ہے،الفت ہے ،اخوت ہے،شفقت ہے،برکت ہے،عزت ہے،رفعت ہے،مسرت ہے ،مروت ہے،راغ ہے ،سراغ ہے،شرم ہے ،کرم ہے،مید ہے،نوید ہے۔ دیکھتے ہیںوہ کون سے اعمال ہیں جو مینار محبت کی قباء کے دامن عفیف کو خاموشی سے نحیف و ضعیف کر کےانسانی و ایمانی رشتے کو بے جان کر دیتے ہیں۔ اس سے قبل ساری انسانیت کے تئیں رسم محبت نبھانے کے تین وظائف کا اجمالی ذکر،جن تین وظائف کا عملی نمونہ ہمیںرسالت مآ بؐ کی سیرت میں جا بجا ملتا ہے مگر ستم ظریفی اسے کہئے کہ ہمیں سیرت نبویؐ اور تاریخ اسلام کے خیابانوں میں سیر ہی نصیب نہ ہوئ اور منبر محراب کی زینت بنے والوں کو فروعی مسائل کی تبلیغ سے فرصت ہی نہ مل رہی ہے کہ عامتہ المسلمین کو سلف صالحین کے طرز عمل اور طرز فکر کو دم قدم اپنی گفتار،رفتار،کردار،دستار اور اطوار میں شامل کرنے کی تلقین کریں۔
اسلام بلا شبہ ایک مکمل ضابطہ اخلاق ہے جو انسانی زندگی کے تمام مسائل پے محیط ہے اور جسکا مقصد عالم انسانیت کو جورو ستم کے دلدل سے نکال کر امن و سکون کے سنہری حصاروں میں محفوظ کرنا ہے۔ یہ سارا کام صرف محبت اور دوستی کے دامن میں سمٹا ہوا ہے۔دوستی کے چراغ کو روشن رکھنے کے لئے آیات و احادیث اور آثار و اقوال میں وسیع گنجائش بھی ہے اور ترغیب بھی ہے۔ دوستی کے چمن کی آبیاری کے لئے موالات،مواسات اور مدارات کا حکم موجود ہے۔ موالات یعنی اولاد آدم سے محبت،مواسات سے مراد اولاد آدم سے ہمدردی،بہی خواہی،نفع رسانی اور مدارات سے مراد اولاد آدم کے ساتھ خوش خلقی۔ ہمارے مسلم معاشرے میں ان اشعار کا کتنا رواج ہے،حوصلہ افزاء نہیں مگر اس جانب نئ نسل کی رہنمائ ایک ایسا فریضہ ہے جسکی نسبت غفلت خدا کے ہاں قابل مواخذہ بھی ہے اور ہماری بے حسی کی دلیل بھی۔یہاں میں نے اولاد آدم کا لفظ بار بار استعمال کیا ہے تو مقصد یہ ہے کہ نبیؐ کے امتی کو ہر قوم کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا ہے۔البتہ اپنے انفرادی تشخص اور اعزاز کو برقرار رکھنا ہے اور شرکیہ افعال میں کسی بھی قسم کا تعاون مذموم ہے۔
اب ان اعمال کا ذکر جو مینار محبت کے وجود کو کریدتے کریدتے خس و خاشاک بنا دیتے ہیں اور برادرانہ تعلقات بگڑتے ہیں اور گلزار امن اجڑتے ہیں۔
"ولا یغتب بعغکم بعاضا ایحب احدکم ان یاکل لحم اخیہ میتا فکرهتموہ۔"
"اور تم میں سے کوئ شخص کسی کی غیبت نہ کرے،کیا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائ کا گوشت کھائے" القرآن۔
"من اکل لحم اخیہ فی الدنیا قرب له یوم القیامۃ فیقال له: کله میۃ کما اکلته حیا فیاکله و یکلح و یصیح" الحدیث۔
"جس آدمی نے (غیبت کر کے) اپنے بھائ کا گوشت کھایا قیامت کے روز اس کا گوشت اسکے قریب کر کے کہا جائیگا:لو اسے مردہ حالت میں کھا لو جیسا کہ اس کی زندگی میں تم نے اسے کھایا تھا۔چنانچہ وہ اس کو کھائے گا اور انتہائ بد شکل ہو جائے گا" 
غیبت ایک مذموم عمل ہے اور اسکا عام فہم معنی یہ ہے کہ جسکا ہم ذکر کریں ،اگر وہ عیب کسی بھائ میں موجود ہو تو غیبت ہے اور اگر وہ عیب سرے سے موجود ہی نہیں تو بہتان ہے۔اگر اس عادت سے پرہیز ممکن نہیں تو معاشرے میں فساد کی راہ ہموار ہی رہے گی اور فی الحال اس سیل رواں میں بستیوں کی بستیاں غرقاب ہو رہی ہیں۔
انفرادی یا اجتماعی سطح پے معاشرے کے مزاج میں زہر گھولنے کے لئے چغل خوری کی وباء در در اور گھر گھر پھیلی ہے اور یہ انتہائ آسان ابلیسی حربہ ہے جو بردرانہ تعلقات کے چراغوں کو بے دردی سے گل کرنے میں مصروف عمل ہے۔اس مذموم عمل کے لئے کسی خاص مہارت کی ضرورت بھی نہیں بلکہ ایک کی بات سن کر دوسرے تک پہچانا ہی نفرت کے سلگتے شعلوں کو ہوا دینے کے لئے کافی ہے۔چغل خور اور پیشاب سے پرہیز نہ کرنے والوں کو قبر کے اندھیروں میں عذاب دیا جاتا ہے اور آخرت میں الگ سے مواخذہ۔اکثر دو بھائیوں،دو قبیلوں،دو دوستوں،دو خاندانوں اور میاں بیوی میں پھلنے والی نفرت کے پس پردہ یہی جادو کار فرما ہوتا ہے۔کاش یقین ہوتا کہ 
"لا ید خل الجنۃ قتات" ( الحدیث)-
"چغل خوری کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا"
بدگمانی اور مذاق ایسے دو عیب ہیں جو انسانی رشتوں کو نفرت میں بدل دیتے ہیں۔بد گمانی یہ ہے کہ بلا حجت و دلیل کسی کو اپنا حریف سمجھنا اور مذاق کیا ہے کہ کسی کو حقیر سمجھنا۔
"یا ایھا الذین آمنوااجتبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ولا تجسسوا" القرآن
"اے ایمان والو زیادہ گمان کرنے سے بچو کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں اور جاسوسی نہ کیا کرو"
ان اعمال کے ساتھ حسد و بغض اور قطع رحمی بھی شامل ہے۔نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ تم سے پہلی امتوں میں ایک بیماری چلی ہے اور وہ ہے حسد اور بغض اور یہ بیماری ایسی ہے جو بالکل صفایا کر دیتی ہے۔بالوں کا نہیں بلکہ دین کا۔۔۔۔الخ ( سنن الترمذی)
دنیاوی اغراض و مقاصد کی خاطر دعا و سلام ترک کرنا اور نفرت کرنا۔ایسا بد نصیب اس وقت بھی مغفرت سے محروم رہتا ہے جب ہر پیر و جمعرات کو جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور سوائےشرک کرنے والے کے,ہر آدمی کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔
زہر میں بجھے یہ وہ تیر ہیں جو نشانے سے بہت کم چونکتے ہیں۔اس سماج کی زندگی کا سفینہ کیسے کنارے لگے گا ؟ یہاں قریہ قریہ انہیں تیروں کی بو چھاڑ ہو رہی ہے۔ ان خباثتوں کی عفونت نے ارض و سما کی وسعتوں کو گھیر لیا ہے اور تعذیب کے لئے چنگیز خان اور ہلاکو بھی نا کافی ہو گئے ہیں کہ اب فطرت خود خفا ہو کے عالمی وباء کے تازیانے برسانے پے بضد ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ:-
بروں از ورطہء بود و عدم شو
فزوں تر زین جہان کیف و کم شو
خودی تعمیر کن در پیکر خویش
چو ابراہیم معمار حرم شو۔ ( پیام مشرق)
انسان کو انسانیت سے خارج کرنے کے لئے حصول جاہ،اور آفات ثلاث (زر،زن،زمین) سے بے حد لگاؤایسے مکروہ محرکات ہیںجو تدبر و تفکر اور تشکر کی فطری صلاحیتوں کو مفلوج کر دیتے ہیں اور انسان خود فراموشی اور خدا فراموشی کے دلدل میں دھنستا ہی چلا جاتا ہے حالانکہ انسان کی تخلیق کا مقصد بجز تعمیر خودی کے کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا۔جو انسان اس تمیز کو سمجھ جاتا ہے تو اسکے ضمیر میں ایک ہی صدا گونجتی ہے :-
سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں میرا سودا
غلط تھا اے جنوں تیرا اندازہء صحرا۔ ( اقبالؒ)
پتہ۔نیل چدوس تحصیل،بانہال،رام بن جموںوکشمیر
فون نمبر۔ 8493990216