تازہ ترین

ترقی کیسے پہنچے جب رابطہ پل موت کا کنواں ہو!

تعمیر وترقی

تاریخ    14 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


محمد ریاض ملک
ہر دور میں ترقی اور خوشحالی کے ساتھ ساتھ بنیادی سہولیات کی فراہمی کے خواب دکھا کر صاحب اقتدار کرسی پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔لیکن اب تک صاحب اقتدار بے بس ولاچار عوام کی جانب سے عطا کی گئی کرسی پر بیٹھ کر عوام کے دکھ درد کو بھول جاتے ہیں۔ جس عوام نے اپنے بہتر مستقبل کے لئے ہر قسم کی مصیبتوں کے باوجود اپنے نمائندگان کو منتخب کیا تھا۔عام عوام تو درکنار اپنے دور اقتدار کے دوران وہ  صنف نازک کی خاطر بھی سہولیات کا کوئی کام نہ کر پائے۔ جموں و کشمیر کے طول و عرض میں حسین و جمیل آبشار اور وادیاں بلند و بالا پہاڑیوں کو چیرتے ہوئے ہوئے دودھ کی طرح سفید برف کی طرح ٹھنڈے جڑی بوٹیوں کی آمیزش سے لبریز دریا اور نالے رواں دواں ہیں لیکن کبھی یہ خوبصورت دریا اور نالے یہاں کے مکینوں کے لئے پریشانی اور موت کا باعث بھی بن جاتے ہیں۔
جموں کشمیر کے ضلع پونچھ سے مشرق کی جانب تحصیل منڈی کا بلاک لورن واقع ہے جس کو کسی زمانہ میں  لوہر کوٹ کہاجاتاتھا جو بلاک گیارہ پنچائیتوں پر مشتمل ہے۔95 فیصد حصہ پہاڑی اور برفانی سلسلہ  ہے جہاں 50 سے 60 فیصد حصہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے اور بلند وبالا چوٹیوں پر سال بھر برف جمی رہتی ہے۔ملازم پیشہ افراد کا تناسب قریب چھ سے سات فیصدی ہیاور نوے فیصد لوگ ذمہ داری اور مزدوری پیشہ سے منسلک ہیں۔منڈی لورن کی عوام دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ رابطہ پُلوں سے یاتو سرے سے ہی محروم ہیں یاپھر یہ رابطہ پُل خستہ حالی کا شکار ہیں۔ لوہیل بیلہ میں پانچ چھ گاؤں کو جوڑنے والا جھولہ پُل اس قدر خستہ حال ہے کہ نہ جانے کب کسی بڑے حادثے کا سبب بنے گا۔اس پل کی نازک حالت پر وہاں کے مقامی باشندہ جموں وکشمیر پولیس سے ریٹائرڈ انسپکٹر محمد شفیع میر65 نے بتایا کہ لوہیل بیلہ پل سے قریب 10 گاؤں کے لوگ گزرتے ہیں۔ آج سے قریب چالیس سال پہلے اس پل کو بنایا گیا تھا۔ جس جھولہ پُل سے سٹیلاں، بیلاسیٹھی، ترانگڑ، کیالا، ناگاناڑی، اول بن شیخاں ہل، یہاں تک کہ بیلا بالا تک بہت سارے محلہ جات کی عوام کامنڈی اور لورن کے ساتھ رابطہ ہوتاہے اور جب کبھی یہ رابطہ پل گرگیاتو مذکورہ موڑاجات کی عوام کا رابطہ کٹ کر رہ جائیگا۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت افسوس ہوا کہ جب ایک برات اس پل سے گزری اور دلہن کو اس پالکی سے نکال کر پیدل اس جھولہ پل سے پار ہوناپڑا۔یہی نہیں بلکہ جب کبھی خواتین بزرگ یا پھر کسی زخمی یا بیمار ہو جاتا ہے تو اسے اس پل سے گھسیٹ کر پل عبور کروایاجاتاہے۔
وہیں عمر رسیدہ بزرگ حاجی محمد دین کھٹانہ سے جب بات کی تو انہوں نے اس پُل کے پاس کھڑے ہوکر درد بھری آواز میں کہاکہ ہمارے لئے ابھی جمہوریت نہیں ہے۔ ہر بار اپنے ملک کی جمہوریت پر ناز کرتے ہوئے کسی نہ کسی سیاسی جماعت یا آزاد امیدوار کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرتے ہیں۔اس سے چن کر اقتدار میں لاتے ہیں لیکن وہی لوگ پھرجیت جانے کے بعد نہ جانے کہاں گم ہوجاتے ہیں؟پھر ملتے نہیں کہ فریاد کریں۔پل کے حوالے سے کہاکہ آج پچاس سال قبل ہم لوگ پیدل دریا عبور کرتے تھے۔ تب بھی یہ خطرہ رہتاتھاکہ کب اس دریا کو عبور کرتے پاؤں پھسل جائیگا اورہم موت کے منہ میں چلے جائیں گییا پھر جب دریا میں طغیانی ہوتی تھی تو ہم بالکل کٹ کر رہ جاتے تھے۔آج آزادی کے اتنے سالوں بعد بھی وہی حالت ہے۔ ایک جھولہ پل جس کی کئی بار منظوری ہوئی لیکن ازسر نو تعمیر نہ ہوسکی۔جو چالیس سال پہلے لگاتھاوہی خستہ حال ہوا۔کچے ڈنگے تھے اور لکڑی اطراف میں لگی تھی۔اب یہ لکڑی بوسیدہ ڈنگے گرچکے ہیں،کچھ گرنے کے قریب ہیں۔قریب ہے کہ رسہ بھی نکل کر کتنے لوگوں کی جان لے گا۔اس کی خبر نہیں لیکن اندیشہ قوی ہے کہ نمائندگان انتظامیہ کو اس حادثے کا انتظار ہے۔انہوں نے کہاکہ اس پل سے نین سکھ بڑی بھیک ڈوبڑا کے علاوہ سینکڑوں ڈھوکوں کے لوگ مال مویشی لیکر گزرتے تھے۔ حالت از وقت یہ ہے کہ ایک انسان کا وزن اس پل کے گرانے کو کافی ہے۔پھر کیسے بھینس، بیل گائے،گھوڑے،اور بکریاں گزر پائیں گئیں؟ 
اس علاقہ میں قریب دس سے پندرہ گاؤں میں چکھڑی سے لیکر بیلابالاتک روڈ کا نکالناتو دور کی بات کسی نے سوچابھی نہیں ہوگا! حلقہ پنچائیت لوہیل بیلہ کی خاتون سرپنچ نے بتایاکہ یہ جھولاپل برسوں پراناہے۔ اس کے دونوں جانب کے ڈنگے گرنے کے قریب ہی ہیں۔اب اس کی مرمت ضروری ہے۔ محکمہ تعمیرات عامہ نے کئی بار کہا اس پل کو پلان میں رکھاجائیگا لیکن ابھی تک وہ پلان کہیں سامنے نہیں آئے ہیں۔ جبکہ اس پل کو تعمیر کرنے سے قبل متبادل پل کی اشد ضرورت ہے۔ اب جو رقم،بیک ٹو ویلیج کے ذریعہ دس لاکھ روپیہ ملاہے جس کا ٹینڈر ہوگیاہے۔ اب جہاں مناسب ہوگاتو اس پل کی مرمت یاپھر متابدل جگہ موٹر ایبل پل ہی تعمیر کروایاجائیگا۔ بیک ٹو ویلیج کے بارے میں فیلڈ ورکر گرام سیوک سلیم احمد نے کہاکہ اب بیک ٹو ویلیج کی رقم کا ٹینڈر لگ چکاہے اور جلد از جلد کام لگ جائیگا۔ وہیں پل کے حوالے سے جب نئے منتخب ضلع ترقیاتی کونسل ممبر چودھری ریاض احمد ناز سے بات کی گئی تو ان کہناتھاکہ یہ پل واقع ہی ضرورت کی جگہ پر ہے اور ان گاؤں کو ملانے کے لئے براچھڑ سے محلہ ڈاراں تک پل دیاجارہاہے جس سے عوام کا رابطہ آسان ہوجائیگا۔ انہوں نے کہاکہ لوہیل بیلہ سے بیلہ،بیلہ سیٹھی،محلہ ڈاراں،ترانگڑ،کیالا،تک سڑک بھی دی جائیگی۔اس پل کے بارے میں جب اسسٹنٹ ایگزیکیٹیو انجنئر محکمہ تعمیرات عامہ انوار خان سے جب بات کی گئی توانہوں نے کہاکہ ابھی تک اس پل کو کس پلان میں نہیں رکھا گیا ہے،البتہ اپریل کے بعد اگر عوام کا تعاون رہا تو اس کو کسی پلان میں رکھ کر منظوری کے بعد عوام کی اس مانگ کو پورا کردیاجائے گا۔
یہ حال کہ ایک گاؤں کے کئی محلہ جات کی عوام کی زندگی کو کس قدر مشکل سے جینے پر مجبور کرتاہوگا؟ وہ عوام ہی جا نتی ہے۔ اب عوام کی امیدوں پر کھرا کون اترے گا؟ اور کون اس موت کے کنویں کو بند کرکے اس جھولہ پل کی ازسر نو تعمیر کو مکمل کرے گا؟ اب یہاں ترقی کیسے ہو جب رابطہ پل ہی نہ ہوں؟ضرورت اس بات کی ہے کہ اب ضلع ترقیاتی کونسل چیئرمین، بلاک ترقیاتی چیئرمین،سرپنچ متعلقہ محکمہ کے آفیسران اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے لوہیل بیلا کے مقام پررابطہ کی تعمیر کو مکمل کروائیں تاکہ عوام کو راحت پہنچے۔ (چرخہ فیچرس)
پتہ ۔اڑائی، منڈی ،پونچھ ،جموںوکشمیر