تازہ ترین

چراغ حسن حسرتؔ کا تخلیقی وجدان

مقالہ

تاریخ    13 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر لیاقت نیرؔ
وادی پونچھ کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس کی گود میں چراغ حسن حسرتؔ کا بچپن اور جوانی دیوانی کے دن گزرے۔یہی اُن کی تعلیم وتربیت ہوئی اور آگے چل کر مولانا نے ستاروں پر کمندیں ڈالنا سیکھا۔مولانا حسرتؔ بڑے مزے کے آدمی تھے۔اصل میں اللہ تعالیٰ حقیقی و تخلیقی بصیرت کی توفیق ہر کسی کو نہیں دیتا ۔ اس کے لئے جگر کا خون اور آنکھوں کا نور صرف کرنا پڑتا ہے۔سینے کی آرزوئیں قُربان کرنی پڑتی ہیں۔موجودہ دور میں فلسفہ معنی ہو کہ فلسفہ حقیقت یا پھرفلسفہ حسن تبدیل ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔حقیقت ہر گز وہ نہیں ہے کہ جو سامنے نظر آ رہی ہے۔’’ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ،،بحرحال پھر بھی ہم تخلیقی بصیرت کے لئے دل کی گہرائیوں سے دُعا کرتے ہیں۔جھوٹ کے سمندر میں بھی سچ کی ایک چمک ہوتی ہے۔ اپناحسن ہوتا ہے۔ ایک شان ہو تی ہے۔ایسے ہی ایک سچے کھرے اور باغ و بہار شخصیت کے مالک چراغ حسن حسرتؔ ہوئے ہیں ۔ لوگ پیار سے اُنھیںلیمپ حسرت بھی کہتے تھے۔
وہ زبردست نقاد ، قادرالکلام شاعر، ادیب ، صحافت ، ظرافت اور مزاح کے شہنشاہ تھے۔ حسرتؔ کے بعد برّ صغیر میں اس پائے کا کوئی صحافی پیدا نہ ہو سکا۔ میرے خیال میںچراغ حسن حسرت کی موت نے اُن کا نام اور زندہ کر دیا۔اُن کی شخصیت اپنی تحریروں میں جاوداں رہے گی۔اُنھوں نے اپنی تحریروں سے اردو کے قد کو بلند کیا ہے۔اردو کے خلاف جب بھی باد مخالف چلی تو ایسے میں حسر ت صاحب کی ذات شمع اردو کے لئے فانوس بن گی۔چراغ حسن حسرت آج ہم میں نہیں مگروہ اردو کی ہر محفل میں ہیں۔
چراغ حسن حسرت کے مضامین میں ظریفانہ کیفیت بہت کمال کی ہے۔ان کی پھلجھڑیاں سنجیدہ سے سنجیدہ مضمون میں بھی پھوٹتی ہوئی نظر آجاتی ہیںاور دل میں گُدگُدی پیدا کرتی ہیں اور کہیں تو پیٹ میں ہنسی کے بل ڈال دیتی ہیں۔بہت ممکن ہے کہ زندگی کی نا ہمواریوں پر حسرت خود بات کریں اور خود ہی قہقہوں میں بھی شامل ہو جائیں یا پھر ایسا ہے کہ اپنی ہنسی میںلوگوں کو بھی شریک کر کے فضا ء زعفران زار بنا  د یں۔اصل میں حسرت ایک بڑے مزاح نگار تھے۔ہمارے اردو کے ظرافت کے علمبرداروں میں چراغ حسن کی حیثیت ایک مینارہ نور کی ہے۔عظیم بیگ چغتائی،رشید احمد صدیقی، فرحت ا للہ بیگ، پطرس بخاری، شفیق الرحمٰن اور کنہیا لال کپور وغیرہ اپنے ہمعصروں میں چراغ حسن حسرتؔ محترم و منفرد ہیں۔طنز و مزاح ہو کہ انشا ء، زبان و بیاں ہو کہ فن،اسلوب ہو کہ تکنیک،نظریہ ہو کہ مواد،معیار ہو کہ مقدار غرض ہر لحاظ سے مومانا حسرتؔلاثانی ولا فانی نظر آتے ہیں۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ’’امروز‘‘ کے ایک بزرگ سب ایڈیٹر چراغ حسن کے پاس ایک مضمون لکھ کر لائے کہ اُسے ادبی کالم میں شامل کیا جائے۔حسرتؔ نے مضمون پڑھا اور پوچھا’’ چراغ حسن یہ ہے کیا ؟سب ایڈیٹر بزرگ نے جواب دیا کہ یہ ایک مزاحیہ مضمون ہے، حسرت بولے’’چراغ حسن پہلے بتا دیا ہوتاتو میں مطالعے کے دوران مسکرانے کی کوشش کرتا‘‘۔
ایک مرتبہ یوں ہوا کہ عبدل مجید سالک اور چراغ حسن حسرت حضرت علامہ اقبال کو ملنے کے لئے گئے۔علامہ اقبا ل جاید منزل کے سامنے والے لان میں پلنگ پر نیم دراز حقّہ پی رہے تھے۔اقبال سالک و حسرت کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔اُن کے چہرے پر بشاشت پھیل گئی۔دیر تک سالک صاحب سے اِدھراُدھر کی باتیں کرتے رہے اور حقّہ پیتے رہے اور پھر حسرت صاحب سے متوجہ ہوئے اور پوچھا :
’’حسرت صاحب آپ کیا سوچ رہے ہیں؟حسرت صاحب نے جواب دیا’’جی میں آپ کے حقّے کی خودی پرغور کر رہاہوں،علامہ اقبال نے بے اختیار ہنستے ہوئے اپنے حقّے کی نَے پہلی بار حسرت صاحب کی طرف موڈ دی‘‘۔
چراغ حسن حسرت کے بارے میں ایک بات بلا خوف و تردید کہی جا سکتی ہے کہ اُن سے بڑا مزا ح نگار،کالم نویس اور طنز نگار آج تک پیدا   نہیں ہوا ۔حسرت صاحب کی عظیم شخصیت کے سائے سے بچ نکلنا بہت مشکل ہے۔اُن کے ہاں شوخی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔وہ کمال کے جملہ باز اوربذلہ سنج تھے۔ایک مرتبہ ایک مشاعرے میںحفیظ جالندھری نے چراغ حسن حسرتؔ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا’’چراغ حسن مصرع اُٹھائیے۔چراغ حسن کھڑے ہو گئے اور فرمایا ’’مُردے اُٹھاتے اُٹھاتے ساری عمر گزرگئی ہے‘‘۔اور جب چیانگ کائی شیک جنگ ہار گیا توچراغ حسن سے میاں افتخار الدین نے پوچھا کہ،،چراغ حسن اب چیانگ کائی شیک کیا کرے گا۔ چراغ حسن نے کہا’’وہ بھی کوئی اخبار نکال لے گا‘‘۔
 چراغ حسن چراغ حسن حسرتؔ بہت کمال کے انسان تھے۔ایک اور بات یاد آگئی ایک مرتبہ یوں ہوا کہ چراغ حسن حسرت نے پاکستان کے ایک وزیر کو خط لکھاجن کا نام لینا یہاں مناسب نہیں ہے۔بہت عرصے کے بعد جواب انگریزی زبان میں آیا، چراغ حسن حسرت ؔ نے اُسے دوبارہ خط لکھا اور فرمایا کہ’’ میں نے آپ کو ماد ری زبان میں خط لکھا اورآپ نے پدری زبان میں جواب دیا، کمال ہے۔ خیر یہ بات تو اُن کی بہت مشہور ہے کہ وہ چند دوستوں کے ہمراہ ایک کافی ہاؤس پر گئے۔کافی کا آڈر دیا۔لیکن کافی آتے آتے بہت دیر ہو گئی۔جب پُرانا بیرا منشی پاس سے گزرا تو اُس سے شکایت کی کہ آڈر دیئے کتنی دیر ہو گئی ہے ۔کافی نہیں آئی۔منشی نے پوچھا ’’کس بیرے کو آڈر دیا تھا وہ تو نہیں جس کے سر کے سارے بال سفید ہیں؟‘‘۔ چراغ حسن حسرت نے سگریٹ کا کش لیا اور بولے’’ چراغ حسن جب وہ آڈر لے کر گیا تھا اُس وقت تو اُس کے سر کے بال کالے تھے ۔اب سفید ہو چکے ہونگے‘‘۔کہتے ہیں کہ سعادت حسن منٹوشراب نوشی کی عادت ترک کرنے کے لئے لاہور کے پاگل خانہ میں داخل ہوئے۔چند روز قیام کے بعد پاگل خانے سے لوٹ کر ایک روز کافی ہاؤس آئے اوراس میز پر آکر بیٹھ گئے جس پر پہلے چراغ حسن اور دو تین حضرات اور بیٹھتے تھے ایک صاحب نے منٹو سے دریافت کیا ’’ منٹو صاحب کیا آپ واقعی پاگل ہو گئے تھے کہ پاگل خانہ میں داخلہ لینے پر مجبور ہو ئے،منٹو ابھی جواب دینے نہ پائے تھے حسرتؔ نے کہا’’ چراغ حسن! منٹو کے پاگل ہونے کایہی ایک واضح ثبوت ہے کہ وہ اس ملک میں افسانہ نگاری کر رہے ہیں‘‘ہائے خائے ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے۔
چراغ حسن حسرتؔ کی زندگی بہت کشمکش سے عبارت ہے۔حسرت نے اپنے گھر میں غربت کی بہار دیکھی تھی۔وہ لاہور سے اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کے لئے پابندی سے پیسے بھجتے رہے۔جس سے گھر چلتا رہا۔اُن کی والدہ کا جب آخری وقت قریب آگیا تو وہ دروازے کی طرف بار بار دیکھتی اور کہتی تھیں کہ’’چاغے نے پیسے نیہہ پُجے‘‘ (چراغ کے پیسے نہیں پہنچے) چراغ کو والدہ پیار سے چاغے کہتی تھیں اور جوں ہی ایک شخص حسرت کے روانہ کردہ پیسے لے کر دروازے سے داخل ہوا۔اُن کی رُوح پرواز کر گئی۔جن سے اُن کا کفن دفن ہوا۔حسرتؔ نے ساری زندگی لاہور میں مکان نہیں بنایا۔کسی نے اُن سے پوچھا کہ چراغ حسن آپ نے یہاں مکان کیوں نہیں بنایا۔حسرت نے کہا مکان ہے نا۔کہاں۔ پونچھ میں ۔مجھے وہی جانا ہے۔ وہاںا ماں کی قبر ہے۔ اُفسوس کہ چراغ حسن حسرت اس کے بعد کبھی پونچھ نہ آسکے۔حسرتؔ ایک بڑے ادیب تھے اُن کے بارے میں فیض احمد فیض فرماتے ہیں کہ
’’بھئی چراغ حسن ایک باغ و بہار شخصیت تھے جان محفل تھے۔زندگی کی شاید ہی کوئی گلی ہو جہاں سے چراغ حسن نہ گزرے ہوںوہ زندگی کے ہر نکڑ پر اپنے منفرد انداز میں کھڑے ملیںگے۔آدھی سے زیادہ زندگی اُنھوں نے ترنگ میں گزاری اور بقیہ جنگ میں۔وہ ہمیشہ بے باک اور نڈر رہے۔میدان صحافت میں وہ سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔اُنھوں نے عمدہ اور پُر مغزہلکے پھلکے با مقصد فکاہی کالم لکھنے کو ایک نئی بلندی سے ہمکنار کیا۔۔۔بھئی ہم چراغ حسن چراغ حسن حسرت کے بہت قائل ہیں۔امروز کو جس ٹھاٹھ سے اُنھوں نے نکالااور سنبھالا وہ ایک یاد گار کارنامہ ہے۔اردو صحافت میں چراغ حسن ظفر علی خان اُن سے تھوڑا آگے تھے ورنہ آج تک اس میدان میں اُن کا ہم پلّہ بّر صغیر میں پیدا نہیں ہوا‘‘۔
بحرحال حسرت کو پڑھتے ہوئے ان کے علمی تجر اور عصری شعور کا احساس ہر جگہ نمایاں ہوتا ہے۔علاوہ برایںاس بات میں بھی کوئی شک نہیںہے کہ حسرتؔ نے زندگی سے آنکھیں چار کی ہیں اور اپنے پڑھنے والوں کو بھی حوصلہ دیا ہے۔اُنھوں نے زندگی کے ہر رنگ سے محبت کی ہے۔بڑی بات یہ ہے کہ اُنھوں نے زندگی کے مشکل چیلنجوںکا سامنا کیا ۔وہ دلِ دردِ آشنا رکھتے تھے۔اُن کی ذاتی زندگی غم و الم سے عبارت ہے ۔انھوں نے سب کچھ خاموشی سے سہا۔ان کی اکثر تحریروں میں مناظر جیتے جاگتے اور مہکتے لہکتے دکھائی دیتے ہیں۔وہ مناسب لفظوں کا استعمال کرتے ہیں۔مصرعوں کی دروبست سے وہ اپنی صدا بہار تحریروں کو تازہ اور رُوح پرور بنا تے ہیں۔وہ شاعری میں بھی بہت منفرد مقام رکھتے ہیں۔اُنھوں نے شاعری میں روایت پسندی اور تجربہ پسندی کے امتزاج سے ایک نیا رنگ و آہنگ پیدا کیا۔وہ جدید شعراء میں سب سے زیادہ روایت کا شعور رکھتے ہیں۔ چراغ حسن حسرتؔ کے ہاں موضوعات میں بے پناہ تنوع ملتا ہے اور اُنھیں اظہار پر تو غیر معمولی قدرت حاصل تھی۔
اردو کا یہ پُر جوش مجاہد اور زبان کے حقوق کی باریابی کی جہد و جہد میں ہمیشہ سینہ سپر رہنے والاجس نے اردو کے لئے اپنی صحت تج دی۔ڈاکٹروں نے کہا کہ وہ لکھنا بند کر دے چراغ حسن حسرت نے کہا میں خود کشی کر لوں کیا ۔وہ آخری سانسوں تک اردو زبان کے لئے لکھتے بھی رہے اور عملی جہد و جہد بھی کرتے رہے۔حسرت صاحب نے ایک طرف اردو کے لئے لڑائی لڑی اور دوسری طرف موت سے پنجہ آزمائی کی۔ اُن کا آخری فکاہی کالم۲۶ جون ۱۹۵۵ کے نوائے وقت میں شائع ہوا۔اسی دن دوپہر ڈہڑھ بجے پاس والی مسجد سے یہ اعلان ہوا کہ ابھی ابھی چراغ حسن چراغ حسن حسرتؔ راہی ملک عدم ہو چکے ہیں۔اُن کی نماز جنازہ میں شرکت فرما کر ثواب دارین حاصل کریں۔ 
 کہاں کہاں دلِ صد چاک اشک خوں روئے
 دبے ہیں سینکڑوں افلاک ان زمینوں میں
رابطہ۔اسسٹنٹ پروفیسربابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری،جموںوکشمیر

تازہ ترین