تازہ ترین

کام کے بدلے معاوضہ: سال 2017-18منریگام سکیم کا کیا ہوا؟ | مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات 3سال سے التوا میں، ہزاروں مزدوروں کی مزدوری بقایا، ٹھیکیدار بھی پریشان

تاریخ    12 اپریل 2021 (00 : 12 AM)   


اشفاق سعید
 سرینگر //عوامی حکومت کے دوران سال2017.18میں منریگا سکیم کے تحت کئے گئے کروڑ وں کاموں کی بلیں واگزار نہیں ہو سکی ہیں جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں مزدور اس پیسے سے محروم ہیں جبکہ ٹھیکیدار بھی بنکوں کے بھاری بوج تلے دبے ہوئے ہیں کیونکہ کاموں کو مکمل کرنے کیلئے خریدے گئے میٹریل کا ایک بھی پیسہ انہیں نہیں ملا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سال2017.18میں کئے گئے کروڑوں روپے کے کاموں کی رقوم کی واگزری کیلئے مرکزی سرکار کولکھ دیا گیاہے اور جیسے ہی وہاں سے منظوری ملے گی پیسہ واگزر کر دیا جائے گا تاہم انہوں نے کہا کہ اس پیسے پر اس وجہ سے روک لگا دی گئی ہے کیونکہ ان کاموں میں قواعد ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔جموں وکشمیر کے تمام اضلاع میں سال2017.18کے دوران منریگا سکیم کے تحت بہت سے علاقوں میں سڑکیں اور دیگر تعمیراتی کام کرائے گئے لیکن ان کی بلیں ابھی تک ٹھیکیداروں اور مزدوروں کو واگزار نہیں کی گئیں۔اب نہ صرف مزدور بلکہ ٹھیکیدار بھی تین برس گزرنے کے باوجود بھی دھول چاٹ رہے ہیں۔کئی غریب مزدوروں نے کہا کہ2017.18میں جب منریگا سکیم کے تحت کاموں کا پلان مرتب کیا گیا  تو انہیں بتایا گیا کہ منریگا سکیم کے تحت رقومات بغیر کسی مشکل کے واگزار کی جائیں گی، لیکن  ایسا نہیں کیا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ 2017.18کے بعد سرکار نے نئے کاموں کیلئے پیسہ واگزر کیا اور اس میں کسی بھی قسم کی روک نہیں لگائی جبکہ 2017.18میں جو کروڑوں روپے کے کام ہوئے، ان کی رقومات واگذار نہیں کی گئیں۔ مرکزی سرکار کی طرف سے غریب و مزدور طبقہ کے لیے سو دن کا روزگار’ ایم جی نریگا سکیم‘ متعارف کرائی گئی۔ پورے  ملک میں اس سکیم نے انقلاب برپا کردیا ہے لیکن جموں کشمیر میں یہ اپنا مقصد حاصل نہ کرسکی۔2017.18میں سو دن کا روزگار یعنی جاب کارڈ ہولڈروں نے اپنا خون پسینہ بہا کر محنت و مزدوری سے کام کیا لیکن لوگوں کو ابھی تک پیکام کے بدلے معاوضہ نہیں دیا گیا۔ مرکزی سرکار نے کہا ہے کہ ان کاموں میں قوائد ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی ہے ۔