تازہ ترین

شوپیان اور بجبہاڑہ مسلح تصادم آرائیاں ختم | 5جنگجو جاں بحق | 72گھنٹوں میں شوپیان، پلوامہ اور اننت ناگ اضلاع میں12عساکر مارے گئے

مہلوکین میں4سال سے سرگرم 2جنگجو اور محض4روز قبل ہتھیار اٹھانے والا کمسن بھی شامل

تاریخ    12 اپریل 2021 (00 : 12 AM)   
(عکاسی: میر وسیم)

شاہد ٹاک+عارف بلوچ
شوپیان+اننت ناگ// چتراگام زینہ پورہ شوپیان اور بجبہاڑہ اننت ناگ میں اتوار کومسلح تصادم آرائیاں اختتام پذیر ہوئیں۔دونوں جگہوں پر 5جنگجو جاں بحق ہوئے جن میں 2دیرینہ جنگجو بھی شامل ہیں، جو قریب 4سال سے سرگرم تھے۔ مسلح تصادم آرائیوں میں ایک رہائشی مکان اور میوہ باغ میں تعمیر کیا گیا ایک پختہ شیڈ شامل ہے۔دو فوجی اہلکار زخمی بھی ہوئے جن میں ایک کو شدید چوٹیں آئیں۔گذشتہ 72 گھنٹوں کے دوران شوپیان میں 8، ترال میں 2اور بجبہاڑہ میں 2جنگجو جاں بحق ہوئے۔ مہلوک جنگجوئوں میں ایک 15سالہ دسویں جماعت کا طالب علم بھی شامل ہے، جس نے محض 4روز قبل ہتھیار اٹھائے تھے۔
شوپیان
چتراگام زینہ پورہ شوپیان میں 12گھنٹے کے بعد مسلح جھڑپ ختم ہوئی جس میں 3مقامی جنگجو جاں بحق ہوئے اور 2فوجی اہلکار زخمی ہوئے جن میں ایک کو سرینگر بادامی باغ منتقل کردیا گیا۔ یاد رہے کہ  پولیس نے سنیچر کو بتایا تھا کہ پہاڑی ضلع شوپیان کے چتراگام زینہ پورہ نامی گائوں میں جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد34آر آر،178بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس کے خصوصی دستے نے ستراجن کے وسیع میوہ باغات کا محاصرہ کیا اور سخت ترین ناکہ بندی کر کے میوہ باغات میں موجود عارضی تعمیراتی ڈھانچوں کی تلاشیاں لیں۔پولیس کے مطابق انہیں اس بات کی اطلاع ملی تھی کہ ایک میوہ باغ میں موجود میوہ سٹور کرنے کیلئے بنائے گئے ایک پختہ شیڈ میں 3جنگجو موجود ہیں۔پولیس کے مطابق مشتر کہ طور پرجب تلاشی آپریشن شروع کی گئی تو جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا جو کچھ دیر تک جاری رہا جس میں ایک جنگجو جاں بحق ہوا ۔فائرنگ کے تبادلے میں 2فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس نے بتایا کہ جب ایک جنگجو کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ محض 14یا پندرہ سال کا ہوگا، جو دسویں میں زیر تعلیم تھا، جب اس نے چار روز قبل ہتھیار اٹھائے ۔تو اس کی ماں اور دیگر رشتہ داروں کو یہاں لایا گیا جس کے بعد آپریشن بند کیا گیا اور جنگجوئوں کو ہتھیار ڈالنے کی پیش کش کی گئی۔ رات دیر گئے تک جنگجوئوں، جن کی تعداد دو کے قریب تھی، کو ہتھیاروں کے بغیر باہر آنے کیلئے کہا گیا لیکن انہوں نے انکار کیا۔اسکے بعدعلاقے میں روشنی کا انتظام کیا گیا اور آپریشن کو اتوار کی صبح تک ملتوی کردیا گیا ہے۔رات بھر نو بھرتی ہوئے جنگجو اور اسکے ساتھی کو ہتھیار ڈالنے پر قائل کرنے کی بہت کوششیں کی گئیں لیکن وہ انکاری رہے۔اتوار کی صبح آپریشن شروع کیا گیا جس کے دوران طرفین میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور دونوں جنگجو جاں بحق ہوئے۔ اس طرح اس پورے آپریشن کے دوران 3مقامی جنگجو جاں بحق ہوئے۔ جنگجوئوں کی شناخت عبید فاروق ولد فاروق احمد ساکن گنائوپورہ آرش شوپیان کے طور پر ہوئی جو،24دسمبر 2020 کو جنگجوئوں میں صف میں شامل ہوا تھا۔ آصف بشیر ولد بشیر احمد گنائی ساکن چتراگام شوپیان نے21جولائی 2020 میں ہتھیار اٹھائے تھے۔تیسرا جنگجو 15سالہ فیصل گلزار ولد گلزار احمد گنائی ساکن چتراگام تھا جس نے6اپریل 2021 میں ہتھیار اٹھائے تھے۔مذکورہ نو بھرتی ہوئے کم عمر جنگجو چار بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا ۔
بجبہاڑہ
 سمتھن بجبہاڑہ میں سنیچر کی شام سے شروع ہوئی جھڑپ اتوار کی صبح 2جنگجوئوں کی ہلاکت پر ختم ہوئی۔پولیس کے مطابق انہیں سنیچر سہ پہر 4بجے جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملی جس کے 3آر آر، 90بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے محاصرہ کیا اور تلاشی کارروائی کا آغاز کیا لیکن 5بجکر 10منٹ پر جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان فائرنگ کا  تبادلہ ہوا جو کچھ دیرتک جاری رہا لیکن اسکے بعد خاموشی چھا گئی۔یہاں رات دیر گئے تک آپریشن جاری تھا لیکن طرفین میں کوئی فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا تھا۔پولیس و فورسز نے ناکہ بندی کر رکھی اورعلاقے میں روشنی کا انتظام کیا گیا ۔شہری ہلاکتوں کے خدشے کے پیش نظر آپریشن اتوار کی صبح  دوبارہ شروع کیا گیا اور ایک مکان میں موجود جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان کئی گھنٹوں تک مسلح تصادم آرائی جاری رہی جس میں 2جنگجو جاں بحق ہوئے جن کی لاشیں حاصل کی گئیں۔ مسلح جھڑپ میںایک تین منزلہ رہائشی مکان تباہ ہوا جبکہ ایک مکان کو جزو ی نقصان پہنچا۔مہلوک جنگجوئوں کی شناخت توصیف احمد بٹ ولد محمد رمضان ساکن تکیہ مقبول شاہ بجبہاڑہ اور عامر حسین گنائی ولد عبدا لرشید ساکن گوری وان بجبہاڑہ کے طور پر ہوئی۔ توصیف 2017 سے متحرک تھا اور عامر سال 2018 میں جنگجوئوں کی صفوں میں شامل ہوا تھا۔
 

ماگام بیروہ میں جنگجو نمودار | سابق SPOکو ہلاک کردیا

ارشاد احمد
 
سرینگر// ماگام بیروہ میں مشتبہ جنگجوئوں نے ایک سابق ایس پی او کو گولی مارکر ہلاک کردیا۔ اتواربعد دوپہر نامعلوم مشتبہ جنگجوئوں نے 35 سالہ نصیر احمد خان ولد غلام محمد ساکنہ بچھی پورہ مازہامہ ماگام پر گولیاں مار کر شدید زخمی کردیا جسے فوری طور پر سب ڈسٹرکٹ ہسپتال ماگام منتقل کیا گیا جہاں موجود ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔ پولیس نے بتایا کہ مہلوک پولیس میں بطور ایس پی او تعینات تھا لیکن5سال قبل استعفیٰ دیا تھا۔ مہلوک اپنے پیچھے دو بچے اور اہلیہ چھوڑ گیا ہے۔پولیس نے معاملے کی نسبت کیس زیر نمبر49/2021درج کر کے ملوثین کی تلاش شروع کردی ہے۔ایس ایس پی بڈگام طاہر سلیم نے کہاکہ جنگجوئوں نے ایک عام شہری پر گولی مار ہلاک کر دیا ۔بتایا جاتا ہے کہ مہلوک شخص کا بھائی بھی پولیس میں کام کررہا ہے۔لیکن اسکی تصدیق نہیں ہوسکی۔
 
 
 

انصار غزوۃ الہند کا خاتمہ ہوگیا:ڈی جی | مسلح نوجوان تشدد ترک کریں: آئی جی پی

بلال فرقانی
سرینگر//جموں کشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا ہے کہ مہلوک جنگجو پولیس و سیکورٹی ایجنسیوں کو کافی کیسوں میں انتہائی مطلوب تھے جبکہ گزشتہ دنوں بجبہاڑہ میں فوجی اہلکار کی ہلاکت میںبھی وہ ملوث تھے ۔ شوپیان اور بجبہاڑہ میں دو مزید جھڑپوں میں پانچ جنگجوئوںکی ہلاکت کے بعددلباغ سنگھ نے کہا کہ گزشتہ 72گھنٹوں میں چار مسلح جھڑپوں میں 12 جنگجو جاںبحق ہو گئے جو انصار غزۃ ہند ، البدر اور لشکر طیبہ سے وابستہ تھے ۔ انہوںنے کہا کہ7 جنگجو انصار غزوۃ الہند سے وابستہ تھے جن میں تنظیم کاچیف کمانڈر بھی شامل تھا ۔ انہوںنے کہا کہ 3 جنگجو البدر سے جبکہ دو جنگجو لشکر سے وابستہ تھے ۔ لشکر کے دو جنگجوئوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ وہ انتہائی مطلوب جنگجو تھے اور وہ 9اپریل کو بجبہاڑہ میں ٹیر ٹیورل فوجی اہلکار کی ہلاکت میںملوث تھے ۔ انہوںنے کہا کہ وہ کافی عرصہ سے سرگرم عمل تھے اور پولیس و سیکورٹی ایجنسیوں کو انتہائی مطلوب تھے ۔ انہوںنے کہا کہ7انصار غزوۃ الہند کے جنگجو ترال اور شوپیان میںمارے گئے جس کے ساتھ ہی تنظیم کا مکمل خاتمہ ہوا جبکہ تین البدر جنگجو ہٹی پورہ شوپیان میںمارے گئے ۔پولیس کے مطابق امسال ابھی تک  36جنگجو مختلف جھڑپوں میںمارے جاچکے ہیں جن میں 19شوپیان ضلع سے تعلق رکھتے تھے ۔ آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے ایک بار پھر عسکری صفوں میں شامل ہونے والے تمام نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کریں اور قومی دھارے میں واپس آجائیں کیونکہ معاشرے کو ان کی ضرورت ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان کے والدین کو بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ان کا خیرمقدم کریں گے اور انہیں کھلے عام اسلحہ سے قبول کریں گے۔