تازہ ترین

چار اپریل 2020سے پانچ اپریل 2021تک

یمنا کنارے

تاریخ    12 اپریل 2021 (00 : 12 AM)   


سہیل انجم
خاکسار کو اپنی چھ دہائیوں کی عمر میں یہ یاد نہیں پڑتا کہ اس سے پہلے کبھی ایک سال کے درمیان اتنی اہم مذہبی، علمی وادبی شخصیات نے عالم فانی سے عالم بقا کے لیے رخت سفر باندھا ہو۔ چار اپریل 2020 سے لے کر پانچ اپریل 2021کے درمیان اتنی علمی شخصیات دنیا سے اٹھ گئیں کہ اگر ان کی صرف فہرست سازی کی جائے تو کئی صفحات درکار ہوں گے۔ چار اپریل 2020 کو طنز و مزاح کے معروف شاعر اسرار جامعی کا دہلی میں انتقال ہوا جو ایک عرصے سے صاحب فراش تھے۔ چار اپریل 2021 کو ماہنامہ شاعر کے مدیر افتخار امام صدیقی دنیا سے چل بسے اور پانچ اپریل 2021 کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے مرکز برائے مطالعات اردو ثقافت و نظامت ترجمہ و اشاعت کے ڈائرکٹر پروفیسر ظفر الدین کا اچانک حیدرآباد میں انتقال ہو گیا۔ اس سے دو روز قبل یعنی تین اپریل کو ملک کے جید عالم دین اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا سید ولی رحمانی دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ اور چھ اپریل کو ماہر تعلیم رفیق زکریا مرحوم کی بیوہ ماہر تعلیم فاطمہ زکریا نے بھی رخت سفر بادھ لیا۔ اس سے ایک روز قبل یعنی پانچ اپریل کو معروف دانشور ادیب و مصنف پروفیسر انیس چشتی رخصت ہو گئے ۔ جبکہ اس ایک سال کے دوران جو اہم شخصیات ہم سے جدا ہو گئیں ان میں شمس الرحمن فاروقی، ڈاکٹر کلب صادق، مفتی سعید احمد پالنپوری دیوبند، گلزار دہلوی، پروفیسر ولی اختر ندوی ڈی یو، مولانا رفیق قاسمی (جماعت اسلامی)، حافظ محمد یحیٰ (سابق امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند)، پروفیسر مظفر حنفی، عظیم امروہوی، طنز و مزاح نگار نصرت ظہیر، پروفیسر ظفراحمد صدیقی، کانگریس رہنما احمد پٹیل، مولانا جنید بنارسی، ڈاکٹر حنیف ترین، مرکز الدعوۃ الاسلامیہ ڈومریا گنج کے بانی ڈاکٹر عبد الباری، مولانا محمد مقیم فیضی ممبئی اور معروف حکیم عبد الحنان دہلی قابل ذکر ہیں۔ جبکہ اس قافلے میں شامل ہونے والوں میں مدارس و مکاتب میں تدریسی، تصنیفی و علمی خدمات انجام دینے والی ایسی بے شمار شخصیات بھی ہیں جن میں سے کئی کو نابغۂ روزگا رکا درجہ حاصل تھا۔ جانے والوں میں متعدد شخصیات کرونا جیسی خطرناک وبا کی شکار ہوئیں تو کئی اپنی طبعی عمر کو پہنچ کر دنیا سے سدھار گئے۔
یقیناً ان میں سے بہتوں کا جانا ملک و ملت کے ساتھ علمی دنیا کا بھی زبردست خسارہ ہے۔ مولانا سید ولی رحمانی کی رحلت نے ایک ایسا خلاء چھوڑا ہے جو جلد پُر ہونے والا نہیں ہے۔ وہ عہد حاضر میں ملت اسلامیہ کی چند قابل ذکر شخصیات میں سے ایک تھے۔ ان کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ وہ ایک بیباک، بے خوف، بے لاگ اور حق گو انسان تھے۔ انھوں نے اپنے والد گرامی مولانا منت اللہ رحمانی کی علمی، روحانی، سیاسی و سماجی وراثت کو نہ صرف سنبھالا بلکہ اس کو مزید آگے بڑھایا۔ وہ امارت شرعیہ بہار اڑیسہ و جھارکھنڈ کے ساتویں امیر، خانقاہ رحمانی مونگیر کے سجادہ نشین اور جامعہ رحمانی مونگیر کے سربراہ تھے۔ ان کا دائرہ عمل صرف مذہبی تعلیم تک محدود نہیں تھا بلکہ عصری تعلیم کے میدان میں بھی انھوں نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ اس کا ثبوت رحمانی۔30 ہے۔ جس کے تحت مقابلہ جاتی امتحانوں کے لیے غریب و مفلوک الحال طلبہ کی کوچنگ کی جاتی ہے اور جس نے کامیابی کے کئی سنگ میل نصب کیے ہیں۔ وہ سیاسی میدان کے بھی شہسوار تھے۔ برسوں تک بہار قانون ساز کونسل کے رکن یعنی ایم ایل سی رہے۔ سیاسی سوجھ بوجھ میں مہارت حاصل تھی۔ کسی بھی سرکاری فیصلے کے پس پردہ عزائم و وجوہات کو بہت جلد سمجھ لیتے تھے۔ وہ انتہائی دوراندیش تھے اور اپنی بات بلا جھجک کہنے کا ہنر جانتے تھے۔
وہ جہاں معاشرے کے تمام طبقات میں انتہائی مقبول تھے وہیں صحافیوں سے بھی ان کے بہت اچھے مراسم تھے۔ ان سے خاکسار کی شناسائی تقریباً تین دہائیوں پر محیط ہے۔ جب بھی کسی معاملے پر ان کا رد عمل جاننے کے لیے میں نے ان کو فون کیا تو انھوں نے فوراً جواب دیا۔ دہلی میں جب بھی ان سے ملنے کا اتفاق ہوا تو میں نے دیکھا کہ وہ اپنے چاہنے والوں کے جھرمٹ میں ہیں۔ ان کی شخصیت میں بڑی دلآویزی تھی۔ خوش گفتار بھی تھے اور بااخلاق تھے۔ نکتہ رسی میں بھی مہارت تھی۔ بات بات میں ایسی بات کہہ جاتے تھے کہ محفل قہقہہ زار ہو جاتی۔ ان کی خرد نوازی یا دوست نوازی کے سلسلے میں ایک ذاتی معاملے کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ یہ غالباً سنہ 2000 کے آس پاس کا واقعہ ہے۔ مجھے ایک ذاتی معاملے میں ان کی خدمات درکار تھیں۔ میں نے ہم دونوں کے ایک مشترکہ دوست مفتی عطاء الرحمن قاسمی صاحب سے اس کا ذکر کیا۔ ان کا بڑا پن دیکھیے کہ وہ مفتی صاحب کے ساتھ ذاکر نگر میں واقع میری رہائش گاہ پر تشریف لے آئے۔ اس وقت میں ایک کرائے کے مکان میں جو کہ محض ایک روم کا سیٹ تھا، فیملی کے ساتھ رہتا تھا۔ انھوں نے تقریباً نصف گھنٹہ گزارا۔ اس وقت مجھے ان کے مجاہدے کا علم ہوا اور یہ بھی علم ہوا کہ انھوں نے کتنی دشواریوں سے سلوک کی راہیں طے کی ہیں۔ انھوں نے اس سلسلے میں متعدد واقعات بیان کیے۔ انھوں نے اس وقت شیطانی آفات و بلیات سے محفوظ رہنے کے لیے جو دعا بتائی تھی وہ آج بھی میرے اوراد میں شامل ہے۔ بہرحال اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے اور انھیں جنت الفردوس میں مقام عطا کرے۔ آمین۔
اب چند باتیں پروفیسر ظفرالدین کے بارے میں۔ ظفرالدین مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد جانے سے قبل دہلی کے روزنامہ قومی آواز میں تھے۔ وہ اس اخبار میں بطور کاتب آئے تھے۔ اس وقت تک ان کی تعلیم زیادہ نہیں تھی۔ لیکن انھوں نے محنت کی اور اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھا۔ گریجویشن کیا، پوسٹ گریجویشن کیا اور پھر پی ایچ ڈی کی۔ میں جس وقت قومی آواز میں پہنچا وہ شعبۂ کتابت سے شعبۂ رپورٹنگ میں جا چکے تھے۔ اخبار کے ایڈیٹر موہن چراغی میں یہ خوبی تھی کہ اگر کوئی باصلاحیت ہے تو وہ اس کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ وہ تعلیم کے حصول کے بڑے طرفدار تھے۔ اسی لیے جب انھوں نے دیکھا کہ ظفر الدین کتابت کے ساتھ ساتھ اپنی عصری تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں تو کچھ لوگوں کی سفارش پر انھوں نے انھیں شعبۂ رپورٹنگ میں بھیج دیا۔ پہلے وہ دہلی یونیورسٹی کی سرگرمیوں کی رپورٹنگ کرتے رہے اور پھر بعد میں دوسرے میدانوں کی بھی رپورٹنگ کی۔ دفتر قومی آواز کے بڑے سے ہال میں ایک طرف کاتب بیٹھتے تھے اور دوسری طرف ایڈیٹر، سب ایڈیٹر اور پروف ریڈر بیٹھتے تھے۔ شام میں کام ختم ہونے کے بعد سب ایڈیٹروں کی ڈیسک پر کاپی جوڑی جاتی تھی۔ اس ہال کے تین اطراف میں گیلری تھی اور ایک گیلری سے متصل کئی کمرے تھے۔ جن میں سے ایک کمرے میں جو کہ شفٹ انچارج کی پشت کی جابب تھا بیورو تھا۔ اس میں نمائندہ خصوصی شاہد پرویز، چیف رپورٹر نصرت ظہیر، رپورٹر چندر بھان خیال اور ظفر الدین بیٹھتے تھے۔ چونکہ شاہد پرویز سے میرے اچھے تعلقات تھے اس لیے کام سے فارغ ہو کر میں اس کمرے میں پہنچ جاتا اور وہاں ہونے والی گفتگو سے لطف اندوز ہوتا۔ وہیں ظفر الدین کی صلاحیتوں کا اندازہ ہوا۔ اس وقت تک ان کی پی ایچ ڈی مکمل نہیں ہوئی تھی۔ کچھ دنوں میں انھیں پی ایچ ڈی کی ڈگری ایوارڈ ہو گئی اور وہ ڈاکٹر ظفرالدین ہو گئے۔ اسی درمیان حیدرآباد میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا۔ ا س کے پہلے وائس چانسلر پروفیسر محمد شمیم جیرجپوری مقرر ہوئے۔ ڈاکٹر جیراجپوری جناب شاہد پرویز کے قریبی رشتے دار ہیں۔ ان کی کوششوں سے ظفر الدین کا تقرر یونیورسٹی میں ہو گیا اور وہ وہاں کے پہلے پبلک ریلیشن آفیسر (پی آر او) بنائے گئے۔ اس کے بعد جب ترجمے کا شعبہ قائم ہوا تو انھیں اس کاسربراہ بنا دیا گیا۔ پھر تو انھوں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور کئی شعبوں کے ذمہ دار ہو گئے۔ سال 2019 میں وہاں ایک سمینار میں جانے کا اتفاق ہوا۔ میں نے ظفر الدین صاحب کو فون کیا تو انھوں نے بتایا کہ ان دنوں میں وہ حیدرآباد سے باہر رہیں گے۔ لیکن بہرحال ان سے برابر رابطہ قائم رہا۔ وہ یونیورسٹی کا سہ ماہی ادبی رسالہ ’’ادب و ثقافت‘‘ جس کے وہ مدیر بھی تھے برابر بھیجتے رہے۔ پانچ اپریل کو دن میں صحافی معصوم مرادآبادی نے فون کرکے کہا کہ ظفر الدین کے انتقال کی خبر سنی ہے، ذرا ان کے بھائی پروفیسر شہزاد انجم سے کنفرم کیجیے۔ میں نے شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدر پروفیسر شہزاد انجم کو فون کیا تو انھوں نے پہلا جملہ یہی کہا کہ بھائی سہیل انجم دعائے مغفرت کیجیے۔ اس سے آگے کچھ کہنے سننے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ میں نے سابق قومی آواز کے متعدد کارکنوں کو بذریعہ فون اس ناگہانی موت کی اطلاع دی۔ میرے پاس بھی کئی لوگوں کے فون آئے۔ ظفر الدین کی عمر کوئی زیادہ نہیں تھی۔ یہی کوئی 54 سال۔ عمر کے اس عرصے میں انھوں نے بڑے کام کیے اور کامیابی کے متعدد مراحل طے کیے۔ اگر ان کی زندگی کے ایام کچھ اور ہوتے تو وہ یقیناً کچھ اور بھی نمایاں کارنامے انجام دیتے۔ اللہ تعالی ان کے بھی درجات کو بلند فرمائے اور انھیں بھی جنت الفردوس میں مقام عطا کرے۔ آمین۔
موبائل نمبر۔ 9818195939