تازہ ترین

جاہ کی چاہ نہیں خواہش ِ منصب بھی نہیں

متاع حیات

تاریخ    12 اپریل 2021 (00 : 12 AM)   


نثاراحمد حصیر القاسمی
سیاسی میدان ہو یا سماجی ، معاشی شعبے ہوں یا تعلیمی ، دینی درسگاہیں ہوں یا ملی ادارے، مذہبی تنظیمیں ہوں یا سرکاری محکمے، ہر جگہ عہدئہ ومنصب کے حصول کی دوڑ لگی رہتی ہے، خواہش ہوتی ہے  کہ ان اداروں ومحکموں کی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے انہیں مقدم رکھا جائے ، انہیں اس کا صدر ومنتظم اعلیٰ بنا دیا جائے، ان کی یہ خواہش یا تگ ودو یا تو دوسروں کے تسلط سے آزادی حاصل کرنے کے مقصد سے ہوتی ہے یا عزت وشرف ، شہرت اور دنیوی مفادات واغراض کے حصول کے لیے ہوتی ہے جبکہ انہیں بخوبی علم ہوتا ہے کہ اس ذمہ داری وصدارت اور عہدئہ ومنصب کے آخرت میں کیا نتائج برآمد ہونے والے ہیں، بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو عہدہ ومنصب کی خواہش محض رضاء الٰہی اور اسلام ومسلمانوں کی بھلائی کے لئے رکھتے ہیں۔ 
جاہ کی چاہ نہیں خواہش منصب بھی نہیں
میرے اندر کوئی درویش ہوا چاہتا ہے
بنیادی طور پر اسلام نے عہدہ ومنصب کے حصول کی تگ ودو ، جدوجہد اور مطالبے کی مذمت کی اور اس سے روکا ہے، بے شمار احادیث کے اندر رسول اللہ علیہ وسلم نے اس کی طلب سے سختی سے منع کیا ہے۔ صحیح بخاری کی روایت ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلعم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک تم لوگ امارت یعنی اقتدار وسرداری کی لالچ کروگے اور یہ قیامت کے دن باعث ندامت ہوگی، پس کیا ہی بہتر ہے دودھ پلانے والی اور بری ہے دودھ چھڑا دینے والی۔ (بخاری کتاب الاحکام: 6682)
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی امارت وسرداری پر فائز ہونے کے باوجود کنبہ پروری ورشتہ داری کو ترجیح دینے اور دنیوی اغراض ومقاصد حاصل کرنے اور شہرت وبڑائی کی طلب سے محفوظ رہا اور عدل وانصاف سے کام لیتا رہا تو بلا شبہ وہ عذاب آخرت سے محفوظ رہے گا۔ اور یہ اسی طرح بہت مشکل ہے جس طرح کانٹے میں پھنسے ہوئے کپڑے کو خراش آئے بغیر نکالنا  دودھ پلانے والی کا بہتر ہونے اور چھڑانے والی کا برا ہونے سے امارت وحکومت کے ملنے اور ہاتھ سے جاتے رہنے کی طرف اشارہ ہے۔
فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلعم زمانہ جاہلیت کے کارناموں اور قابل فخر باتوں کا خاتمہ کیا ، البتہ بیت اللہ کی خدمت اور دیکھ بھال بنو شیبہ کے لئے اور حاجیوں کو پانی پلانے کی روایت بنو ہاشم کے لئے باقی رکھا۔ آپ کے چچا حضرت عباس یا حضرت علی رضی اللہ عنہما کی خواہش ہوئی کہ انہیں یہ شرف حاصل ہوجائے اور یہ دونوں خدمات ان کے سپرد کردیئے جائیں، مگر اللہ کے نبی صلعم نے ایسا نہیں کیا جبکہ اس وقت آپ کے اختیار وقدرت میں تھا کہ آپ جسے چاہیں ان خدمات کے لئے منتخب فرما لیں۔ مگر آپ صلعم نے چابی عثمان بن طلحہ کو واپس کردی اور ان حضرات سے فرمایا کہ میں آپ کو وہ ذمہ داری دے رہا ہوں جو زیادہ بہتر ہے۔ یعنی پانی پلانا جس میں آپ کو خرچ کرنا ہوگا۔ خرچ وصول کرنا نہیں ہوگا کیونکہ پلانے میں خرچ کرنا اور دینا تھا جس کا صلہ ملے گا اور بیت اللہ کی نگہداشت وتولیت میں خرچ کچھ نہیں تھا بلکہ مادی منفعت تھی۔
گویا دین کی خدمت بے لوث ہونی چاہیے جو محض رضائے الٰہی کے مقصد سے ہو ، اس میں اقتدار وحکمرانی تسلط وجاہ وجلال اور عہدہ ومنصب کی لالچ نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی دنیوی اغراض ومفادات اور شہرت ورفعت کا جذبہ ہونا چاہیے کیونکہ عمل اگر خالص اللہ کی رضا وخوشنودی کے لئے ہوگی تو اس میں اللہ کی نصرت ومدد شامل حال ہوگی لیکن اس کے برعکس اگریہ چاہت وجدوجہد دنیوی اغراض ‘مادی منفعت  اور طلب جاہ ومنصب جیسے مقاصد سے ہوںگے تو اس میں انسان ٹھوکریں کھائے گا، کہ غیر اللہ کی طرف التفات کا یہ لازمی نتیجہ ہے۔ 
عزت وجاہ کی طلب ، اقتدار وحکمرانی ، مال واسباب ، ادارہ وتنظیم  کی صدارت وسیادت کے ذریعہ پر خطر معاملہ ہے جو عام طور پر آخرت کی بھلائی اور داربقاء کی عزت وشرف سے دور کردیتا ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلعم نے مجھ سے فرمایا : اے عبدالرحمن بن سمرہ امارت واقتدار کا طالب نہ بننا ، اس لئے کہ اگر سوال پر یعنی طلب کرنے پر اور اس کی جدوجہد وکدوکاوش کے بعد تجھے امارات وذمہ داری دی گئی تو وہ تیرے ہی سپرد رہے گی، یعنی تیرے حریص ہونے کی وجہ سے تیری مدد نہیں ہوگی اور اگر تمہیں بغیر مانگے دی گئی تو اس میں تمہاری مدد کی جائے گی۔ (بخاری کتاب الاحکام،   6680، مسلم 1652 ، کتاب الامارہ)
اللہ کے نبی صلعم کا طریقہ تھا کہ جو عہدہ ومنصب کا طلب گار ہوتا یا اس کی خواہش رکھتا آپ صلعم اسے وہ عہدہ نہیں دیتے تھے، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلعم کی خدمت میں اپنی قوم یعنی قبیلہ اشعر کے دو شخصوں کے ساتھ حاضر ہوا ، ان دونوں میں سے ایک نے کہا یا رسول اللہ مجھے کہیں کا امیر (عامل) بنا دیجئے اور دوسرے صاحب نے بھی یہی خواہش ظاہر کی ، تو رسول اللہ صلعم نے فرمایا کہ ہم اس شخص کو والی وذمہ دار نہیں بناتے ہیں جو یہ عہدہ طلب کرے اور نہ اسے جو اس پر حریص ہو۔ (بخاری کتاب الاحکام:  6683 مسلم  شرح نووی 208/12)
اور اس کی وجہ شاید یہ ہوسکتی ہے کہ جو عہدہ وصدارت وانتظام کا طلب گار ہوگا اللہ کی طرف سے اس کی اعانت نہیں ہوگی، اور جب اللہ کی مدد شامل حال نہیں ہوگی، تو وہ اس ذمہ داری کو اٹھانے کا اہل نہیں ہوگا  اور نااہلوں کو ذمہ داری دینا درست نہیں ، ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جاہ ومنصب کی طلب کو متہم کردیتی اور اس کے حرص کو اجاگر کردیتی ہے، اور متہموں کو ذمہ داری دینے سے اجتناب کرنے میں ہی عافیت ہے۔ 
امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کو حمص کا گورنر مقرر کرنا چاہا تو انہوں نے اس سے معذورت کی اور دنیا کے فتنوں میں مبتلا ہونے کے خوف سے لرز گئے ، مگر جب امیر المومنین نے دبائو ڈالا اور وجوہات کی وضاحت کی تو انہوں نے قبول کرلیا اور ایسے گورنر ثابت ہوئے کہ سابق میں کوئی ایسا نہیں بنا تھا، وہاں کے لوگوںکا مزاج نہایت سخت اور عجیب وغریب تھا اس کے لئے سعید ہی سب سے مناسب حکمراں تھے ، اور ایسا ہی ہوا۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ خلیفہ وقت اور حکمراں سلطنت ذمہ دار نامزد کرتے ہں اور وہ معذورت پر معذرت کرتے ہیں اگر معاملہ اس کے برعکس ہوتا کہ کوئی اصحاب حل وعقد اور حاکم وقت سے اپنی تعیناتی کا مطالبہ کرتا تو حالت کیا ہوتی وہ اپنی صفائی دیتا یا اپنے ہمنوائوں سے صفائی دلواتا ، اپنی نزاہت وشفافیت کی دلیلیں پیش کرتا اور طرح طرح کے حیلوں وبہانوں سے ثابت کرنے کی کوشش کرتا کہ وہی اس منصب کے لئے زیادہ موزوں ومناسب ہے اس پر اعتماد کرلیا جائے وہ دلیل میں یوسف علیہ السلام کے مطالبہ سے بھی استدلال کرتا کہ انہوں نے خود مطالبہ کیا تھا کہ انہیں وزیر مالیات وخوراک بنا دیا جائے۔
عجب حال ہے دنیا پرست لوگوں کا 
مفاد کا بھی خیال اور فکر جان بھی ہے
جبکہ اس میں عبرت ونصیحت ہے، سید قطب علیہ الرحمہ اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یوسف علیہ السلام نے بڑی ہوشمندی وعقل ودانائی سے کام لیا ۔ انہوں نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ایسی ذمہ داری کا بار اٹھانے کی پیش کش کی جس کا اٹھانا ہر کسی کے بس میں نہیں تھا۔ یہ بڑی بوجھل ذمہ داری تھی جس کے دور رس اثرات مرتب ہونے والے تھے، شدید ترین بحران کے زمانہ میں وہ ذمہ داری لے رہے ہیں پورے ملک کے باشندوں کو کھانا فراہم کرنے کا اور صرف ملک ہی کے نہیں بلکہ قرب وجوار کے باشندگان کے لئے بھی اور وہ بھی ایک دو دن یا سال دو سال نہیں بلکہ پورے سات سال تک جس کے اندر نہ کھیتی ہوگی ، نہ غلہ واناج ، نہ دودھ ہوگا اور نہ پھل فروٹ آج کی طرح کوئی مال غنیمت نہیں تھا جسے یوسف حاصل کرنا چاہتے تھے اور نہ ہی منافع بخش اداروں کی طرح دودھ دینے والی گائے تھی بلکہ ایک بہت بڑی ذمہ داری تھی جس سے سب بھاگ  رہے تھے ، بادشاہ وقت کے لئے بھی ان حالات سے نمٹنا دشوار تھا، کیا آج بھی ان حالات کے اندر اس طرح کی ذمہ داری اٹھانے کے لئے کوئی تیار ہوسکتا ہے؟ کیا ہے کوئی جو غیر منافع بخش اداروں اور بد حال تنظیموں کی کفالت کا بیڑا اٹھانے کے لئے اسی طرح سرگرداں رہے، جس طرح مضبوط ومستحکم اداروں کی قیادت کے لئے جدوجہد ہوتی ہے۔ عام طور پر ہوتا یہی ہے کہ اقتدار کے حریص وطالب کی تگ ودو کے پیچھے کوئی نہ کوئی دنیوی مفاد اور مادی اغراض ضرور پوشیدہ ہوتے ہیں، وہ اس مقصد کی تکمیل کے لئے اپنی شفافیت کا اظہار کرتے اپنی پاکدامنی پر دلیلیں پیش کرتے اور ہر ممکن حد تک قائل ومطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہی اس کے اہل ہیں اور ان کی سماجی وسیاسی زندگی ہو یا مالی معاملات بالکل نکھری ہوئی اور صاف وشفاف ہے جبکہ ایسا ہوتا نہیں ہے، اسی لئے ان کے مطالبے کے ساتھ ہی شکوک وشبہات کا بازار گرم ہوجاتا ہے اور ہر چہار جانب سے انگلیاں اٹھنے لگتی ہیں اور خود فیصلہ کرنے والی اتھاریٹی ان سے مطمئن نہیں ہوتی ہے الا یہ کہ وہ اتھارٹی ہوشیار اور اصابت رائے کی حامل ہو تو وہ کہنے اور سننے ، مطالبے اور مخالفت سے اوپر اٹھ کر شخصیت کو تولتی پرکھتی پھر فیصلے کرتی ہے جیسا کہ عزیز مصر نے یوسف علیہ السلام کے ساتھ کیا، بادشاہ نے دیکھا کہ کسی بھی ذمہ داری کو اٹھانے کی سب سے اہم اور اولین شرط اس کی امانت داری اور تقوی وپرہیز گاری ہے، اور عملی طور پر یہ وصف یوسف علیہ السلام میں پایا جارہا تھا ، خوابوں کی تعبیر سے لے کر عورتوں کے واقعات اور زلیخا کے معاملہ نے ان کی امانت ونزاہت اور تقویٰ وپرہیزگاری کو اجاگر کردیا تھا، پھر قحط کے زمانے کی تدبیر یںبھی ایک نہایت مخلص وبہی خواہ وخیر خواہ کی گواہی دے رہی تھی۔ جبکہ بادشاہ وقت خود آنے والے 14 سالوں کے حالات سے لرزہ براندام تھا جس سے ہر کوئی اپنا دامن جھٹکنے اور اس کی ذمہ داریاں اٹھانے سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتا ہے اور ان دشواریوں اور مصائب کو حل کرنے سے عاجز وبے بس نظر آتا ہے، سوائے اس کے جسے اپنی کامیابی اور حسن تدبیر کی کامیابی کا صد فیصد یقین ہو، طالب عہدہ کو اپنی پاکی وصفائی بیان کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، اپنے کو پارسا ظاہر کرنا پڑتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، ’’ لا تزکوا انفسکم ھو اعلم ‘‘ اپنے آپ کی صفائی مت پیش کرو ، اللہ زیادہ جانتا ہے کہ کون اللہ سے زیادہ ڈرنے والا اور پرہیز گار ہے۔ اسی لئے اللہ کے نبی صلعم نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے فرمایا:
اے ابو ذر تم کمزور ہو اور یہ ذمہ داری امانت ہے اور یہ قیامت کے دن ذلت ورسوائی اور ندامت وشرمندگی کا باعث ہے، سوائے اس کے جو اسے حق کے ساتھ لے اور اس کا حق ادا کرے ، وہ پرہیز گار وامانت دار تھے ، پھر بھی اللہ کے نبی صلعم نے ان کے مطالبہ کو مسترد کردیا اور عزیز مصر نے یوسف کی اپنی صفائی دیئے بغیر ہی درخواست کو قبول کرلیا۔ اس کا مطلب ہے کہ پیش نظر ملک وقوم اور ملت کا مفاد ہونا چاہیے۔ مطالبہ ہو یا نہ ہو جو ملت اسلامیہ اور دین کے لئے مفید ہو اس کا انتخاب ہونا چاہیے بشرطیکہ طالب کے اندر امانت داری وشفافیت ہو۔ بے باکی ودلیری ، جرأت وہمت اور حق بات ببانگ دہل کہنے کی صلاحیت ہو، وہ مداہنت سے کام نہ لیتا ہو اور نہ ہی شخصی مفادات کو ملی مفادات پر ترجیح دیتا ہو۔
بخاری کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلعم سے سوال کیا گیا کہ قیامت کب آئے گی، تو آپ صلعم نے فرمایا جب امانتیں ضائع کردی جائیں اس پر سوال کیا گیا کہ امانتیں کس طرح ضائع کی جائیںگی؟ تو آپ صلعم نے فرمایا کہ جب ذمہ داریاں نااہلوں کے سپرد کی جانے لگیں تو قیامت کا انتطار کرو یعنی ذمہ داریاں ، قرابت رشتہ داری کی وجہ سے سیاسی وجماعتی وابستگی کی وجہ سے رشوت وہدایا کی وجہ سے خاندانی ورثہ ہونے کی وجہ سے دی جانے لگیں اور اس میں اہلیت کو نظر انداز کرتے ہوئے وفاداروں اور اولادوں کو ترجیح دی جانے لگے تو قیامت کا انتظار کرو۔ 
اس کا مطلب ہے کہ اصحاب حل وعقد کا فریضہ ہے کہ وہ ذمہ داری سونپنے سے پہلے خوب چھان پھٹک کر دیکھ لیں کہ جسے ذمہ داری دی جانی ہے اس میں اس کی اہلیت وصلاحیت ہے یا نہیں، اور امانت ودیانت میں اس کا ریکارڈ کیا رہا ہے، اگر اس میں کوتاہی ہوئی توامانت کا ضیاع ہوگا اور عنداللہ سب ماخوذ ہوںگے۔ 
تنہا لحد کے اندر ہوںگے گدا کی صورت
جتنے ہیں اس جہاں میں جاہ وجلال والے
ای میل۔nisarqasmi24@gmail.com
فون نمبر۔0091-9393128156