تازہ ترین

کروٹ

افسانہ

تاریخ    11 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


عمرانہ
کھلکھلاتی مسکراتی وہ گھر میں داخل ہوئی اور بے پروا چال چلتی ہوئی امی کے کمرے میں پہنچی، اور امی کی پر سوار ہو کر بولی، ”امی آپ کو پتا ہے آج آپ کی بیٹی نے کیا کیا؟“
 اَمی مسکراتے ہوئے بولیں” پتا ہے پتا ہے، تمہاری  چہک ہی بتا رہی ہے آج بھی کوئی کمپٹیشن جیت کر آئی ہو“ہاں امی آج  میں بہت خوش ہوں اور مجھے اَباّ سے بات بھی کرنی ہے  میرے لئے لیپٹوپ کب لاکر دینگے ۔”ہاں ہاں منگوا لینا پہلے یہ پڑھائی تو پوری کرو“
عمرانہ نے پرامید نظروں سے امی کی جانب دیکھتے ہوئے کہا ۔ ”دیکھنا آپ کی بیٹی آپ لوگوں کا نام روشن کرے گی۔“
” چل اب باتیں نہ بنا۔ کھانا بنا ہوا ہے جا کر کھا لے کبھی گھر کے کاموں میں بھی ہاتھ بٹا دیا کر۔“
اماں نے وہی گھریلو زندگی کے اصول بتانے شروع کر دیئے۔
 اچھا امی بس بھی کریں، عمرانہ نے عاجزانہ انداز میں کہ کر کمرے سے نکل گئی، جانتی تھی  اگر دو منٹ اور بیٹھی  تو امی گھریلو لڑکیوں پر ایک پورا مضمون سنا دیں گئیں۔  زندگی بھی کتنی  عجیب ہے۔ کبھی رنگ ہے، کبھی روپ ہے کبھی کسی رنگ کا کوئی روپ نہیں تو کبھی ایک دن میں ہزاروں ڈھنگ......کوئی رنگ کبھی کافی پھیکا پڑ گیا تو کبھی وہی رنگ زندگی کی جان بن جاتا ہے ۔ عمرانہ کی زندگی میں خود عمرانہ ہی کا رنگ تھا، چہکتا ہوا مہکتا، ٬ کھلکھلا نے والا اور ہر جگہ اپنی پہچان بنانے والا۔ جیسے لال رنگ ہر رنگ کے بیچ اپنی ایک پہچان بنا لیتا ہے اسی طرح سے عمرانہ دنیا کے رنگ برنگے رنگوں میں اپنی پہچان  بنانے نکلی تھی۔ اسے کسی دوسرے کی ضرورت نہیں تھی کہ کوئی آئے اور اس کی زندگی میں رنگ ڈالے۔ وہ تو خود ایسا وجود تھی کہ جس کے ہونے سے محفلوں  میں جان پڑ جائے۔
 اسکول میں ہر ٹیچر اس کو بہترین طالبہ ہونے کا  درجہ دیتی تھی۔ لڑکیوں میں اس کی دھوم تھی۔ ہمیشہ کچھ نیا کرنا اس کا شوق تھا ایک یہی جنون تھا جو کہتی تھی” کہ کچھ الگ کرنا ہے مجھے، اپنے اہل خاندان کی لڑکیوں سے بہت الگ“۔
مثبت سوچ انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے  یہی سوچ کر وہ ہمیشہ مست مولیٰ ہو کر اپنی پڑھائی میں مگن رہتی اور وہ ہر کمپٹیشن کو آسانی سے جیت جاتی اور اس کی کامیابی کی خبریں اخباروں میں  شائع ہونے لگتیں۔ اس کی کامیابی کا چرچا  محلہ، بستیوں میں ہونے لگا۔ جب وہ گھر سے باہر نکلتی تو محلّے کے سبھی لوگ اس کو مبارکباد دیتے۔
  اس کا اعتماد  بڑھتا جا رہا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ جن بلندیوں کو چھونا چاہتی ہے  وہ تو بس اب دو قدم دور ہیں۔ جیسے بلندیاں اسے اپنے پاس بلا رہی ہیں آگے، بہت آگے لے جانے کے لیے اتنا آگے کہ شاید اس سے آگے کوئی راستہ ہی نا ہو۔
 عمرانہ  بہت پرجوش تھی اپنے مستقبل کو لے کر عمرانہ  ہی کیا شاید ہر انسان، جب اسے لگتا ہے کہ وہ اپنی منزل کے بہت قریب ہے،میں بہت جوش بھر جاتا ہے۔ زندگی اسے اپنی مٹھی میں لگنے لگتی ہے۔ اُسے لگتا ہے کہ وہ جو  چاہےگا پا لے گا۔ لیکن کیا ہر راہی کو اس کی منزل مل جاتی ہے؟ یا پھر راہی کبھی راستہ بھٹک جاتا ہے۔  یا منزل ہی اسے دھوکہ دے جاتی ہے.........  عمرانہ کی زندگی میں کیا ہونے والا تھا۔ یہ کسی کے علم میں نہیں تھا۔ لیکن شاید ہر انسان کی طرح صرف اچھا سوچ رہی تھی۔ اور آخر اچھا کیوں نہ ہو اس کے ساتھ کیا کمی تھی؟ خوبصورت تھی، ذہین تھی، دیانتدار اور اپنی دھن کی پکّی تھی اور والدین کی لاڑلی تھی۔ اس کو حسنِ  روح کی خوبصورتی سے  مزیّن کر رہا تھا...... تو اس کو اس کی منزل ملنی ہی تھی۔
 اُس رات وہ اپنی آنکھوں میں سپنے لئے رات کی تنہائی میں حوصلوں کی اُڑان بھر رہی تھی تبھی امی آئی اور کہنے لگی” میری پیاری بیٹی سو جاؤ، کل تمہارا ڈیبیٹ کمپٹیشن  ہے۔ اوّل نہیں آنا ہے کیا؟“ رات ڈھلتی جا رہی تھی آنے والے کل کی خوشی اور گھبراہٹ کے  مخلوط جذبات  کے باعث عمرانہ کی  آنکھوں سے  نیند کوسوں دور تھی کیونکہ صبح اس کو اپنے پروگرام کے لئے جانا تھا۔ ساری رات بے چینی اور کروٹوں کی نذر ہوگئی۔ اس کشمکش میں بو وقت صبح اس کی آنکھ لگ گئی اور کچھ دیر بعد سورج اپنی آب و تاب کے ساتھ نکل آیا۔ گھر میں شور گل مچا ہوا تھا اور ہر طرف سے جلدی کرو کی سدائیں آرہی تھیں، اور دوسری طرف عمرانہ، جو ان ہنگاموں سے بالکل بے خبر خواب غفلت کے مزے لے رہی تھی اور امّی کے کئی بار اٹھانے پر بھی نہیں اٹھتی، ہاتھ کے اشارے سے کہتی ” امّی دو منٹ اور بس اور دو منٹ“ اور دوسری طرف اس کے والد اسلام صاحب گرجتی ہوئی آواز سے چلّا رہے تھے کہ جلدی سے عمرانہ کو نیچے بھیجو“ اس کے کالج کا پروگرام شروع ہونے ہی والا ہے۔ آخر کار عمرانہ تیار ہو کر تیزی سے نیچے آتی ہے اسلام صاحب تقریباً آدھے گھنٹے سے برآمدے کے  چکّر کاٹ کر جلدی آنے کی صدائے لگا رہے تھے۔ عمرانہ اُن سے ڈرے سہمے لہجے میں کہتی ہے ” چلئے ابّو ! اسلام صاحب، جن کے چہرے سے غصےّ کے آثا  جھلک رہے تھے، کچھ کہے  بغیر دروازے کی طرف چل دیئے۔ عمرانہ بھی ان کے پیچھے ہو لی۔ دروازے پر پہنچ کر امی کو آواز دیتی ہوئی کہتی ہے امی!  دعا کیجئے گا۔گھر کے باہر اسلام صاحب کھڑے ہوکر ا نتظار کر رہے ہیں۔ ان کا چہرہ غصے کے مارے مزید سرخ ہو چکا تھا ۔عمرانہ معصومیت سے ان کی طرف دیکھ کر اپنا ایک کان پکڑ کر بولتی ہے۔ ابو سواری۔ اسلام صاحب اپنی حرکت پر تبسم ریز ہو جاتے ہیں۔ کچھ دیر بعد ان کی گاڑی کالج کے دروازے پر رُکتی ہے۔ وہاں پہنچ کر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پروگرام کا آغاز  ہو چکا ہے لہٰذا وہاں بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرتی ہے۔ جیسے جیسے وقت قریب آتا گیا عمرانہ کی دل کی دھڑکن بڑھنے لگی اور دست وپا میں ارتعاش پیدا ہو نے لگا اور پھر عمرانہ کا نام پکارا جاتا ہے۔عمرانہ  اسٹیج پر کھڑے ہوکر ایک  لمبی سانس لیتی ہے۔ دوسری طرف گھر میں اُس کی امی لمحہ بھر بھی چین کی سانس نہیں لے رہی تھی کہ عمرانہ کے جاتے ہی اُن کے دل کی دھڑکنوں میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے ۔ پھر وہی ہوا جو مثبت سوچ رکھنے والے انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے اس بار بھی عمرانہ اول آئی۔ اب وہ  منزل کے اور بھی قریب پہنچ گئی۔ عمرانہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی  اور اول آنے کی خبر اماں کو بتانے کے لئے بیتاب  ہو کر  آٹو میں بیٹھ گئی۔ اسی دوران عمرانہ نے دیکھا کہ جس آٹو میں وہ بیٹھی ہے اُسی آٹو میں ایک بے سہارابزرگ، مایوسی جیسے اس کے چہرے پر ٹوٹی ہوئی تھی،بھی سوار تھا۔ ان کی کراہٹ  اور بےبسی دیکھ کر عمرانہ  کے منہ سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے ”ابّا تم کہاں سے آئے ہو اورتم  رو کیوں رہے ہو؟ “ اباّ نے کرہاتی ہوئی آواز میں کہا ” بیٹی میرے تین بیٹے ہیں، جنہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے“ بس اتنا ہی سننا تھا کہ عمرانہ کی آنکھوں سے آنسوں نکلنے شروع ہوگئے۔ وہ سوچنے لگی کہ میرے بھی دو تین بھائی ہیں۔ آخر  میرے والدین بھی تو اس عمر کو پہنچ رہے ہیں۔ اکثر و بیشتر اوقات اپنے والدین کی باقی ماندہ زندگی  کے متعلق غور و فکر میں مبتلا رہا کرتی۔ کروٹیں بدلتی، کبھی بستر کو چھوڑ کر اٹھ بیٹھتی تو کبھی بالا خانے میں گشت کرنے لگتی۔اس کی ظاہری دنیا جیسے تاریک ہوچکی تھی ۔ بیواؤں، مسکینوں، یتیموں اور غریبوں کی آوازیں سن کر اب عمرانہ کا دل انسانی ہمدردی سے لبریز ہوگیا تھا۔ اس لیے جب وہ دوسروں کی   تکلیف اور ناچارگی کے بارے میں کچھ سنتیں یا دیکھتی وہ اپنے ہوش گنواں بیٹھتی۔
���
ایم۔اے۔ سال آخر،سینٹ جانس کالج آگرہ،موبائل نمبر؛9259589974