تازہ ترین

ملال

کہانی

تاریخ    11 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


رحیم رہبر
فیاض کی کربناک کہانی سُن کر میرے تصورات میں ایک ایسا بھونچال آیا جس نے میرے ادراک کے در و دیوار کو بکھیر کے رکھ دیا۔۔۔!
میں اُس سے بہت ڈرتا تھا۔ اُس کے حسین چہرے کو دیکھ کر مجھے میری کمتری کا احساس ستاتا تھا۔ اُس کی غزالی آنکھیں مجھے کالے ناگ کی طرح ڈس لیتی تھیں۔ اُسکے رسیلے گلابی ہونٹ مجھے کاٹنے کو آتے تھے، یہاں تک کہ اُس کی پرچھائیاں مجھے آفس میں بھی ڈراتی تھیں!
شائد مہوش میرے حال سے واقف ہوچکی تھی، اس لئے اُس روز جب میں شام کو دفتر سے گھر پہنچا تو مہوش نے مجھ سے پوچھا۔
’’آج لنچ ساتھ نہیں لیا تھا؟‘‘
’’طبیعت ٹھیک نہیں تھی‘‘۔ میں نے نظریں جھکا کر جواب دیا۔
’’کیوں۔۔۔ کیا ۔۔۔ کیا بات تھی؟‘‘ مہوش نے پوچھا۔
’’سر چکرا رہا تھا۔‘‘ میں نے پھر نظریں جھکا کر جواب دیا۔
’’تم۔۔۔ مُجھ سے۔۔۔ مطلب میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کیوں نہیں کرتے ہو۔۔۔ مجھ سے خفا ہو کیا۔۔۔ میرا ملال ہے کیا!؟
مہوش نے حیرانگی میں پوچھا۔
’’نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ نہیں تو‘‘، میں نے پھر نظریں جُھکا کر جواب دیا۔
’’فیاض مجھے تم پر ترس آرہا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ تمہارا رشتہ گُمان پر مبنی تھا!؟‘‘
میرا سوال سُنکر فیاض کی آنکھوں سے آنسو آُمڈ پڑے۔
’’میرا چھوڑدو پھر، پھر کیا کہا مہوش نے؟۔۔۔ میں نے فیاض سے پوچھا‘‘
مہوش مجھ سے حقیقت جاننا چاہتی تھی۔۔۔۔
’’پھر۔۔۔پھر۔۔۔پھر کیا ماجرا ہے‘‘۔ مہوش نے حیرت سے پوچھا۔
’’نہیں۔۔ نہیں ایسی کوئی بات نہیں‘‘۔
’’پھر نظریں جُھکا کر کیوں بات کرتے ہو؟‘‘ مہوش نے پھر تعجب سے پوچھا۔
’’تمہیں دیکھ کر میری نظریں کپکپاتی ہیں‘‘۔
میرا جواب سنکر مہوش کو غصہ آیا۔ وہ غصے میں بولی۔
’’اے! میں تمہاری بیوی ہوں۔۔۔ شریک حیات۔۔۔ہمسفر۔۔ ہمراز۔۔۔!‘‘
’’ہاں۔۔۔معلوم ہے۔۔۔ جان۔۔۔ جانتا ہوں‘‘۔ میں نے دھیمی آواز میں نظریں جھکا کر جواب دیا۔
’’پھر۔۔۔پھر یہ دُوری کیسی۔۔۔ یہ ارتعاش کیسا؟‘‘مہوش چلا کر بولی۔
’’کچھ۔۔۔ کچھ۔۔۔ کُ کُ کچھ نہیں‘‘۔ میں نے سہمے انداز میں کہا۔
’’کچھ تو ہے۔۔ بتائو تو صحیح ۔۔۔ ورنہ ۔۔۔۔!‘‘
’’مہوش! مجھے اپنی غربت پر ندامت ہے۔یہاں سب کچھ بکتا ہے۔ محبت، شرافت، وفا۔۔۔!‘‘
’’میرے پاس جو اتنی دولت ہے، کیا یہ تمہاری نہیں ہے؟‘‘
مہوش نے تیز لہجے میں پوچھا۔
’’ہاں۔۔ نہیں۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ہاں!‘‘
’’کیا ہاں نہیں۔۔۔ ہاں نہیں کرتے ہو۔۔۔ ماجرا کیا ہے؟ تم ۔۔۔ تم سیدھی طرح کیوں نہیں بتاتے ہو فیاض؟‘‘
’’میں مہوش کو حقیقت بتانا چاہتاتھا۔۔ پر سچ کہنے کے لئے مجھ میں ہمت نہیں تھی۔ اس لئے بات کو ٹالتے ہوئے میں نے مہوش سے کہا
’’کھانا لے آئو۔۔۔ بھوک لگی ہے‘‘۔
’’ٹھیک ہے۔ کھانا کھانے کے بعد سونے سے قبل تمہیں آج سچ بتانا ہی ہوگا۔ میںکئی مہینوں سے تمہاری گھبراہٹ اور تمہاری انوکھی حرکات کو محسوستی ہوں۔‘‘
مہوش باورچی خانے میں چلی گئی اور میں من ہی من میں سوچنے لگا۔
’’آج مہوش کو سچ بتانا ہی ہوگا۔۔۔ کب تک میں یہ ذہنی کرب جھیلاتا رہونگا۔۔۔ میں مہوش کو سچ سچ بتا دوں گا۔۔۔ چاہے آج آر ہو یا پار۔۔‘‘
مہوش کھانا لے کر آگئی۔ میں چونک گیا۔
’’آئو کھانا کھاتے ہیں‘‘۔۔ مہوش نے مجھے دسترخواں پر بھلایا۔ کھانا بہت لذیذ تھا۔ لیکن مہوش کی نگاہیں میری جسم میں چُبھ رہی تھیں۔
کچن سے فارغ ہوکر مہوش کمرے میں آگئی اور وہی پہلا سوال دہرایا۔
’’ہاں فیاض ! بتائو ماجرا کیا ہے؟‘‘
’’تم بہت حسین ہو مہوش‘‘۔ میں نے دھیمی آواز میں نظریں جھکا کر کہا۔
’’ہاں۔۔۔ ہاں ہاں۔۔ تو!؟‘‘۔ مہوش نے چلا کر پوچھا
’’مہوش جونہی میں تمہاری طرح دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو میری نگاہیں کانپتی ہیں!؟‘‘
’’فیاض! میرے پاس جو کچھ ہے۔۔ اس پر تمہارا۔۔۔ صرف تمہارا حق ہے۔۔۔ میں تمہاری بیوی ہوں‘‘۔ مہوش مسکرا کر بولی۔
’’لیکن۔۔۔!؟‘‘
’’بتائو۔۔ چُپ کیوں ہوئے؟‘‘۔ مہوش نے پھر حیرانگی کے عالم میں پوچھا۔
’’مجھے تمہیں دیکھ کر ڈر لگتا ہے مہوش!‘‘
’’ڈر۔۔۔ کیسا ڈر!‘‘ ۔ مہوش نے تعجب سے پوچھا۔
’’ہاں۔۔۔ ہاں ہاں مہوش مجھے ڈر لگتا ہے۔‘‘
’’افسوس تم پر ۔۔۔ افسوس تمہاری سوچ پر۔۔۔ خالد صاحب تمہارا آفیسر ہے۔۔ وہ کبھی کبھار مجھے فون کرتا ہے۔۔ اس کا یہ قطعی مطلب نہیں میں اُس کی ہوکر رہوں گی! اعتبار۔۔۔ بھروسے ۔۔۔ کا دوسر نام رشتہ ہے۔یہ بھروسہ وشواس جو ٹوٹ جاتا ہے رشتہ ختم ہوجاتا ہے۔ آج سے تم یہ گھٹیا خیال دل سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نکالو گے۔ اٹھو سو جائو‘‘۔
ساری رات میں کروٹیں بدلتا رہا۔۔۔ نیم شب مہوش کے موبائل کی تیز روشنی میری آنکھوں پر پڑ گئی۔ میں یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ مہوش چپکے سے خالد صاحب کیساتھ چیٹ کررہی ہے! میرا گمان سچ نکلا۔۔۔!
صبح ناشتہ کرنے کے دوران مہوش نے مجھ سے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
’’ایک بات پوچھوں فیاض۔۔ بُرا تو نہیں مانو گے!؟‘‘
’’نہیں تو۔۔۔ پوچھو مہوش کیا پوچھنا ہے!‘‘
’’خالد صاحب تمہارا آفیسر ہے۔ ۔۔ لیکن وہ تم پر بہت مہرباں ہے۔ پھر تم اُس کے بارے میں غلط کیوں سوچتے ہو؟‘‘
مہوش کے سوال کا جواب میرے پاس تھا پر میں وقت اور موقعے کے تلاش میں تھا۔
اس لئے میں چُپ ہوا۔ اس گفتگو کے صرف دو دن بعد خالد صاحب نے مجھے اپنے آفس چیمبر میں بلایا۔ آفس میں سینئر ہونے کے ناطے وہ مجھے انچارج بنا کر خود سکینڈ ہاف ڈے لیو پر چلے گئے۔
اُس روز شام کو دیر سے گھر پہنچا۔ کالی رات میرے آنگن میں خیمہ گاڑھ چُکی تھی۔ میں سہمتے ہوئے سیدھا اپنے بیڈ روم میں پہنچا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی میری نظریں بیڈ پر جمیں۔
فیاض سسکیاں لینے لگا۔ وہ خاموش ہوگیا۔ میں نے اُس سے پوچھا۔۔
’’مجھے یوُں لگا جیسا کہ میرا گھر زمین بوس ہورہاہے!‘‘
’’فیاض حوصلہ رکھو میں تمہارا دوست ہوں۔۔۔ بتائو پھر کیا ہوا؟‘‘
’’مطلب۔۔۔ میں سمجھا نہیں!؟‘‘ میںنے انہماک سے فیاض سے پوچھا۔
انتہائی افسردگی کے عالم میں فیاض بولا
’’خالد صاحب میرے بیڈ پر اپنی عینک بھول گئے تھے!!‘‘
���
آزاد کالونی پیٹھ کا انہامہ، بیروہ بڈگام۔موبائل نمبر؛9906534724