تازہ ترین

کووڈ انیس… سدھر جائیں،سنبھل جائیں!

تاریخ    10 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


 دنیا کے مختلف ممالک میں کورونا وائرس کی تیسری لہر شروع ہوچکی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ یہ لہر پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کورونا معاملات میں ایک بار پھر اضافہ کو دیکھتے ہوئے نئے سرے سے جزوی اور مکمل لاک ڈائون کا نفاذ عمل میں لایاجارہا ہے جس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ عالمی معیشت میں مزید تنزلی آسکتی ہے کیونکہ کورونا لاک ڈائون کی وجہ سے اقتصادی سرگرمیوں میں مزید ٹھہرائو فطری ہے ۔ہمارے یہاں بھی صورتحال کچھ بہتر نہیں ہے ۔یہاں بھی کورونا کی دوسری لہر شدت سے جاری ہے ۔گوکہ پہلی لہر کی وجہ سے نڈھال معیشت کا پہیہ ابھی بھی پوری طرح بحال نہیں ہوچکا تھا اور اقتصادی سرگرمیاں بدستور متاثرتھیں تاہم اب دوسری لہر اگر اسی طرح جاری رہی تو معیشت کا مزید کمزور ہونا طے ہے ۔
 موجودہ حالات آنے والے مشکل ترین ایام کی جانب اشارہ کررہے ہیں۔کہنے کو تو لوگ بہت کچھ کہیں گے لیکن ملک کی شرح نمو میں تشویشناک گراوٹ دراصل کورونا وائرس کی دین ہے اور اقتصادی ماہرین نے پہلے ہی اس کی پیشگوئی کی تھی ۔دراصل کورونا وائرس کے ابتدائی ایام میں گزشتہ سال 25مارچ سے ملک میں68روزہ طویل کورونا لاک ڈائون بھی چلا جس کی وجہ سے معمولات زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئے تھے اور جب زندگی کے تمام شعبے مفلوج ہوجائیں تو معیشت کا گرجانا فطری عمل ہے جو تاحال مکمل طور ابھر نہیں پائی ہے اور اب کووڈ انیس کی دوسری لہر سر چڑھ کر بول رہی ہے۔
ماہرین اقتصادیات روز اول سے کہہ رہے تھے کہ کورونا عالمی معیشت کو لے ڈوبے گا اور فی الوقت ویسی ہی صورتحال دیکھنے کو مل رہی ہے کیونکہ پوری دنیا کا معیشی نظام لرزہ براندام ہوچکا ہے ۔ہمارا ملک چونکہ ابھی ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں ہی شامل ہے تو یہاں اس کے اثرات زیادہ نمایاں ہونا طے تھا اور وہی کچھ ہوا بھی لیکن اس کے باوجود سرکار نے اپنی طرف سے عوام کو راحت پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے ۔سرکاری سیکٹر میں کھپت میں اضافہ کا رجحان اس عرصہ کے دوران جو دیکھنے کو مل رہا ہے ،وہ دراصل اس مدت کے دوران سرکار کی جانب سے معمول سے زیادہ صرفہ کی وجہ سے ہوا ہے ۔ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس مدت میں سرکار کو نہ صرف طبی نظام کو اَپ گریڈ کرنے پر زر کثیر صرف کرناپڑا بلکہ عوامی راحت رسانی کے کاموں پر بھی کھربوں روپے خرچ کئے گئے جن میں چاول اور گیس کی مفت تقسیم بھی شامل ہے ۔اس کے علاوہ معیشت کو سہارا دینے کیلئے اس محاذ پر جو سرکاری اقدامات کئے گئے ،اُن سے بھی خزانہ عامرہ پر بوجھ پڑ گیا اورجو سرکاری کھپت میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ،وہ ایسے ہی فلاحی اقدامات کا مرہون منت ہے ۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب عالمی معیشت کا یہ حال ہے تو آگے کیا ہوگا ۔ظاہر ہے کہ اس وقت جو صورتحال ابھر کر سامنے آرہی ہے،وہ کوئی اطمینان بخش صورتحال قرار نہیں دی جاسکتی ہے اور اس کے دور رس اثرات مرتب ہونا طے ہے تو مطلب یہ ہے کہ ہمیں ایسی صورتحال کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔اس کا جو فوری اثر ہوگا ،وہ ٹیکس کھاتوں پر ہوگا کیونکہ ٹیکس وصولی بری طرح متاثر ہوگی اور اس کا خمیازہ مرکز اور ریاستوں دونوں کو بھی بھگتناپڑے گا۔جب آمدن ہی نہ ہوئی ہو تو ٹیکس جمع کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا ہے اور جب ٹیکس جمع نہ ہونگے تو سرکاری خزانہ کی حالت مزید پتلی ہوسکتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ہمیں مزید کچھ اچھی خبریں سننے کو نہیں مل سکتی ہیں۔
یہ ساری صورتحال بیان کرنے کامقصد دراصل عوام کو اس تلخ حقیقت سے روبرو کرا نا ہے کہ کورونا نے سارے معاشی نظام کو تلپٹ کرکے رکھدیا ہے اور یہ وقت ہے کہ ہم سدھر جائیں اور ذمہ دار شہریوں کابرتا ئو کرتے ہوئے اس وبائی بحران سے خلاصی پانے میں حکومت کی مدد کریں ۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ کورونا انسانی سماج میں بہت گہرائی تک سرایت کرچکا ہے اور اگر اب ہمیں کوئی اس وباء سے بچا سکتا ہے تو وہ ہم خود ہیں ۔ہمیں ہی اس نئی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے اپنے جینے کا طریقہ تبدیل کرنا ہوگا اور کورونا کے ساتھ ہی جینا سیکھنا ہوگا۔
صد فیصد ٹیکہ کاری میں ابھی بہت وقت لگے گا ۔فی الوقت احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد ہی ہمیں اس آفت سے بچاسکتی ہیں اور یہ احتیاطی تدابیر اس قدر آسان ہیں کہ ان پر اتنا خرچہ بھی نہیںہے اور آسانی سے عمل بھی کیاجاسکتا ہے۔وقت آچکا ہے جب ہمیں ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت پیش کرنا چاہئے کیونکہ اگریہاں کورونا کی دوسری لہراسی رفتار سے پھیلتی رہی تومزید تباہی سے ہمیں کوئی بچا نہیں سکتا ہے اور وہ تباہی دونوں صورتوں میں ہوگی ۔ہمیں بھاری جانی نقصان سے بھی دوچار ہونا پڑے گا اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔اب گیند عوام کے پالے میں ہے اور عوام کو ہی فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ کیا چاہتے ہیںتاہم امید یہی کی جاسکتی ہے کہ عوام شر پر خیر کو ترجیح دینگے جس سے حکومت کا کام بھی آسان ہوسکتا ہے اور کوروناوبا سے نڈھال معیشت کو بھی واپس پٹری پر لانے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔