تازہ ترین

۔13سالہ لڑکا پاکستانی فوج کے حوالے

۔10ماہ بعدٹیٹوال کراسنگ پوائنٹ پھر کھولا گیا

تاریخ    8 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید
کرناہ// 14فروری 2019 کولیتہ پورہ پلوامہ فدائین حملہ کے بعد بند کئے گئے ٹیٹوال کراسنگ پوائنٹ پر بدھ کو ایک بار پھر گہما گہمی دیکھنے کو ملی جب کراسنگ پوائنٹ کو اُس وقت دوبارہ کھولا گیقا جب 3روز قبل غلطی سے لائن آف کنٹرول پار کرنے والے ایک نابالغ لڑکے کو پاکستانی زیر انتظام کشمیر روانہ کرنے کی تقریب منعقد ہوئی۔ 13سالہ معصوم ولد منظور احمد ساکن لیپا (پاکستانی زیر انتظام کشمیر) 5اپریل کو غلطی سے کنٹرول لائن عبور کرنے کے بعد اس طرف آیا تھا۔معصوم کو بھارتی فوج نے اپنی تحویل میں لیکر اس سے سرسری پوچھ تاچھ کی اور اسکے فوراً بعد پاکستانی فوجی حکام کو اس بارے میں مطلع کیا۔دونوں طرف کے فوجی حکام نے ہارٹ لائن پر رابطہ کرکے اس کی وطن واپسی کیلئے بدھ کا دن مقرر کیا تھا ۔بدھ کی صبح 12بجکر 50منٹ پر مذکورہ لڑکے کو ٹینٹوال کراسنگ پوائنٹ پر پاکستانی فوجی افسران کے حوالے کیا گیا ۔اس موقع پر بھارتی فوج نے لڑکے کو نئے کپڑوں اور مٹھائیوں کے ساتھ روانہ کیا۔انسانی ہمدردی کی بنیاد پراس کارروائی کی پذیرائی کی جارہی ہے۔اسکے لئے ٹیٹوال کراسنگ پوائنٹ، جسے ’امن کا پل‘ بھی کہا جاتا ہے اور جو بھارت اور پاکستان کے مابین جنگ بندی معاہدے پر عمل کے معاہدے کے بعد ایک سیاحتی مقام کے طور سامنے آیا ہے، کھولا گیا، جو 2019سے بند ہے۔اس موقعہ پر سیول انتظامیہ کے کچھ افسران بھی موجود تھے۔معلوم رہے کہ اس سے قبل یکم جون 2020کو پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ضلع اٹھ مقام کے  سیمار گائوں کے 2 کمسن طالب علم افتخار احمد اور وسالت احمدسیماری ٹیٹوال سے سرحد عبور کر کے لائن آف کنٹرول کے اس طرف پہنچے تھے۔فوج نے انہیں اپنی تحویل میں لیکر اسی دن پاکستانی فوج کو مطلع کیا تھا جس کے بعد اسی روز سہ پہر 4بجے دونوں کمسن طلباء کوٹیٹوال کراسنگ پوائنٹ سے سرحد کے اس پار بھیج دیا گیا تھا۔