تازہ ترین

جرائم کی روک تھام وقت کا تقاضا

تاریخ    7 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


 موجودہ دنیابلاشبہ محیر العقول مادی ترقیوں کے میدانوں میں سر پٹ دوڑکر زمین کی گہرائیوں اور آسمان کی اونچائیوں کو برا بر مسخر کر رہی ہے مگر اس کے بین بین اخلاقی تنزل کے چلتے یہی دنیامتواتر پستیوں اور ناا?ٓسودگیوں کی کھائیوں میں بھی لڑھکتی جارہی ہے۔ اس زاویۂ نگا ہ سے دیکھا جا ئے توکشمیر جیسی چرب دست وتر دماغ قوم کے ایک قابل لحاظ حصے کااخلاقی بحران کی لپیٹ میں آکر اپنے اخلاقی تشخص سے ہاتھ دھو بیٹھنا قابل فہم بن جا تا ہے۔ حق یہ ہے کہ فی الوقت یہاںکی جوان پود ایک جانب شرح خواندگی میں مسلسل بڑھوتری اور مختلف میدانوں میں متاثر کن کارکرگی سے قوم کا سینہ پھلارہی ہے اور دوسری جانب اسی کی صفوں میں جرائم کے گراف میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ اخلاقی فساد کی تخم ریزی ہونے کے مختلف اسباب و محرکات ہیں۔ ان کی ایک شکل مخلوط کو چنگ سنٹرہے۔ ان جز وقتی تدریسی مراکز میں طلبہ وطالبات کو ٹیوشن پڑ ھا یا جا تا ہے اور یہاں اکثر سٹوڈنٹ سنجیدگی کے ساتھ اپنے کیر ئیر تعمیر کر نے اور مسابقتی امتحانات کے میدان مارنے کے لئے ہی رجوع کر تے ہیں۔ ان کے والدین بھی آنکھوں میں اپنی اولاد کے واسطے شاندار مستقبل بنا نے کے حسین خواب سجا کراپنے نو نہالوں کو بصد شوق پرائیوٹ کو چنگ کی بھاری بھرکم فیس کا مالی بوجھ بھی اٹھا تے ہیں۔ بنابریں اکثر والدین اپنے پیٹوں پر پتھر باندھتے ہوئے بچوں اور بچیوںکے تعلیمی اخراجات اوران کی نت نئی فرمائشیں پو ری کر نے میں کو ئی پس وپیش نہیں کر تے۔اْدھر یہ سب کچھ ہے اوراِدھر معاشرہ اخلاقیات سے دن بہ دن تہی دامن ہو جائے ، تطہیر معاشرہ کا جذبہ دن بہ دن مفقود ہو،تعلیم وتعلم کا آدم گر انہ مشغلہ سر تا پا کمرشلزائز بن جائے ، تعلیم کا ناقص تصور نسل ِ نو میں فرسٹیشن بڑھا تا جائے ، منشیات کا موذی مرض سماج میں اپنے بال وپر پھیلاتارہے، اور جو کوئی کمی رہے اْسے بالی وڈ فلموں کا ننگا پن ، ماردھاڑ ، جنسی ہیجان کی آگ بھڑکا نے والی اور فیشن پرستی جیسی جان لیوا وبائیں پورا کر یں تو جرائم بڑھنا فطری بات ہے۔ اس نوع کی گھمبیر صورت حال کا تدارک کر نے میں سول سوسائٹی اور سماجی اصلاح کاروں پر واقعی ناقابل التواء  ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ،لیکن جب وہ ان سے تجاہل عارفا نہ بر تنے لگیں تو بگاڑ کا خزاں کس طرح بناؤ کی بہاروں میں بدل جائے؟ سماجی سطح پر انتہائی ناگفتہ بہ حالات کے اس مایوس کن منظر نامے میں نئی نسل کے اندرجرائم کی طرف میلان اوررجحان بڑھنے کے علاوہ اور کیا تو قع کی جا سکتی ہے ؟ ہاں، اس بارے میں سر کاری سطح پر اصلاح ِ احوال کی ایک موہوم سی امید پولیس فورس کے ڈنڈے سے وابستہ کی جاسکتی تھی مگر گزشتہ تیس سالہ طویل قیامت خیزسیا سی ہلچل نے اس محکمہ کو زیر وز کر کے رکھ دیا ہے۔ ورنہ اس بات کی کیا توجیہ کی جاسکے گی کہ سب لوگ جانتے ہیں کہ تابندہ غنی قتل کا المیہ کن کا کیا دھرا تھااور پھر کتنے برسوں تک قانون مجرموں کی گردن ماپنے سے کترا تی رہی ہے ؟حالانکہ پولیس بھی جا نتی تھی کہ رومانہ جاوید کس مجرمانہ ذہنیت اور انسانیت سوز سوچ کی بھینٹ چڑ ھ گئی تھیں؟ اخراج پورہ سری نگر کی صبرینہ فیاض اور فتح کدل کی اقراء جان کی داستان ِ الم بھی سب پر الم نشرح تھی ؟ ان تیکھے سوالوں کے اندر یہ جواب چھپا ہو اہے کہ اس طرح کی المناک وارداتوںپر جب تک پولیس اور اس کے پہلو بہ پہلو تمام سماجی ریفارمر معاشرے کے تئیںاپنی اہم ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو نے سے دیدہ ودانستہ غفلت برتیں گے ، جرائم کی کوکھ سے یہی المیے جنم لیتے رہیں گے بلکہ خدشہ تو یہ ہے کہ ان کے تواتر اور تسلسل میںمزید شدت پیدا ہو، یہ بات بلا خوف تر دید کہی جا سکتی ہے کہ جب دلی میں پھول چہرہ سنجے چوپڑا ور گیتا چوپڑا کو رنگا اور بلا جیسے نامی گرامی بدمعاشوں نے اغواء کر کے وحشیانہ موت کے گھاٹ اتاردیا تو پولیس نے ہی فوری طورحرکت میں آکر انسانیت کے ان مجرموں کو پھا نسی کے پھندے تک لا یا اور انہیں اپنے منطقی انجام تک پہنچاکر کم ازکم مجرموں بد معاشوں کو اپنے وجود کا احسا س دلایا۔ سال 2012  میں جب رات کے اندھیرے میں دامنی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا اندوہناک المیہ پیش آیا اور اْسے جان بلب حالت میں سر راہ چھوڑ دیا گیا تھا تو کسی اور نے نہیں بلکہ سماج نے مجرموں کو ایک ایک کر کے قانون کے کٹہرے میں لا کھڑ اکرنے میں اپنا فیصلہ کن رول نبھایا۔ یوں سماج اورقانون نے مجرموں کے سامنے خود سپردگی اور جرائم کے ا?گے بھیگی بلی بننے کی بجائے جب اپنی فرض شناسی اور تیکھے ردعمل کی دھاک بٹھائی تو عوام الناس کی جیت اور مجرموں کی ہارہوئی تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ رائے عامہ کے غیر معمولی دباو، نئی قانونی وضع داریوں اور موثر پولیس کارروائیوں کے باوجود دلی سمیت ملک کے دوسرے حصوں میں برابر اس نوع کے کرائم ہو رہے ہیں بلکہ ان میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ جس سےیہ امر  ہرگزباعث اطمینان نہیں کہ اب مجرم خود کوبے بس اور بندھے ہوئے بھی نہیں پاتے جتنا قبل ا زیں وہ عملاً محسوس کر تے تھے۔ واقعی ان کی آج بھی مکمل طور پر حوصلہ شکنی نہیں ہو رہی ہے۔  اسی لئے ملک بھر میں ہاتھرس(یو پی) اور وادی میں کٹھوعہ جیسے المناک و شرمناک جرائم آئے روز ہوتے رہتے ہیں ۔چنانچہ یہاں سماج اور قانون بغیر کسی لومت لائم کے مجرموں کے سامنے خود کو گونگا ، بہرا اور اندھا ثابت کر رہا ہے۔ اس وجہ سے سماج میں آئے دن جرائم کا بول بالا اور گناہوں کا بے تحاشہ دور دورہ ہو نے پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ لہٰذا جب تک پولیس فورس کے شانہ بشانہ خود ہمارا سماج بھی جرائم کی منظم انداز میں روک تھام کے لئے اپنے فرائض کی انجام دہی کے لئے ایک ثمر بار پْرامن غیر سیاسی اصلاحی مہم کی باگ ڈور نہیں سنبھالتا ، پیر واری کہلانے والی اس سرزمین میں جرائم کی نر سر یاں کبھی کو چنگ سنٹروں کے بہا نے ، کبھی باغات اور میلوں ٹھیلوں کی ا?ٓڑ میں اور کبھی کلچرل پروگراموں وغیرہ کے رْوپ میں پروان چڑھتی رہیں گی۔ اس ضمن میں حقیقی طوروالدین کسی بھی حال میں اپنی ذمہ داریوں سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتے۔انہیں یہ دیکھنے کی بھی لامحالہ زحمت گوارہ کر نی چا ہیے کہ ان کی اولادیں کیا کررہی ہیں ، ان کی دلچسپیاں کیا ہیں ، ان کے دوست کس قبیل وقماش کے ہیں اور ان کی اصلاح باطن کے لئے وہ خود کس طرح صحت مند قدروں کو عملاً برت کر انہیں بچوں اور بچیوں میں منتقل کررہے ہیں۔ سرکاری اور سماجی سطحوں پر اگر اپنی اپنی مفوضہ ذمہ داریوں سے بھر پور ا نصاف کیا گیا تو بڑی حد تک ہماری نسل ِ نو غلط کاریوں یاجرائم کی بھینٹ چڑھنے سے محفوظ رہے گی اور یہ سب ممکن العمل ہے۔