تازہ ترین

خوابوں کا‌کاروان

تاریخ    4 اپریل 2021 (00 : 12 AM)   


محمد یوسف شاہین
یونیورسٹی میں ایم۔اے کرنے کے دوران ہی ہماری آنکھیں چار ہوئیں تھیں‌اور آہستہ آہستہ ہم ایک دوسرے کے قریب اور پھر قریب تر آنے لگے۔‌مجھے اسکی زبانی جب یہ معلوم ہوا کہ وہ میرے اڑوس پڑوس میں ہی رہتی ہے تو میری خوشی دوبالا ہوگیی۔ ہم اور قریب آتے گیے۔ بقول شاعرؔ
رفتہ رفتہ وہ میرے ہستی کا سامان ہو گئے
ایک دن‌اُس نے مجھے اپنے گھر لیکر اپنے گھر والوں سے بھی ملادیا‌۔ جس سے میرا اسکے گھر جانا آسان بھی ہوا اور پھر میرا معمول بھی بن گیا۔ اسکے گھر کا ایک ایک فرد میرا گرویدہ ہوچکا تھا یا یوں کہیے کہ اب میں اسکے گھر کا جیسے ایک فرد بن چکا تھا۔ میں بہت خوش تھا۔
اسکے ایم۔ اے پاس کرنے کے بعد میں بضد رہا کہ وہ پی۔‌ایچ ۔ڈی کرنے کر لے۔
نہیں میں پی۔ایچ ۔ ڈی نہیں کرونگی‌بلکہ کوئی نوکری کرکے اپنے باپ کا ہاتھ بٹائونگی۔ آپکو تو پتہ ہی ہے کہ میرے والد صاحب کے  نازک کاندھوں پر کتنا بھاری بوجھ ہے۔‌وو روز یہی جواب دیکر ٹالتی رہتی تھی لیکن‌میں بھی پیچھے ہٹنے کا نام‌نہیں لیتا تھا۔ آخر ایک دن ہم دونوں اسکے کمرے میں بیٹھے تھے اور میں اسے دلائل دیکر قائل کرنے میں کامیاب ہوگیا اُس نے پی ایچ ڈی کرنے کیلئے آخر کار میرے دلائل کے سامنے گٹھنے ٹیک دیئے۔ 
اسکے ریسرچ کے موضوع کو یونیورسٹی کے متعلقہ بورڈ نے منظوری دیدی اور اسطرح وہ ریسرچ کرنے میں منہمک ہو گئی اور شائد اسی دن سےمیری بے لوث محبت کے تابوت کی کیلیں بھی تیار ہونے لگی تھیں۔
وہ تھیسس کا ایک ایک باب‌لکھتی تھی اور  وہ اسکے گائیڈ کے پاس لیجا کر اسکی تصحیح کرواکے دوسرے ہفتے واپس لانا اب میرا روزمرہ بھی بن چکا تھا‌۔ ایسا کرکے نہ  جانے کیوں مجھے ایک دلی فرحت سی محسوس ہوتی تھی۔ شاید یہ میری بے لوث محبت تھی۔
انجام‌کار تین سال کی مدت کے بعد اسکی محنت رنگ لائی اور وہ اپنی تھیسس کو پایہ تکمیل تک پہچانے میں کامیاب ہو گئی۔ لیکن اسے یونیورسٹی میں سبمٹ کرنے سے سے پہلے ہم‌ دونوں  نے تین‌دن اور اتنی ہی راتیں اسکی نوک پلک درست کرنے میں سرف کئے۔ 
تھیسس سبمٹ ہوگئی اور اسکا رزلٹ جلدی لانے کیلئے مجھے کتنے ہی پاپڑبیلنے پڑے وہ میں ہی جانتا ہوں۔
آخر ایک دن‌رزلٹ آگیا‌۔ تھیسس پی ایچ ڑی کیلئے منظور ہو چکی تھی اور اس روز میں جب یہ خوشخبری دینے کے لئے اسکے گھر گیا تو اسکی والدہ نے مجھے یہ کہا کہ وہ کسی ضروری کام‌سے باہر گئی ہے۔ میں کافی دیر تک  اسکے آنے کا‌بے صبری سے انتظار کرتا رہا مگر جب کافی دیر ہوگئی تو میں نے بوجھل قدموں سے اپنے گھر کیطرف رخ کیا۔ 
دوسرے دن‌وہ میرے آفس کے ٹیبل کے پاس کھڑی تھی، اسکا چہرا اترا ہوا تھا۔مبارک ہو! میں نے خوشی سے معمور ہو کر کہا۔
تھینک  یو مگر میں بہت پریشان ہوں۔ وہ کچھ اس انداز سے بولی کہ  سات برس کی طویل قربت میں پہلی بار میرے ہونٹوں سے بےساختہ میری جان کا لفظ ادا ہوا۔ 
تو اسمیں پریشان‌ہونےکی کیا بات ہے میری جان۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔ ہم دونوں پاس ہی کے کینٹین میں چائے پی کر آہستہ آہستہ گھروں کیطرف چلنے لگے۔
اسکے چہرے سے گھبراہٹ کے آثار نمایاں تھے، جنہیں میں اسے تسلی دیکر دور کرنیکی کوشش کرتارہا۔ 
کل میرا وائیوا ووس ہے تم آوگے نا‌وہاں، اس نے اپنے نازک ہاتھوں کو میرے ہاتھوں میں دیکر کہا۔کیسی بات کرتی ہو۔ میں ضرور آونگا مگر اندر نہیں آسکتا ہوں۔‌دوسرے روز میں خود اسکو اس جگہ تک لے آیا جہاں اسکا وائیوا ووس، ہونا تھا۔ 
وایوا‌ختم ہونے کے بعد جونہی وہ باہر آگئی تو اُسے خوشی سے جھومتے ہوئے دیکھ کر میں پھولے نہیں سما‌رہا تھا۔ 
وہ اب ڈاکٹر بن چکی تھی اور میرے دل میں خوشی کےلڈو پھوٹ رہے تھے۔ 
اس رات میں ساری رات کروٹیں بدلتا رہا۔‌میرے سامنے میری بیوں اور میرے دو بچے گہری نیند میں پڑے تھے۔ میں نے اس رات کتنے ہی خواب بنے ۔ دیر رات تک میں  اسکے بارے میں اور اپنے بارے میں سوچتا رہا اور آخر کار اپنی بیوں اور بچوں پر ایک اچٹتی نگاہ ڈال کر ایک اہم فیصلہ کرکے سوگیا۔ 
دوسرے روز وہ جب میرے پاس آئی تو میں نے اسمیں ایک نئی تبدیلی پائی۔ اسکے انداز ہی بالکل بدل چکے تھے۔ وہ جیسے ہوا‌میں اُڑ رہی تھی۔ اسکا یہ اچانک بدلائو دیکھ کر میں  دھنگ رہ گیا ۔ اسکے ہاتھ میں یونیورسٹی کیطرف سے اجرا کی گئی اسکے پی ایچ ڈی پاس کرنیکی رزلٹ نوٹفکیشن تھی۔ 
مبارک ہو، آخر ہم دونوں کا خواب آج پورا ہوا۔ میں نے فرطہ مسرت سے اسکے ہاتوں کو اپنے ہاتھوں میں لینا چاہا مگر وہ کچھ قدم پیچھے ہٹی اور کہا ۔ہم دونوں کا خواب نہیں میرا خواب پورا ہوا۔ میں سکتے میں آگیا‌اور‌میرے مزید کچھ کہنے سے پہلے ہی یہ کہہ کر چلی گئی کہ کل‌‌فلاں آفیسر نے میری پی۔ایچ ڈی کی خوشی میں‌فلاں فائیو سٹار ہوٹل میں ایک گرینڈ ٹریٹ کا انتظام‌کیا ہے ۔آپ چاہیں تو آپ بھی آجانا مگر ۔۔۔۔
مگر ؟کیا میں نے تجسس میں کہا۔
خدا را میرے سٹیٹس (Status)کا خیال رکھیے گا اور مجھ سے انکے سامنے ملنے کی کوشش‌مت کرنا پلیز۔ آخر میرے سٹیٹس کا سوال ہے نا۔ 
وہ چلی گئی اور میرے سامنے میرے خوابوں کا تاج محل سٹیٹس کی لحد میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دفن ہوگیا۔
���
آزاد بستی، غوثیہ سیکٹر نٹی پورہ
موبائل نمبر؛9149684453