تازہ ترین

بنت ِ حوا ، لعنت ِ جہیز

برصغیر ہندوپاک اور اسلام

تاریخ    1 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


محبوب اعوان
اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس میں چرند پرند ،انسان ،حیوان ہر مخلوق کو حقوق دیئے گئے ہیں بے زبان جانور بھی دین کامل میں اپنے حقوق رکھتے ہیں۔کسی بے زبان جانور کو ضررپہنچانے سے بھی دین حق نے جہاں منع کیا ہے وہاں اپنے اردگرد سماج میں انسانی حقوق بارے واضح بتلایا گیا ہے مگر اس سماج نے انسان سے زیادہ مال و دولت کی حوس میں اپنے آپ کو پوجاری بنا لیا ہے ہر کوئی دولت کا گرویدہ بنا بیٹھا ہے اور انسانی حقوق کی حق تلفی کی جا رہی ہے ۔میرے چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ کا موضوع  ہیکہ بنت حوا بارے جو قبیح رسم ہمارے سماج میں پروان چڑھ چکی ہے اس کا خاتمہ کیا جائے بجائے یہ رسم دن بدن مضبوط ہو تی جا رہی ہے جہاں اہل شعور انسان دنیا بھر میں موجود ہیں وہاں مخبوط الحواس ،کم ظرف انسانیت پر مال دولت کو ترجیح دینے والے بے شمار جاہل لوگ بھی موجود ہیں جو جہہز جیسی قبیح بے ہودہ رسومات کے ذریعے اللہ کی بنائی ہوئی خوبصورت مخلوق جسے بنت ِ حوا کہا جاتا ہے کو بغیر جہیز کے قبول نہیں کرتے حالانکہ یہ رشتہ ہمارے اردگرد ہر روپ ہر شکل کہیں ماں کی شکل میں ،کہیں بہن کی شکل میں اور کہیں بیٹی اور بیوی کی شکل میں موجود ہے ۔
کم ظرفی کی انتہا تب ہوتی ہے جب انسان رشتوں سے زیادہ مال پر آنکھیں جما لیتا ہے ۔پاکستان اور بھارت دو ایسی مشترکہ ریاستیں ہیں دو ایسے ملک ہیں جہاں بسنے والے مسلمان اس قبیح رسم کے مکمل طور پر شکنجے میں آچکے ہیں ۔ہزاروں بلکہ لاکھوں امت کی بیٹیاں اس قبیح رسم سے متاثر ہو کر گھروں میں بیٹھے جوانیاں بڑھاپے کی نذر کر رہی ہیں تو ان گنت واقعات ہیں کہ جہیز کم لانے یا نا لانے کی سکت رکھنے والی صنف نازک بھیڑیوں کے تشدد کا شکار ہو رہی ہیں کہیں ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہوتے ہیں تو کہیں ان پر طعنہ زنی کی جارہی ہوتی ہے
 الغرض جو رسوم و روایات اسلام کے ماننے والوں نے یعنی مومنوں نے ختم کرنی تھیں وہ ہی رسوم و روایات ہم مسلمان زیادہ شوق سے کر رہے ہیں۔انڈیا جہاںکروڑوں مسلمان آباد ہیں اس سماج میں ایسی بہو کو حقیقی بہو تسلیم کیا جاتا ہے جو ٹرک بھر کر ساتھ جہیزلاتی ہے خاندان میں بھی ایسی بہو کے چرچے ہوتے ہیں جو نیک سیرت ہو نا ہو نیک صورت بھی بھلا نا ہو مگر ساتھ ٹرک سامان لے آئی ہو۔ہمارے سماج میں یہ بے ہودگی وہاں سے شروع ہوتی ہے جب کسی بیٹی کو رخصت کر کے اس کے ہمسفر کے ساتھ بھیج دیا جاتا ہے اس کے بعد مہمان خواتین کو دلہن کی طرف سے لائے ہوئے سامان کو اٹھا اٹھا کے دیکھایا جاتا ہے کہ اتنے مہنگے مہنگے جوڑے خریدے گئے ہیں کپڑوں کے اتنے جوڑے ہیں جوتوں کے اتنے جوڑے ہیں ۔اس بے ہودگی کے موقع پر وہاں موجود متوسط طبقے کی لڑکیاں بھی موجود ہوتی ہوں گی جو سوچتی ہوں گی اگر ہمارے والدین نے ہمیں شادی پر یہ سب نا دیا تو ہم اس موقع پر کیا منہ دکھائیں گی؟اپنے سسرال کا سامنا کیسے کریں گی؟اپنی زندگی میں لعن طعن کیسے برداشت کریں گی ؟
یہ سب وہ باتیں ہیں جو حقیقت ہیں اس سماج کے ماتھے پر لگا جہیز کا یہ داغ بدقسمتی سے ذی شعورانسان پڑھا لکھا ہو ،مذہبی ہو خواہ کوئی بھی ہو سب اس بے ہودہ رسم کے تابع ہیں ۔پاکستان اور انڈیا اس قبیح رسم کو نبھانے میں سر فہرست ہیں کیونکہ مسلمانوں کی تعداد ان دونوں ممالک میں کرڑوں میں ہے مگر لاکھوں لڑکیاں جہیز نا ہونے کی وجہ سے بالوں میں چاندی اتارچکی ہیں ۔ہر سال 8مارچ کو خواتین کا عالمی سطح پر دن منایا جاتا ہے مگر اس نام نہاد دن میں خواتین کو درپیش حقیقی مسائل بارے ذکر بلکل نہیں کیا جاتا پاکستان ہو بھارت ہو یا دنیا کا کوئی بھی معاشرہ ہو خواتین کے عالمی دن پر خواتین کومختصر لباس میں پیش کیا جاتا ہے کہ عورت آزاد ہے وہ جو چاہے پہنے جو چاہے کرے اس پر کسی کو کوئی روک ٹوک نہیں ہونی چاہئیے مگر اس نام نہاد دن پر کبھی یہ نا سنا ہوگا کہ عورت کو جہیز کی وجہ سے جو مشکلات درپیش آرہی ہیں ان پر کب ؟کون؟ آواز اٹھائے گا ان کے اس ظلم سے آزادی کون دلائے گا ۔خواتین کے عالمی دن پر نمود و نمائش کر نے والی عورتوں میں بے شمار ایسی بھی ہوں گی جو سا س کے رشتے میں جڑی ہوں گی جن کے گھروں میں بہو جیسی نعمت بھی موجود ہو گی اس بارے وہ کبھی لب نہیں کھولتیں کہ ہم نے بغیر جہیز کے اپنی بہو کو قبول کیا تھا ۔۔ہم ہمارا سماج اس قدر گر چکے ہیں کہ جس مسئلے پر ہمارا مفاد ہو ہم صرف اس پر بات کر تے ہیں مگر جس مسئلے سے دوسرے گزر رہے ہوتے ہیں اس پر ہم چپ سادھے رکھتے ہیں ۔
منافقت سے بھر پور سماج پاکستان اور بھارت کا اٹھا کر دیکھئے تو کسی بھی سیمینار ،مباحثے ،ورکشاپ میں کبھی عورت اور جہیز کے موضوع پر حقیقی معنوں پر بحث نہیں کی جاتی ۔دورحاضر میں امت کی بیٹیاں حکمران بھی ہیں ،ٹیکنالوجی ہو صنعت و تجارت ہو ہر جگہ امت کی بیٹیاں اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں مگر جہیز جیسی قبیح رسم سے لاکھوں بیٹیاں گھروں میں بیٹی ذہنی کوفت میں بھی مبتلا نظر آتی ہیں ایک اور اہم مسئلہ جو ہمارے سماج میں رچ بس چکا ہے کہ جب کوئی خاندا ن بغیر جہیز کے کسی خاتون کو قبول کر نے پر راضی بھی ہو جائے لڑکی کے گھر والے اپنی مرضی سے ساتھ جہیز کی شکل میں رہن سہن کا سامان فراہم کردیتے ہیں کہ یہ سامان خوشی سے دیا جا رہا ہے جس سے بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پر پھر معاشرے میں یہ پیغام جاتا ہے کہ جہیز کے ساتھ ہی یہ شادی انجام پائی۔
مساوات پر مبنی سماج بنانا ہے تو اس میں عدل و انصاف اور حقوق العباد بارے بہت گہری سوچ رکھنی ہو گی کہ کسی باپ کو مقروض کر کر اس کی بیٹی کو ہم بیاہ کر نہیں لا رہے بلکہ اس کے ساتھ تجارت کر رہے ہیں کہ تمہاری بیٹی کو تب ہی اپنایا جائے گا جب اس کے ساتھ لاکھوں روپوں کا سامان بھی آئے گا تو،۔۔ایسی شادی سے کیا ہم سنت رسولﷺپوری کر رہے ہیں ؟یا ابلیس کی خواہشات کو تقویت دے رہے ہیں ؟
جہیز اگر حرام فعل نا ہوتا تو محمد علی جناغ اورمہاتما گاندھی جیسے عظیم رہنما بھی اپنی عوام کو یہ پیغام دے کر جاتے کہ ہر لڑکی کو بڑھ چڑھ کر جہیز دیا جائے اس قبیح رسم کے لیے قانون بنا دیتے مگر ایسا معاشرہ جہاں مساوات ہوں جہاں عدل ہو اور شادی بغیر اس لعنت کے ہو ہم سب کو اس اہم کام کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
 

تازہ ترین