تازہ ترین

عورت ہر رنگ میں احترام کے قابل ہے

بنت حوا

تاریخ    1 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


سبزار احمد بٹ
کون بدن سے آگے دیکھے عورت کو 
سب کی آنکھیں گروی ہیں اس نگری میں 
لفظ عورت سنتے ہی دل و دماغ میں محبت ایثار، ہمدردی ،وفا، اور شرم وحیا کی تصویر ابھر کر آتی ہے۔ یہ دنیا اگر خوبصورت اور حسین ہے تو یہ عورت کے دم سے ہے۔ عورت کے بغیر اس دنیا کا تصور کرنا بھی بے معنی ہے ۔عورت محض بچے جننے کی مشین نہیں ہے بلکہ دنیا میں جس قدر رعنائیاں ہیں سب عورتوں کے دم سے ہیں۔ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ "دنیا ساری متاح ہے مگر اس کی سب سے بہتر متاع صالح عورت ہے "۔عورت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک نعمت ہے ،جب یہ نعمت بیٹی کی شکل میں ملتی ہے تو باپ کی خدمتگار ہوتی اور باپ اس کی پرورش بڑے نازو نعیم سے کرتا ہے اور بیٹیوں کی پرورش کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے باپ سے جنت کا وعدہ کیا ہے ،یہی نعمت جب ماں کی صورت میں ملتی ہے تو عزت و احترام کے انتہائی اعلیٰ درجے تک پہنچ جاتی ہے جہاں اللہ رب العزت نے اس کے پاؤں تلے جنت قرار دی ہے اور اولادوں پر اس کی خدمت فرض قرار دی گئی ہے اور اس ہستی سے اُف تک کرنے کی اجازت نہیں ہے۔عورتوں کے اسی روپ کی عظمت پر منور رانا نے یہ شعر کہا تھا کہ 
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذان دیکھی ہے 
میں نے جنت تو نہیں دیکھی، ماں دیکھی ہے 
عورت کا یہ روپ سب سے ممتاز اور معتبر ہے جہاں یہ نسلوں کی پرورش کرتی ہے۔ماؤں نے اپنی تربیت سے نہ جانے کتنے عالم، زاہد، دیندار، سخنور اور مفکر پیدا کئے ہیں ۔تاریخ نے ایسی ماؤں کو بھی دیکھا ہے جنہوں نے اپنے بچوں کی بہترین پرورش کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا ۔تاریخ کو ایسی ماؤں پر ناز ہے۔ ماں ایک بہترین تربیت گاہ ہے۔یہ نعمت جب بہن کی صورت میں ملتی ہے تو بھائی کا فخر ہوتی ہے، بھائی کا عزت و وقار ہوتی ہے۔ بھائی بہن میں اکثر نوک جھونک ہوتی رہتی ہے جس سے یہ رشتہ اور زیادہ مضبوط اور میٹھا بنتا ہے۔ اسلام نے بھائیوں پر بہنوں کی عزت لازمی قرار دی ہے۔ بہن کی قدرومنزلت اس سےپوچھی جا سکتی ہے جس کی بہن نہیں ہوگی۔عورت جب ایک انسان کو بیوی یعنی شریک حیات کی صورت میں ملتی ہے تو اپنا سب کچھ چھوڑ کر اپنے شوہر کو ہی سب کچھ مانتی ہے۔اس صورت میں عورت نہ صرف اپنے شوہر کا ایمان مکمل کرتی ہے بلکہ اس کے ایمان کی حفاظت بھی کرتی ہے ۔اتنا ہی نہیں عورت اس صورت میں مرد کی ہمراز بنتی ہے۔ وہ قدم قدم پر نہ صرف اپنے شوہر کا ساتھ دیتی ہے بلکہ اس کا حوصلہ بھی بڑھاتی ہے اور اس کے بچوں کی پرورش کرتی ہے لیکن افسوس کہ چند شوہر حضرات بیوی کو غلام سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو ان کا مالک اور آقا جبکہ اسلام نے شوہر پر لازم قرار دیا ہے کہ وہ عورت کی ہر جائز خواہش کا احترام کرے ،گھریلو کام میں بیوی کی مدد کرے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے رشتہ داروں کا بھی احترام کرے۔ بہت سارے مرد عورتوں پر ہاتھ اٹھاتے ہیں اور اپنے آپ کو مرد اور بہادر سمجھتے ہیں جبکہ اس سے زیادہ بزدلی کی مثال کوئی اور نہیں ہو سکتی ۔
موجودہ دور میں عورت ظلم و تشدد کی شکار ہے ۔آئے دن کوئی نہ کوئی واقعہ ایسا سننے کو ملتا ہے جہاں دنیا والوں کے ظلم و ستم سے تنگ آکر عورتیں خودکشی جیسا بھیانک قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ آج عورت کی عزت گھر سے کالج، یا گھر سے ہسپتال تک بھی محفوظ نہیں ہے ۔مختلف طریقوں سے عورتوں پر ظلم و ستم آج بھی جاری ہے جس کے خلاف ہم سب کوکمر بستہ ہونے کی ضرورت ہے۔ آخر مردوں کی غیرت کو کیا ہو گیا ہے۔ مرد کبھی عورت کا محافظ ہوا کرتا تھا چاہے مرد کے ساتھ اس عورت کا کوئی رشتہ ہوتا یا نہ ہوتا لیکن آجکل کے مرد سے عورت کو ڈر لگتا ہے کہ کہیں وہ اس کی عزت کو تار تار نہ کر دے ۔موجودہ معاشرہ بغاوت پر اتر آیا ہے۔ ایک طرف عورتوں کو مکمّل آزادی دی گئی ہے اور عورتیں مغربی رسوم میں کھو کر مردوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن چکی ہیں جبکہ دوسری طرف عورتوں پر مکمّل طور پر پابندی لگائی گئی ہے اور انہیں بات کرنے تک کی اجازت نہیں ہے جبکہ یہ دونوں نظرئیے فطرت کے منافی ہیں ۔آخر اس ذات کو صنف نازک قرار دیا گیا ہے ۔یہ ذات اونچی آواز میں بولنا برداشت نہیں کر سکتی تو اس پر زمانے کے ظلم وستم کیوں ۔
اسی ظلم و ستم کی ایک شکل جہیز بھی ہے جو آجکل عام ہوگئی ہے جبکہ اسلام میں اس بدعت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس وقت ہزاروں لڑکیاں ایسی ہیں جن کہ عمر ڈھلتی جا رہی ہے۔ ان کی شادی محض اس وجہ سے نہیں ہو رہی ہے کہ ان کے والدین جہیز دینے کی حالت میں نہیں ہوتے ہیں ۔اس بدعت کا ہم سب کو مقابلہ کرنا ہوگا تاکہ یہ بدعت جڑ سے ختم ہو اور عورتیں معاشرے میں اسی عزت اور وقار سے رہیں جو اسلام نے ان کے لیے وضع کیا ہے ۔آجکل حوس پرستوں نے عورتوں کا جینا مشکل کر دیا ہے ۔آئے دن ایسے واقعات سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں عورتوں کے ذات زیادتی ہوتی ہوئی دکھائی جا رہی ہے۔
 ہمیں اس ذات کا احترام کرنا چاہئے لیکن اس صنف نازک پر بھی چند ایک ذمہ داریاں آئد ہوتی ہے کہ یہ شرم و حیا کے دائرے میں رہیں کیونکہ شرم و حیا عورت کا سب سے بڑا زیور ہے۔آجکل کی چند عورتیں عریانی اور فحاشی کو اپنے لیے آزادی سمجھتیں ہیں اور وہ بھائی، باپ، ہا شوہر کی روک ٹوک کو قید سمجھتی ہیں۔ ان گنے چنے عورتوں کی وجہ سے ساری عورتیں خاص کر مسلم معاشرے کی عورتیں بدنام ہو جاتی ہیں۔ایسی عورتیں بار بار آزادی مانگتی ہیں لیکن آج تک کسی کی سمجھ میں یہ نہیں آیا کہ انہیں کس طرح کی آزادی چاہیے جبکہ جو وقار اور عزت عورت کو دین اسلام نے دیا ہے، اس کی مثال ملنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔ اسلام نے عورت کو وراثت میں سے حق دیا ہے۔اسلام نے غیر محرم عورتوں سے پردہ کرنے کا حکم دیا ہے بلکہ مردوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی کریں۔بھلا اس سے زیادہ ایک عورت کو کیا چاہیے کہ مرد کو ہر رنگ میں عورت کا محافظ بنایا گیا ۔مرد اور عورت اس معاشرے کے دو پہیے ہیں ۔انہیں اس دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا چاہیے اور ان حدود میں رہ کر زندگی گزارنی چاہیے جو اسلام نے ان کے لئے متعین کئے ہیں ۔تب جا کر ایک بہترین معاشرے کی توقع کی جا سکتی ہے جہاں عورت کی عزت محفوظ رہنے کی مکمّل ضمانت دی گئی ہے۔
رابطہ۔اویل نورآباد،کولگام کشمیر

تازہ ترین