تازہ ترین

کورونا اور جموں…گھبرائیں نہیں بس سنبھل جائیں

تاریخ    30 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


 صوبہ جموں خاص کر جموںشہر میں جس طرح گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران کووڈ معاملات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ،وہ واقعی تشویشناک ہے اور ایک بار پھر اس ناقابل تردید حقیقت کی جانب واضح اشارہ کرتا ہے کہ کورونا ہمارے انسانی سماج میں گہرائی تک سرایت کرچکا ہے ۔جموں شہر میں گزشتہ چارروز کے دو ران کم وبیس دو سوکورونا کے معاملات سامنے آئے ہیں اورامسال پہلی دفعہ جموں میں کورونا کے معالات میں اتنا زیادہ اُچھال دیکھنے کو مل رہاہے۔گزشتہ ہفتہ تک عام تاثر یہی تھاکہ کورونا کشمیر میںہی دوبارہ پھیل رہاہے جبکہ جموں قدرے محفوظ ہے کیونکہ کیس زیادہ نہیں آرہے تھے ۔عوامی تاثر یہ تھا کہ شاید کشمیر میںلاپرواہی زیادہ ہورہی ہے ،اسی لئے وہاں کورونا پھیل رہا ہے ۔ہمارے سیول سیکریٹریٹ میں بھی بیروکریٹوں کی سوچ اس سے کچھ مختلف نہیں تھی اور عملی طور کشمیری لوگوں کو لاپرواہی کے طعنے دئے جارہے تھے تاہم اب جو صورتحال جموں صوبہ سے ابھر کر سامنے آرہی ہے ،وہ تشویشناک ہے اور اس حقیقت کی جانب اشارہ ہے کہ کورونا جتنا کشمیر میںموجود ہے ،اتنا ہی جموں میں بھی موجود ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ جموں میںگزشتہ ہفتہ تک کووڈ انیس کے حوالے سے ٹیسٹنگ نہ ہونے کے برابر تھی ۔اب جب ضلع اور صوبائی انتظامیہ جموں نے رنڈم ٹیسٹنگ شروع کی تو پتہ چلا کہ چائے بیچنے والے سے لیکر سرکاری دفاتر کے ملازمین اور ڈاکٹروں تک میں کورونا مریضوں کی بھرمار ہے ۔ریپڈ انٹی جن ٹیسٹنگ عمل سے گزشتہ ایک ہفتہ میں جموں صوبہ میں جس طرح نئے معاملات سامنے آئے ،وہ دکھاتا ہے کہ جموںمیں بھی کووڈ انیس کا وائرس موجود تھا اور یہ انسانی سماج میں بہت گہرائی تک داخل ہوچکا تھاتاہم جب تشخیص ہی نہیںہورہی تھی تو پتہ نہیںچل پارہا تھا کہ آخر اس دراندازی کی نوعیت کس قدر سنگین ہے تاہم اب معاملات واضح ہوچکے ہیں اور پتہ چل چکا ہے کہ کووڈ انیس وائرس جموں کے تمام علاقوں میں نہ صرف موجود ہے بلکہ یہ اپنا کام کررہا ہے ۔جموں میں گزشتہ چند روز کے دوران کیسوں میں اچانک اضافہ بھی اس حقیقت کا غماز ہے کہ صوبہ میں صورتحال کوئی اطمینان بخش نہیںہے بلکہ کورونا سے متاثرہ انتہائی نازک مریض ہسپتالوں کا رخ کررہے ہیں۔یہ اچھی بات ہے کہ انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر کووڈ ٹیسٹ کرانے کا سلسلہ شروع کررکھاہے ۔اس سے ایک اندازہ ہوگا کہ کس حد تک سوسائٹی متاثر ہے اور پھر اسی انداز میں اس کا رسپانس بھی تیار کیاجاسکتا ہے ۔ریپڈ انٹی جن ٹیسٹ چونکہ فوری نتیجہ دیتا ہے تو یہ انتہائی کارگر ہتھیار ہے اور جموں میں بیشتر معاملات اسی ٹیسٹ کے ذریعے ہی سامنے آرہے ہیں۔کورونا کس قدر حملہ آور ہوچکا ہے ،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ روز صرف جموں شہر میں56معاملات سامنے آئے اور ان میں سے اکثریت اگرچہ باہر سے آنے والے مسافروں کی تھی تاہم مقامی متاثریں بھی کچھ کم نہ تھے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مقامی سطح پر وائرس سرایت کرچکا ہے اور اگر ٹیسٹنگ کی رفتار بڑھائی جائے تو کیسوں کی تعداد میں اضافہ طے ہے۔جہاں تک متاثرین کے ساتھ رابطے میں آنے والوں کا تعلق ہے تو سوچ کرہی پھر خوف آجاتا ہے ۔ایک زمانہ تھا جب ٹریول ہسٹری پوچھی جاتی تھی ،رابطے میں آنے والوں کی لسٹ بنائی جاتی تھی لیکن اب کووڈ اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ اب شمار رکھنا مشکل ہوچکا ہے ۔ یہ صورتحال قطعی خوش آئند قرار نہیں دی جاسکتی ہے ۔ہاں اس میں اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ فی الوقت جو کیسوں میں تعداد میں ہم اضافہ دیکھ رہے ہیں ،یہ جارحانہ ٹیسٹنگ کا نتیجہ ہے اور یہ اونچی یا لمبی اچھال کچھ وقت تک رہ سکتی ہے جس کے بعد گراف پھر نیچے آسکتا ہے ۔فی الحال ہمیں ان بڑھتے معاملات سے فکر مند ضرور ہونا چاہئے لیکن پریشان نہیں کیونکہ پریشانی کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔یہ نیا رجحان اس بات کا متقاضی ہے کہ ٹیسٹنگ کے عمل کو زیادہ سے زیادہ وسعت دی جائے اور زیادہ سے زیادہ علاقوں میں ہمہ گیر ٹیسٹنگ کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ کورونا کے ایسے مریضوں کا پتہ لگ سکے جن میں علامات نہیں ہیں یا اگر علامات ہیںتو بتاتے نہیں ہیں کیونکہ ایک دفعہ جب کورونا کے سبھی مریض رپورٹ ہونگے تو علاج آسان ہوگا اور پھر کورونا گراف کو کم کرنے میں آسانی ہوگی ۔امید کی جاسکتی ہے کہ انتظامیہ ٹیسٹنگ کے موجودہ عمل کا دائرہ بڑھائے گی اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ٹیسٹ کرائے گئے ۔ساتھ ہی لوگوںسے یہ توقع کی جارہی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر مکمل طور عمل کرکے اس عمل میں حکومت کو مکمل تعاون فراہم کریںگے تاکہ کورونا کے خونی پنچوں سے انسانی سماج کو نجا ت مل سکے۔
 

تازہ ترین