تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    26 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی

شب برات۔ دُعائیں قبول ہونے کی رات

گُناہوں سے توبہ کر کے مغفرت، رحمتوں اور نعمتوں کا مستحق بننے کا وقت

سوال : پندرہویں شعبان کی رات جس کو شب برات کہا جاتا ہے، کے متعلق ہمارے معاشرے میں مختلف نقطۂ نظر پائے جاتے ہیں اور طرز عمل بھی مختلف رہتا ہے۔ براہ کرم اس سلسلے میں احادیث کی روشنی میں صحیح اور مدلل نقطۂ نظر واضح فرمائیں۔
مدثر احمد آخون، رفیع آباد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب: شب برات کے متعلق فضیلت کی چند احادیث یہ ہیں:
۱۔ حضرت معاذ بن جبلؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں تاریخ کی رات کو مخلوقات کی طرف توجہ فرماتے ہیں، مشرک اور کینہ پرور کے علاوہ تمام مخلوقات کو معاف فرما دیتے ہیں۔
یہ حدیث صحیح ابن حبان، بیہقی، طبرانی اور الترغیب میں ہے ۔ اس حدیث کے متعلق علوم حدیث کے مشہور محقق شیخ ناصر الدین البانی  ؒ نے سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ میں فرمایا ہے کہ یہ حدیث صحیح اور صحابہ کی ایک بڑی جماعت سے متعدد طرق سے مروی ہے۔ اس مجموعہ طرق کی بنا پر بلا شبہ یہ صحیح ہے۔ پھر شیخ البانی ؒنے یہ بھی لکھا ہے کہ جس کسی نے اس حدیث کو ضعیف لکھا اس نے قلت تلاش اور عجلت پسندی میں یہ لکھا ہے۔ شیخ نے یہ بھی لکھا ہے کہ جس نے بھی شعبان کی نصف شب کے متعلق یہ لکھا کہ اس میں کوئی فضیلت نہیں ہے وہ بات قابل اعتماد نہیں۔
 ملا حظہ ہو سلسلۃ الاحادیث جلد نمبر ۳ ص ۱۳۵۔
(۲) حضرت عبد اللہ بن عمر ؓسے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ اپنی مخلوق کی طرف پندرہویں شعبان کی رات میں توجہ فرماتے ہیں اور دو انسانوں کے علاوہ سب کی مغفرت فرماتے ہیں۔ ایک کینہ رکھنے والا، دوسرا کسی کو ناحق قتل کرنے والا۔
یہ حدیث مسند احمد اور مجمع الزوائد میں ہے۔ اس حدیث کے متعلق بھی شیخ البانیؒ نے کہا کہ یہ حدیث ِحسن ہے۔
(۳) حضرت ابو موسیٰ ؓسے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ پندرہویں شعبان کی رات کو بندوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور تمام بندوں کی مغفرت فرما دیتے ہیں۔ سوائے دو انسانوں کے ایک شرک کرنے والا، دوسرے دل میں نفرت اور کینہ رکھنے والا۔ یہ حدیث ابن ماجہ میں اور امام سیوطی نے درمنثور میں نقل کی ہے اور شیخ البانی نے بھی اس کو اپنی مرتب کردہ صحیح ابن ماجہ میں نقل کیا ہے نیز یہ حدیث بیہقی میں بھی ہے۔
(۴) حضرت ابو بکر صدیقؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نصف شعبان کی رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ بندوں کی طرف نزول فرماتے ہیں۔ پھر اپنے تمام بندوں کی بخشش فرماتے ہیں۔ مگر جو شرک یا کینہ پروری میں مبتلا ہو اس کی مغفرت نہیں فرماتے۔ یہ حدیث مسند بزّار میں ہے۔علامہ عبد الرحمن مبارک پوری ؒنے لکھا کہ بزار نے اس حدیث کو ایسی سند سے ذکر کیا ہے جس میں کوئی نقص نہیں۔ (لا باس بہٰ) کا  حکم اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لئے لکھا ہے۔
(۵) حضرت عثمان بن ابی العاصؓ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پندرہ شعبان کی رات آتی ہے تو ایک آواز دینے والا آواز دیتا ہے کہ کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اس کو عطا کروں۔ کوئی معافی مانگنے والا ہے کہ میں اس کو معاف کروں۔ پھر جو شخص بھی مانگنے والا ہوتا ہے اس کو عطا کر دیتے ہیں سوائے زنا کار کے اور شرک کرنے والے کے۔
یہ حدیث امام بیہقی نے شعب الایمان میں ذکر کی ہے۔
(۶) حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب پندرہ شعبان کی رات آتی ہے تو اس رات عبادت کے لئے کھڑے ہوا کرو اور اس کے دن کو روزہ رکھا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس میں غروب شمس کے بعد آسمان کی طرف نزول فرماتے ہیں، پھر اعلان فرماتے ہیں:’’ ہے کوئی مغفرت مانگنے والا، میں اس کی مغفرت کروں گا۔ ہے کوئی رزق چاہنے والا میں اس کو رزق دوں گا۔ ہے کوئی مصیبت زدہ میں اس کو عافیت عطا کروں گا۔ ہے کوئی سوال کرنے والا میں اس کو عطا کروں گا۔ کیا کوئی ہے کیا کوئی ہے‘‘۔ یہ اعلان صبح صادق تک ہوتا رہتا ہے۔ اس حدیث کی بنا پر پندرہ تاریخ کو روزہ رکھنا ثابت ہے۔
یہ حدیث ابن ماجہ میں اور امام بیہقی کی شعب الایمان میں ہے نیز حافظ منذری نے اس کو الترغیب میں اور حافظ ابن رجب حنبلی نے لطائف المعارف میں اس کو نقل کیا ہے۔
(۷) حضرت ابو ثعلبہؓ سے مروی ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نصف شعبان کی رات آتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف توجہ فرماتے ہیں پھر اہل ایمان کی مغفرت فرما دیتے ہیں اور کافروں کو مہلت دیتے ہیں اور کینہ رکھنے والوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔اس حدیث کو امام بیہقی نے اور امام طبرانی نے نقل فرمایا ہے۔
(۸) یحییٰ ابن کثیر سے مروی ہے کہ ایک رات حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے اور حضرت عائشہؓ ان کو تلاش کرنے نکلیں، تو آپ ؐ  کو جنت البقیع (قبرستان) میں پایا۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آسمان کی طرف سرمبارک اٹھائے ہوئے ہیں پھر حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ شانہٗ پندرہ شعبان کی رات کو بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی مقدار سے زیادہ لوگوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ امام بیہقی نے اس حدیث مرسل کو نقل فرمایا ہے پھر لکھا کہ اس حدیث کے شواہد میں صدیق اکبرؓ، ابو موسیٰ اشعریؓ کی احادیث بھی ہیں۔ لہذا یہ معتبر اور قابل عمل ہے۔
ان میں شرک کرنے والا، والدین کے نافرمان، ڈاکو اور کینہ پرور لوگوں کو مستثنیٰ کیا گیا ہے۔
(۹) حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، فرماتی ہیں :میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناکہ اللہ تعالیٰ چار راتوں میں خیر کے دروازے کھول دیتے ہیں عید الاالضحیٰ کی رات، عید الفطر کی رات، پندرھویں شعبان کی رات اور عرفات کی رات۔ یہ خیر اذان تک رہتی ہے۔
یہ حدیث امام سیوطی نے در منثور میں نقل فرمائی ہے۔
(۱۰) حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس جبرئیل آئے اور یہ کہا کہ آج پندرہ شعبان کی رات ہے۔ اس رات میں اللہ تعالیٰ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کے بقدر لوگوں کو جہنم سے آزاد کر دیتے ہیں اور نہ کسی مشرک کی طرف، نہ کسی کینہ پرور کی طرف، نہ کسی قطع رحمی کرنے والے کی طرف، نہ کسی ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے والے کی طرف، نہ کسی والدین کی نافرمانی کرنے والے کی طرف، نہ کسی شراب کے عادی کی طرف نظر رحمت فرماتے ہیں۔
یہ حدیث حافظ منذری اور امام بیہقی نے نقل فرمائی ہے۔اس کے علاوہ مصنف ابن ابی شیبہ، ترمذی، ابن ماجہ ، بیہقی میں اور بھی احادیث منقول ہیں۔
شعبان کی پندرھویں رات کی فضیلت کے متعلق یہ دس احادیث نقل کی گئیں۔ اس لئے تمام فقہاء محدثین اور اولیاء اس رات کی فضیلت کے قائل اور اس رات میں عبادت کرنے میں شوق سے سرگرم رہتے ہیں۔
حضرت امام شافعی نے اپنی کتاب الام میں لکھا کہ بلا شبہ پانچ راتوں میں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ عید الفطر کی رات، عید الاالضحیٰ کی رات، جمعہ کی رات ، رجب کی پہلی رات، اور شعبان کی نصف رات۔ پھر امام شافعی نے فرمایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ مستحب ہے فرض نہیں۔
علامہ مناوی نے فیض القدیر میں علامہ عراقی کے حوالے سے لکھا کہ علامہ ابن تیمیہ نے فرمایا نصف شعبان کی ر ات کے سلسلے میں بہت سے اخبار و آثار یعنی احادیث اور صحابہ کے ارشادات مروی ہیں جو اس رات کی فضیلت کو ثابت کرتے ہیں۔ قاضی عبد الرحمن نے ترمذی کی شرح
 تحفہ الاحوذی میں لکھا کہ اس رات کی فضیلت میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں جن کا مجموعہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اس کی اصل (فضیلت) ثابت ہے۔

فقہ حنفی کی تمام کتابوں مثلاً مراقی الفلاح، درمختار، بحرا لرائق وغیرہ میں اس رات کی عبادت کو مندوب لکھا ہے۔ اسی وجہ سے یہ طے ہے کہ اس رات میں عبادت اور دعاؤں میں مشغول ہونا تمام اکابرین امت کا ہمیشہ معمول رہا ہے۔ لہٰذا شوق اور جذبے کے ساتھ عبادات میں مشغول رہنا عظیم عمل ہے۔عبادات میں نمازیں، تلاوت، تسبیحات ، تحمیدات، درود شریف اور دعائیں ہیں اور توبہ و استغفار بہت اہم ہے۔

خیر القرون یعنی صحابہ ، تابعین اور تبع تابعین کے عہد مبارک میں اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا خوب اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ چنانچہ علامہ ابن حجر نے مواھب اللدنیہ میں اور ابن حاج مکی نے المدخل میں لکھا کہ سلف صالحین اس رات کی دوسری راتوں سے زیادہ تعظیم کرتے تھے یعنی عبادات اور دعاؤں میں مشغول رہتے تھے ۔حضرت عمر بن عبد العزیز نے بصرہ کے گورنر کو خط لکھا اور اس میں فرمایا: چار راتوں میں عبادت کا خوب اہتمام کرنا، کیونکہ ان راتوں میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت بارش کی طرح برساتے ہیں۔
ماہ رجب کی پہلی رات، شعبان کی پندرھویں رات اور عیدین کی دو راتیں ۔ اللہ تعالیٰ ان راتوں کی خالص عبادت کی توفیق سب کو عطا فرمائے اور ہر طرح کی دینی و دنیوی ضروریات کی مقبول دعاؤں کا جذبہ نصیب کرے ۔ آمین۔
 احادیث کے تفصیلی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس رات جن افراد کی مغفرت نہیں ہوتی وہ یہ ہیں:
۱۔ شرک کرنے والا (۲) والدین کا نافرمان (۳) زنا کار مرد و عورت (۴) ناحق قتل کرنے والا (۵) غیر شرعی بنیاد پر کینہ رکھنے والا (۶) قطع رحمی یعنی رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنے والا (۷) شراب یا کوئی اور نشہ آور چیز استعمال کرنے والا (۸) جادو گری کرنے والا (۹) ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے والا (۱۰) اہل حق سے الگ ہو جانے والا (۱۱) ستاروں کو دیکھ کر فال بتانے والا (۱۲) ہاتھوں کے نشان دیکھ کر آئندہ کی خبریں بتانے والا  (۱۳) گانا، طبلہ، باجا بجانے والا (۱۴) جبراً ٹیکس وصول کرنے والا (۱۵) شریعت اسلامیہ کے کسی حکم کی تحقیر کرنے والا۔ ان افراد کے لئے ایک ہی سبیل ہے اور وہ یہ کہ پہلے ان گناہوں سے سچی وپکی توبہ کریں اور پھر شب برات کی نعمتوں رحمتوں اور مغفرتوں کے مستحق بن سکتے ہیں۔