تازہ ترین

مرد کی دنیا عورت سے آباد

عورت کو ہر دن تحفظ چاہئے اور حقوق کی گارنٹی بھی

تاریخ    25 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


ملک منظور
یہ ایک نمایاں حقیقت ہے کہ انسان کا وجود دو پہیوں پر قائم ہے۔مرد اور عورت۔نہ اکیلا مرد دنیا میں جی سکتا ہے اور نہ انسانی نسل کو آگے بڑھا سکتا ہے۔اسی طرح عورت کا معاملہ بھی ہے۔اس بات سے قدرت کے اس قانون کی وضاحت ہوتی ہے کہ جنسی اعتبار سے دونوں کی اہمیت یکساں ہے نہ کوئی بہتر ہے اور نہ ہی کوئی کمتر۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے تو دنیا میں جنسی بنیاد پر امتیاز کیوں،؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک ذہنی فتور ہے جس کو مرد حضرات نے خود ہی تخلیق کیا اور خواتین حضرات پر مسلط کیا۔قدرت نے انسان کو سماعت،بصارت ،شعور اور ادراک سے مالامال کر کے یہ اختیار دیا کہ وہ اپنا معاشرہ خود تشکیل دے اور خود ہی فیصلے بھی کرے اس ضمن میں الہامی احکامات بھی نازل فرمائے گئے تاکہ انسان ان احکامات کو ملحوظِ نظر رکھ کر اپنی ذندگی گزار سکے۔لیکن انسان نے اپنی من مانی سے نئے قوانین وضع کیے اور جنسی امتیاز کو فروغ بخشا۔یوں مرد حضرات نے خود کو دنیا کا حکمران بنا کر ایک اہم طبقے کو پہلے خود ہی محکوم بنایا اور پھر ان کے حقوق کے بارے میں آواز اٹھانے لگے۔لیکن یہ آواز بہت کم سنائی دیتی ہے نتیجتاً بنت حوا آج بھی ابن آدم کے ظلم و زیادتی کی شکار ہے۔  
 آج جب کہ دنیا میں علم و ادب اور دانشمندی کا دبدبہ ہے اور حقوق انسانی کا بول بالا لیکن عورتیں آج بھی انصاف کے تقاضوں سے محروم ہیں۔لڑکوں اور لڑکیوں میں آج بھی بھید بھاؤ کیا جاتا ہے، لڑکوں کو آگے بڑھنے کی ترغیب اور لڑکیوں کو گھر بار سنبھالنے کی تربیت دی جاتی ہے حالانکہ علم و دانش کا حصول دونوں کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہے اس میں کوئی رعایت نہیں ہے۔ اسلامی نقطہ نظر میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ عورتوں کو علم کے نور سے منور نہ کیا جائے۔تو پھر ہمارے معاشرے میں یہ بات کیسے فروغ پائی کہ لڑکیوں کو زیادہ تعلیم دینے کی ضرورت نہیں ہے۔حالانکہ قدرت نے ذہنی قوتوں میں کوئی کمی یا برتری کا معیار نہیں رکھا ہے اس کے پیچھے بھی مرد حضرات کا آرام و آسائش ہے۔عورتوں کو گھر کا کاج اور کھانا پینا تیار کرنے کا فریضہ سرانجام دینا ضروری ہے۔حالانکہ یہ ضروری نہیں ہے۔ہاں جسمانی لحاظ سے مردوں کو جسیم اور قوی ضرور بنایا ہے لیکن اس کا تعلق صرف اور صرف کام کاج کے معاملوں سے ہے۔ عورت اچھی ہے تو معاشرہ اچھا ہے اور عورت اچھی نہیں ہے تو معاشرہ کیسے اچھا ہوگا۔عورت ایک ستون کی حیثیت رکھتی ہے جس پر معاشرے کے امن و عافیت کی چھت ڈالی جاسکتی ہے۔معاشرے میں عورت کی حیثیت کودیکھ کر قوم کی عظمت اور سربلندی کا اندازہ  لگایا جاسکتا ہے۔
عورت کی عظمت و رفعت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ عورت کے بارے میں قرآن نے کہا عورت اگر ماں ہے تو اس کے قدموں تلے اپنی جنت تلاش کرو،اگر یہ بیٹی ہے تو اس کی بہتر ین پر ورش کے عوض تمہیں جنت کی بشارت دی جاتی ہے۔ اگر یہ بہن ہے تو اس کے باعث تم صدقہ وجہاد کے ثواب کو حاصل کر وگے اور اگر یہ بیوی ہے تو یہ تمہارا لباس ہے،تمہیں ڈھانپ لینے والی اور تمہاری تمام ترکجیوں پر پردہ ڈال کرتم سے محبت کر نے والی۔عورت ہر روپ میں مرد کے لیے ایک ساتھی ، ہمدرد ،محب ،اور مدد گار ثابت ہوئی ہے اور آگے بھی ہوگی۔غور طلب بات ہے کہ دنیا مرد اور عورت دونوں جنسوں کے باہمی اشتراک سے قائم ہے نہ اس میں کسی کا کردار زیادہ ہے اور نہ ہی کسی کا کم بلکہ اگر باریکی سے دیکھا جائے تو عورت میں جذبہ ایثار زیادہ ہے اور وہ ہر مرحلے پر خود کو قربان کرنے کے لئے تیار رہتی ہے۔اب جب کہ ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ دنیا کی آدھی آبادی مونث ہے تو یہ بات بھی ناگزیر ہے کہ اس آبادی کو سماجی بہبودی کے معاملات میں آگے بڑھنے کا برابر موقع دیا جائے کیونکہ اس کے بغیر ہماری ترقی ممکن ہی نہیں ہے۔
 اسلام نے اس بات کا پورخیال رکھا ہے کہ کسی عورت کے ساتھ صرف عورت ہونے کی بنیاد پرناانصافی نہ ہونے پائے۔نہ اس کی صلا حیتیں کچلی جائیں اور نہ اس کی شخصیت کو دبا یا جائے۔ خدا کے رسول ؐنے کوشش کی کہ اسلام نے انسانوں کو جو حقوق د ئیے ہیں ان سے مردبھی واقف ہوں اور عورتیں بھی۔ دونوں اپنے حقوق حاصل کریں اور اپنے اپنے فرائض کو اپنے دائرہ اختیار میں بخوبی ادا کریں۔ ایک مرد کو اگر گھر جمائی بننے کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ یہ کہہ کر انکار کرتا ہے کہ اس سے بہتر ہے خودکشی کر کے مرجانا لیکن گھر جمائی نہیں بننا چاہیے۔یہ ہے اس مردکا حال جو اپنے لئے خوبصورت بیوی ڈھونڈ کر گھر لاتا ہے اور وہ بیوی اپنے والدین ،بھائی بہن اور دوسرے رشتے داروں کو چھوڑ کر خوشی خوشی اپنے شوہر کے ساتھ چلی جاتی ہے۔یہ وہ قربانی ہے جس کی کوئی بھرپائی نہیں کرسکتا۔لیکن مرد حضرات کا دل پھر بھی نہیں بھرتا وہ دہیج کے نام پر اسی ابلا ناری پر طرح طرح کے ستم ڈھاتا ہے یہاں تک کہ اس کی جان تک لے لیتا ہے۔میں پوچھتا ہوں یہ کیسا رواج ہے اور یہ کونسی ریت ہے جو ایک مرد کو اتنا مہنگا اور ا ایک عورت کو اتنی کم قدر بناتی ہے۔بیوی کے روپ میں آج کل عورتیں نہ جانے کیا کیا اذیتیں برداشت کررہی ہیں۔گھریلو تشدد تو کبھی کبھار ہی سامنے آتا ہے کیونکہ عورتوں میں یہ عجیب مادہ بھرا ہوا ہے کہ وہ اس امید پر ضبط سے کام لیتی ہیں کہ شاید حالات بدل جائیں گے اور پھر میکے میں بھی بہت کم عزت ملتی ہے بچوں کا بھی خیال رہتا ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ عورتیں قبر میں پاؤں رکھنے تک مصائب سے نجات نہیں پاتیں۔
مرد اور عورت میں بحیثیت انسان کوئی امتیاز نہیں۔قدرت نے دونوں کو ایک جیسا جسم دیا ، ادراک دیا ،سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی اور ایک خوبصورت معاشرے کی تشکیل کے لئے یکساں ذمہ داریاں بھی دیں۔عورت کوئی غلام نہیں ہے جس کو گھر کی نوکرانی بنا کر رکھ دیا جائے۔یہ مردوں کی کارستانی ہے کہ عورتوں پر زبردستی اپنی مرضی ٹھونس دیتے ہیں۔جس سماج میں عورتوں کے حقوق پامال ہورہے ہوں وہ سماج ترقی کی منزلیں طے نہیں کر سکتا۔آج عورت مردوں کے ہوس کی شکار ہے جو قطعی طور پر وحشیانہ طریقہ ہے حالانکہ جانوروں میں بھی یہ بد فعلی نہیں پائی جاتی تو پھر انسان کو کیا ہوا ہے کہ وہ اپنی ماں بہن بیٹی اور بیوی کو محفوظ ماحول نہیں دے پاتا ہے۔کیوں ایک ایسا معاشرہ فروغ پا رہا ہے جس میں عورت کی حیثیت محض ایک گڑیا کی طرح ہے۔عورتوں کے تئیں ہورہے مظالم مردوں کے شایانِ شان نہیں ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عورت کو اس کے حقوق سے نوازیں اور ان کی خدمات کو سراہیں۔
 خالق دنیا نے مردوعورت کی ساخت میں تخلیقی اعتبار سے بعض امور میں فرق رکھا ہے، اس لئے وہ جسمانی اورنفسیاتی اعتبارسے مردسے مختلف ہے۔مرد کو اس لئے قوی نہیں بنایا گیا کہ وہ عورت پر رعب جماکر اس کی شرافت اور نزاکت کا ناجائز فائدہ اٹھائیے۔ حدیث پاک میں آیا ہے کہ تم میں سے بہترین مرد وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ نیک سلوک کرتا ہے۔اس بات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مرد کی دنیا عورت سے آباد ہے ورنہ اس کی زندگی بے رنگ و بو ہے۔
رابطہ۔ قصبہ کھْل نور آباد،کولگام کشمیر