تازہ ترین

نظمیں

تاریخ    21 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


وبا صورت مہنگائی 

گراں بازاری کا عالم،بہت دشوا جینا ہے
حمالِ وقت کے رُخ پہ نہیں سوکھے پسینہ ہے
معمر آج کہتے ہیں غلامی لاکھ بہتر تھی
ہوئے آزاد ہم لیکن ہُوا کیا چاک سینہ ہے
جمیعت چند اُمرا کی وطن میں عیش کرتی ہے
دریدہ تن کہیں رادھاؔ، کہیں دیکھو زرینہؔ ہے
ہے بیٹھا چشمِ نم دہقاں، کنارے اپنے کھیتوں کے
ہے ڈُوبا اُس کی محنت کا سراسر اب سفینہ ہے
فریبِ زیست کھا کھا کر یہ خود سوزی بھی کرتا ہے
لئے پھرتا ہے کاندھو پہ یہ غُربت کا دفینہ ہے
عجب آسیب صورت کیا یہ مہنگائی کی مورت ہے
کرے یہ نیم بسمل ہے بڑی ظالم حسینہ ہے
عُشّاق ؔکِشتواڑی
صدر انجُمن ترقٔی اُردو (ہند) شاخ کِشتواڑ
موبائل نمبر؛ 9697524469
 
 

ہے کِس قدر 

شیطان بھی حیران کچھ
کھول کر آنکھیں ذرا انسان دیکھ
ہورہا ہے کیا یہاں ہر آن دیکھ
ڈھانک کر چہرہ رکھے گا کب تلک
جھانک کر اپنا بھی گِریبان دیکھ
اِبن آدم کے عجب کِردار پر
کِس قدر شیطاں بھی ہے حیران دیکھ
ہوتی ہے سجدوں میں ساری شب بسر
سو دفعہ دن میں بِکے ایمان دیکھ
کالی رسموں اور رِواجوں کے یہاں
بھینٹ چڑھتے ہیں جواں ارمان دیکھ
بسیار موتی، آلو کوہِ نُورہے
کالا بازاری کا یہ طوفان دیکھ
بادشاہ بننے کا تُو خواہاں ہے گر
رہ رِشوت خوری ہے آسان دیکھ
ہاتھ خالی بس لَبوں پر اِک دعا 
ہم غلاموں کا ہے یہ سامان دیکھ
 
اے مجید وانی
احمد نگر، سرینگر،موبائل نمبر؛9697334305
 

 

 

گجرات کی بیٹی عایشہ کی فریاد 

 
میرے بابا سے یہ کہنا
اے بابا چین سے رہنا 
نہ ڈھونڈھے مجھ کو اب گھر میں 
ملوں گی اب میں محشر میں 
میں سنگ زخموں کے جائوں گی
خدا کو سب بتائوں گی 
کیا خستہ مجھے غم نے 
رُلایا مجھ کو "آدم " نے 
مٹایا مجھ کو "آدم " نے 
ستایا مجھ کو "آدم " نے 
جدا جس کو سمجھتی تھی 
خدا جس کو سمجھتی تھی 
وہی مجھ سے خفا نکلا 
ارے کیوں بے وفا نکلا 
نکاح ہے نام الفت کا 
نکاح ہے نام چاہت کا
نہ یہ جور و جفا مانگے 
محبت بس وفا مانگے 
میں نے خود کو مٹایا تھا 
سدا تن من لٹایا تھا
میں بابا کی دلاری تھی 
بہت اماں کو پیاری تھی 
مجھے غربت میں پالا تھا
نکھارا  تھا، سنبھالا  تھا
لیا تھا قرض ابو نے
فرض اپنا نبھایا تھا 
خود ہی مہندی سجائی تھی
میری شادی رچائی تھی
مگر کیوں پیار میں دھوکا
تیرے اقرار میں دھوکہ
سزا میں نے یہ پائی کیوں
ارے یہ بے وفائی کیوں 
چمن کی اک کلی تھی میں 
بہت ہی لاڈلی تھی میں
دكھوں سے چُور کر بیٹھے 
مجھے مجبور کر بیٹھے
ابھی باقی کہانی تھی 
ابھی تو نو جوانی تھی 
سدا خوش حال رہنے کا 
مجھے بھی حق تھا جینے کا
جو سچ ہے وہ کہوں گی میں
جو تیکھا ہے لکھوں گی میں
سدا آنکھوں میں ہے پانی
ہے عورت درد کی رانی۔۔۔
تڑپنا میری امی کو
میرے بابا کو رونا تھا 
مجھے خاموش ہونا تھا
سدا مٹی میں سونا تھا
سدا مٹی میں سونا تھا۔۔۔
 
���
 
فلکؔ ریاض
حسینی کالونی۔چھتر گام، بڈگام۔کشمیر
موبائل نمبر؛6005513109