تازہ ترین

امتحانی نتائج

افسانہ

تاریخ    21 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


وردہ فاطمہ
صبح کا وقت تھا۔ آسماں کچھ ابر آلودہ سا تھا۔ ثناء اپنے کمرے میں بیٹھی کسی سوچ میں گم تھی کہ اسی اثناء اس کی سہیلی فضاء نے اسے فون کیا۔ کال رسیٰو کرتے ہی فضا نے سنسنی خیز لہجے میں اسے بتایا کہ ثناء ہمارے امتحانی نتائج کا اعلان ہو گیا ہے۔ ہمارا رزلٹ آ گیا ہے۔ یہ سن کر ثناء پر بھی رزلٹ کے نام کا ڈر چھا گیا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا ۔دونوں سہیلیاں ایک طرف تو اپنا رزلٹ جاننے کے لئے بے تاب تھیںلیکن دوسری طرف ان پر ایک سنسنی خیز کیفیت اور ڈر طاری تھا، جو کہ ہر طالب علم کو رزلٹ کا نام سنتے ہی محسوس ہوتا ہے۔ آخر انہوں نے یہ کہ کر کال منقطع کی کہ چلو اب اپنا رزلٹ دیکھ لیتے ہیں۔ اس وقت تک سورج کی شعاعیں بھی بادلوں کو چیر کر زمین کو روشن کر گئی تھیں۔ ثناء کے گھر والے بھی ثناء کے گرد اس کا نتیجہ جاننے کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ اُس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو رہی تھیں۔ ثناء نے تھرتھراتے ہوئے ہاتھوں سے ویب سائٹ کھولی اور اپنا رول نمبر داخل کیا۔ فون کی سکرین پر اپنے نتائج ظاہر ہوتے ہی ثناء خوشی سے جھوم اٹھی۔ اس نےعمدہ نمبرات سے امتحان پاس کیا تھا۔ ثناء کے گھر والوں کو بھی اس کے نتائج جان کر مسرت ہوئی۔ سب رشتہ دار، پڑوسی، دوست و احباب مبارکبادی پیش کرنے لگے۔ مٹھائیاں اور بادام اس خوشی کے موقع کا لطف دوگنا کر رہے تھے اور کئی رشتوں کی کڑواہٹ میں مٹھاس پیدا کر رہے تھے۔ دوست و احباب کے انتھک فون آ رہے تھے۔ یہ ماحول ثناء کی محنت و جستجو کی داد پیش کر رہا تھا۔ 
اس سے ثناء میں حوصلہ اور اونچی اڑانیں بھرنے کا شوق پیدا ہو رہا تھا کہ اُس کے والد بازار سے گھر لوٹ آئے۔ اُن کے چہرے پر مسرت کچھ کم سی نظر آ رہی تھی۔ گھر کے اندر داخل ہوتے ہی اس نے ثناء سےخشم آلود لہجے میں کہا :تمہیں معلوم ہے، تمہاری سہیلی فضاء کو تم سے دس نمبر زیادہ ملے ہیں۔ تم تو دونوں ایک ہی اسکول میں ایک ساتھ پڑھتی تھی، تو تمہیں کیوں اس سے کم نمبر ہیں؟ یہ جان کر کہ فضاء کو ثناء سے دس نمبر زیادہ ہیں، اُس کی امّی بھی اب اُس کو ڈانٹنے لگیں۔وہ یہ کہنے لگی کہ اب کیسے لوگوں کا سامنا کروں گی۔ سب پڑوس کی عورتیں تمہاری وجہ سے اب مجھے طعنے دیں گی۔ اس سب بے عزتی سے ثناء کی زندگی کا پہلا کامیاب اور پرمسرت پڑاؤ کچھ لمحات میں ماتم زدہ بن گیا۔ اس کی سانسیں رُک سی گئیں۔ یہ دس نمبرات اس کی خوشیوں کو چوٗر کر گئے۔ یہ امتحانی نتائج جو کہ کچھ پل پہلے اس کی حوصلہ افزائی کر کے اس کے خوابوں کو اُڑان دے رہے تھے اب اُس کے خوابوں کے ساتھ ساتھ اس کی ہمّت بھی چوٗر کر گئے۔ وہ خود کو کمتر اور پست سمجھنے لگی۔ گھر والوں کا ناسازگار رویہ اس کی سجائی اُمید کی کرن کو بُجھا دیتا۔ یوں تو ثناء اپنے معصوم ہونٹوں پر جعلی مسکراہٹ سجا لیتی لیکن ہر وقت ان دس نمبرات کے مقابلے کا ذکر اسے اندر ہی اندر  بکھیر دیتا۔ وہ مہمانوں کے سامنے ہنسی خوشی جانے کی کوشش کرتی لیکن  وہاں بھی فضاء کے دس نمبرات کا ذکراس پر بے رخی طاری کر دیتا۔ لوگوں کا تنظیم انداز میں ثناء کے سامنے جان بوجھ کر اس کی سہیلی کے دس نمبرات کا تذکرہ اسے بوسیدہ کر چکا تھا۔ معاشرے اور گھر والوں کے اس  درد انگیز اور نہایت  غیر متوازن  موازنہ نے اُس کی زندگی اجیرن بنا دی۔ اس موازنہ نے ثناء اور فضاء کی دوستی کے انمول رشتے کو بھی کمزور بنایا۔ ہر وقت کے طعنوں اور ہر لمحہ کے موازنوں نے اُسکا کا سکون چھین لیا۔ ہر بار دسترخوان پر ان دس نمبرات کا ذکر اس کی دنیا کو تاریک بناتا گیا۔ ثناء اب اکثر اپنے کمرے میں اکیلے رہنا پسند کرتی۔ اس کے شوق و ذوق سب مردہ ہو چکے تھے۔ وہ اپنے کمرے کی چار دیواری کے اندر آنسوں بہا کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتی۔ اس کی شخصیت پر اب خاموشی مسلط ہوگئی۔ وہ کسی کو اپنے دل کا درد سنا نہیں پاتی۔ آخر سمجھتا بھی کون؟اپنے کمرے میں سجے آئینے میں اپنے آنسوں کے قطرے دیکھ کر خود صاف کرتی اور چہرے پر جعلی مسکراہٹ سجائے اپنے کمرے سے باہر آتی۔ کئی بار فضا ء،جو کہ سنا کے حالات اور دردِقلب سے نا آشنا  تھی، ثناء سے اس کے مزاج کی بے رخی کا سبب پوچھا مگر ثناءکسی طرح ٹال مٹول کر کوئی اور بات شروع کرتی۔ آخر وہ کیسے فضا ء کو اپنی درد انگیز حال کا سبب اسی کے وہ دس نمبرات بتاتی۔ آخر اس میں تو فضاء کا بھی کوئی قصور نہ تھا بلکہ قصور تو ہمارے سماج کے غیر متوازن سوچ کا تھا۔ ثناء کی اس حالت کے قصوروار تو اس کے اپنے تھے جو اس کو سمجھنے کے بجائے، لوگ کیا کہیں گے، کے متفکر تھے۔ 
دن بہ دن سنا کی حالت اور زیادہ خراب ہو رہی تھی۔ اس سے یہ درد اور بر داشت نہیں ہو رہا تھا۔ اس دردِجگر نے ثناء کا چین و آرام بالکل ہی چھین لیا تھا۔ وہ اب رات بھر جاگ کر اپنی درد بھری زندگی کی سوچ میں مگن رہتی۔  امتحانی نتائج کے اعلان کا وہ دن اس کو ہر لمحہ  یاد آتا۔ اس کے دوست و احباب کی انتھک مبارکبادیوں کا سلسلہ اور آج تنہا اپنی زندگی سے لڑنا اس کو ذہن نشین تھا۔ وہ مٹھائیوں کی مٹھاس اور کچھ لمحہ بعد کے لفظوں کی کڑواہٹ کا تخیل اس کو تار تار کر دیتا۔ یہ سب درد بھرے خیالات اس کو رات کے آرام سے محروم کر گئے تھے۔ پڑھائی میں بھی اب اُس ثناء کا دل نہ لگتا جس کو کچھ روز پہلے پڑھائی سے بے کیف محبت تھی۔ اس نے اپنی زندگی کا مقصد جیسے کھو دیا تھا۔ اب راتوں کا جاگنا اور دن کو سماج، پاس پڑوس اور گھر والوں کی تنقید ثناء کی زندگی میں اضطراب پیدا کر رہی تھی۔ یہ سب حالات  اس کی ذہنی پریشانی کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ اب اس کی صحت کو بھی نا سازگار بنا رہےتھے لیکن کوئی اس کی پوشیدہ درد انگیز حالت کو نہیں سمجھ پا رہا تھا۔ آخر کار اس لمحہ ثناء  کے گھر والوں کی آنکھیں کھل گئیں جب انہیں یہ خبر ملی کہ ان کی بیٹی، جو کہ ٹیوشن کے لئے گھر سے نکلی تھی، ٹیوشن سینٹر میں بے ہوش ہوگئی اور اب وہ اسپتال میں ہے۔ یہ خبر سنتے ہی ثناءکے گھر والے اسپتال پہنچے تو وہاں انہیں یہ معلوم ہوا کہ ثناء کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور وہ آئی سی یو میں ہے۔ اُس کی سہیلی فضاء بھی اسپتال میں اس کے ساتھ آئی تھی۔ اُس نے ثناء کے والدین سے اس حالت کی وجہ پوچھی لیکن اُن سے کوئی جواب ملا۔ آخر کسی طریقے سے فضاء کو یہ معلوم ہوا کہ ثباء کی اس حالت کا سبب اس کے امتحانی نتائج اور اسی فضا کے دس نمبرات سے پیدا ہونے والامقابلہ ہے۔ ڈاکٹر ثناء کی اس تشویشناک حالت کا سبب ذہنی دباؤ بتا رہے تھے۔ اُس کے والدین بھی اب نہایت رنج زدہ تھے ۔ انہیں یہ ڈر تھا کہ کہیں دس نمبرات کا یہ موازنہ،اُن سے ثناء کو ہمیشہ کے لئے  نہ چھین لے۔۔ دس دن تک آئی سی یو میں رہنے کےبعد گیارہویں دن کی صبح ثناءکو ہوش آگیا۔ اپنے آپ کو دوبارہ دنیا کے تنقید آمیز ماحول میں پا کر وہ جیسے رنج زدہ ہو گئی۔ وہ شاید اس دنیا کی طعنہ زنی سے دور خاموشی میں جانا چاہتی تھی جہاں اس کو ذہنی سکون میّسر ہو۔ اس تنقید آمیز حالت کا خوف اس پر دوبارہ طاری ہونے ہی والا تھا کہ اس کی پر تکلیف دنیا میں رہبر بن کر اس کے درد کو سمجھنے والی فضا ء اندر آئی۔ فضا کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری تھیں۔ اندر داخل ہوتے ہی اس نے اپنا ہاتھ ثناء کے ہاتھ پر رکھا اور کہنے لگی، ثناء مجھے معاف کرو۔ میں تمہاری درد بھری کہانی نہ سمجھ پائی۔ مجھے اس بات کی کوئی علمیت نہ تھی کہ میرے دس نمبرات نے تمہاری زندگی کو ایک قیدخانے میں تبدیل کیا ہے۔ ثناء تم خود کو ایسے تکلیف نہ دو۔ زندگی کا سفر بہت لمبا ہے۔ یہ ہماری زندگی کا پہلا پڑاؤ ہے اور دس نمبرات کیا اس سے بھی زیادہ نمبرات کا فرق کسی انسان کے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتا۔ ثناء تم ہمّت مت ہارو۔ تمہیں اپنے سپنوں کو پرواز دینی ہے۔ تمہیں لوگوں کے لئے نہیں اپنے لئے جینا ہے۔ یہ الفاظ سن کر سنا کی آنکھوں سے درد اور پیار سے لبریز آنسوں جاری ہوگئے۔ اس نے فضاء کا ہاتھ زور سے تھام لیا۔ اسے ایک احساس ہو رہا تھا کہ کوئی تو اس کو سمجھنے لگا۔ کوئی تو اس کی غمزدہ زندگی میں  اس کے ساتھ کھڑا ہو رہا ہے۔ اس کے درد میں شریک ہو رہا ہے۔ اسی دوران ثناء کے والدین بھی اس کے پاس آگئے۔ اپنی بیٹی کی درد بھری حالت دیکھ کر ان پر بے حد رنج طاری ہوا۔ انہیں احساس ہوا کہ وہ لوگوں کی باتوں کی پرواہ کرتے کرتے اپنی بیٹی سے دور ہوئے اور اس کی حالت نہ سمجھ سکے۔ وہ ثناء سے کہنے لگے کہ بیٹی دراصل یہ فضاء کے دس نمبر نہیں بلکہ ہماری غیر موزون مقابلہ آرائی اور تنقید پسند سوچ کا نتیجہ ہے۔ ثناء نے آج ایک مدّت کے بعد ممتا بھری آواز سنی تھی۔ وہ خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی کہ اس کے اپنے گھر والے بھی آج اس کو سمجھ پا رہے ہیں۔ ان کو اس کا درد محسوس ہو رہا ہے۔ وہ ان سے گلے ملنا چاہتی تھی لیکن اس کے بازو پر لگا ڈرپ اسے ازیت دے رہا تھا۔ آخر کار دو دن کے بعد ثناء کو اسپتال سے چھٹی ملی اور ہمّت جُٹا کر اس نے اپنے چوٗر خوابوں کی امیدوں کو پھر جگایا اور ایک نئی زندگی شروع کی۔ اب ہر امتحانی نتیجے کے اعلان کے موقع پر ثناء کے والدین اپنے آس پڑوس کے بچّوں کو دل سے مبارکباد دیتے اور ان کے والدین کو اس بات سے آشنا کراتے کہ اپنے بچّوں پر غیر ضروری دباؤ نہ ڈالیں۔ بے حد مقابلہ آرائی اور تنقید آمیزی سے گریز کریں۔ اپنے بچوں کو  ان کے اپنے خوابوں کی اُڑان بھرنے دیں اور انہیں لوگوں کے لئے نہیں بلکہ اپنے لیے جینے دیں۔
���
طالبہ،سکواسٹ کشمیر(واڑورہ) 
ای میل؛wardahfatima716@gmail.com