تازہ ترین

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے!

یمنا کنارے

تاریخ    20 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


سہیل انجم
علامہ اقبال نے اپنی ایک نظم ’’ارتقا‘‘ میں کہا ہے  ؎
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مطفوی سے شرارِ بو لہبی
لیکن انھوں نے نظم ’’جواب شکوہ‘‘ میں یہ بھی کہا ہے  ؎
ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
میں نے ان دونوں اشعار کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ اس وقت پورے ملک کے مسلمانوں میں زبردست اشتعال اور انتشار ہے۔ جگہ جگہ مظاہرے ہو رہے ہیں اور ایک ایسے شخص کے خلاف پولیس تھانوں میں رپورٹیں درج کرائی جا رہیں اور گرفتاری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جس نے مسلمانوں کی مقدس مذہبی کتاب کی بعض آیات کے خلاف ملک کی عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ مسلمانوں میں اشتعال اور اضطراب اس لیے بھی ہے کہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے والا انھیں میں سے ایک ہے۔ مسلمانوں میں اضطراب اس لیے بھی ہے کہ انھیں اس کتاب کے کلام اللہ ہونے پر اتنا ہی یقین ہے جتنا کہ اپنی زندگی پر ہے اور یہ ایقان ایک مسلمان کے مسلمان ہونے کی ایک لازمی شرط ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کتاب مقدس کے خلاف دریدہ دہنی کی گئی ہو۔ 1985 میں کلکتہ میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ البتہ اس وقت مسلمانوں کے مذہبی جذبات پر خنجر چلانے والا ان کی اپنی صفوں میں سے نہیں بلکہ اغیار کی صفوں میں سے تھا۔ تاہم عدالت نے اس جرأت بیجا کی حوصلہ شکنی اس طرح کی تھی کہ اس نے اس پٹیشن کو ہی خارج کر دیا تھا جو پورے ملک کے مسلمانوں کو بے چین کرنے کا سبب بنا تھا۔ امید ہے کہ تازہ پٹیشن کا بھی وہی حشر ہوگا۔ ایسا صرف ہندوستان میں نہیں ہو رہا بلکہ ہندوستان کے باہر بھی اس قسم کی حرکتیں کی جاتی رہی ہیں اور کتاب اللہ کے خلاف ہرزہ سرائی ہوتی رہی ہے۔ شرارِ بو لہبی راکھ میں دب تو جاتا ہے مگر جب اسے ہوا دی جاتی ہے تو وہ پھر بھڑک اٹھتا ہے۔ اس بار کس نے ہوا دی ہے اورپردۂ زنگاری میں کون معشوق ہے اس کا بھی انکشاف ہو جائے گا۔ بہرحال اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے اور لکھا جاتا رہے گا۔میں نے تو اس کا ذکر بس ایک تمہید کے طور پر کیا ہے۔ ورنہ میں ایک ایسے شخص کی کہانی اختصار کے ساتھ سنانا چاہتا ہوں جس کو ثانی الذکر شعر کا کریڈٹ جاتا ہے۔
انگریزی ویب سائٹ ’’دی پرنٹ‘‘ پر ایک ایسے نو مسلم نوجوان کی کہانی شائع ہوئی ہے جو پوری زندگی مسلمانوں سے نفرت کرتا رہا مگر اب اسے مسلمان ہونے پر فخر ہے۔ یہ کہانی دہلی کے ایک نوجوان سدھارتھ کی ہے جو اب شاداب بن چکا ہے۔ یہ کہانی تروشی اسوانی نے لکھی ہے۔ اس کے مطابق سدھارتھ جب 19 سال کا تھا تو اسے ہندو مذہب کے بارے میں کچھ شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔ وہ مندروں میں مستقل مزاجی کے ساتھ جاتا، دیے جلاتا اور پوجا کرتا رہا ہے۔ لیکن اچانک اس کے دل و دماغ میں اس سلسلے میں سوالات پیدا ہونے لگے۔ وہ جب بھی اپنے والدین سے سوال کرتا تو اسے یہ کہہ کر خاموش کر دیا جاتا کہ ہمارے پوروج ایسا کرتے رہے ہیں۔ اس کے سوال کا کوئی معقول جواب اسے نہیں ملتا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ ا س کو اسلام کی کس چیز نے متاثر کیا تو اس کا جواب اقبال کی زبان میں یہ تھا کہ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز۔ اس کا کہنا ہے کہ نماز میں ایک فقیر یعنی بھکاری اور ایک بینکر سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ اس نے وہی بات کہی جو اسلام میں کہی گئی ہے یعنی اس کی اہمیت نہیں ہے کہ تم نے ایک مالدار گھر میں آنکھ کھولی ہے یا غریب گھر میں۔ اہمیت اس کی ہے کہ تم اللہ کے کتنے قریب ہو۔ اس نے انھی باتوں کا ذکر کیا جو رسول اللہ نے خطبہ حجۃ الوداع میں کہی تھیں۔ یعنی ’’اے لوگو جاہلیت کی ہر ایک بات میں اپنے قدموں تلے پامال کرتا ہوں‘‘۔سدھارتھ یا شاداب کے مطابق اسلام تمام انسانوں میں خواہ وہ کسی بھی ذات، رنگ، نسل و سماجی مرتبے کے ہوں، مساوات کی تعلیم دیتا ہے۔
سدھارتھ نے فیصلہ کیا کہ وہ قرآن کا مطالعہ کرے گا۔ اس نے مطالعہ شروع کر دیا اور اس کے دل کی دنیا بدلتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ وہ چھپ چھپ کر نماز ادا کرنے لگا۔ اس کے گھر والوں کو شبہ ہوا۔ لیکن پہلے تو انھیں اس کے پاس سے کوئی قابل اعتراض شے نہیں ملی لیکن پھر ایک روز اس کے بیگ میں ایک تسبیح مل گئی۔ پھر کیا تھا۔ اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہونے لگا جو ایسے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب کفار قریش میں سے کوئی شخص مشرف بہ اسلام ہوتا تو مشرکین مکہ اسے خوب ستاتے۔ یہ سلسلہ رکا نہیں ہے۔ آج بھی جاری ہے۔ بہر حال اس نے ایک مسجد میں جا کر اسلام قبول کر لیا اور اپنا نام شاداب رکھا۔ اس کے اہل خانہ نے 2016 میں اس سے قطع تعلق کر لیا۔ اس وقت اس کی عمر 23 سال تھی۔ اس کے مسلم دوستوں کو اس کا علم ہوا تو بعض نے ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر کہا کہ ’’اس نے اپنے ہاتھوں سے اپنی قبر کھود لی‘‘۔ اس وقت وہ بے روزگار تھا۔ کئی دنوں تک اسے بھوکا رہنا پڑا۔ وہ سڑکوںاور پارکوں و دکانوں کے سامنے لگے بینچوں پر رات گزارتا۔ بعد میں اس کے ایک مسلم دوست نے اسے اپنے یہاں پناہ دی۔ وہ آج اس کے رکن ِ خاندان کی مانند ہے۔ پھر اسے ملازمت بھی مل گئی۔ لیکن ایک تلخ تجربہ بھی ہوا۔ اس کا کہنا ہے کہ کارپوریٹ اداروں میں مسلم ملازمین کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک ہوتا ہے۔ ان اداروں میں اسلاموفوبیا کا رجحان بھی موجود ہے۔
جب اسے اس کا احساس ہوا کہ اخلاق، جنید اور پہلو خان کو پیٹ پیٹ کر کیوں مار ڈالا گیا تو اسے شدید ذہنی کرب سے دوچار ہونا پڑا۔ اس کا کہنا ہے کہ کسی کو ہندوستانی مسلمانوں کے حالات کا اس وقت تک اندازہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ خود ان حالات کا شکار نہ ہو۔ آج ہندوستان میں مسلمان دو نمبر کے شہری کے طور پر رہ رہے ہیں۔ میں نے یہ حقیقت خود اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ اس نے سی اے اے مخالف تحریک میں جم کر حصہ لیا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’کاغذ نہیں دکھائیں گے‘‘ اس کے لیے صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ مسلمانوں کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرنے والی حقیقت ہے۔ اس کے مطابق جب وہ ہندو تھا تو اسے اس حقیقت کا ادراک نہیں تھا جس کا سامنا مسلمانوں کو ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سی اے اے مخالف تحریک نے ان تمام مسلمانوں کو متحد کر دیا جو فرقہ واریت کے خلاف ہیں اور جو خود کو سچے ہندوستانی سمجھتے ہیں۔ اسلام کے دامن میں آئے ہوئے آٹھ سال ہو گئے تھے کہ شمال مشرقی دہلی میں مسلم مخالف فساد پھوٹ پڑا۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے اس نے دیکھا کہ کس طرح لوگ مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں۔ اس نے فساد کے بعد ان علاقوں میں راحت رسانی کے کاموں میں شرکت کی اور اس نے محسوس کیا کہ مسلم مخالف فساد کی ایک حکمت عملی ہوتی ہے۔ یعنی خوشحال مسلمانوں کو تباہ و برباد کر دو۔ شمال مشرقی دہلی کا فساد بھی منظم انداز میں کیا گیا اور خوشحال مسلمانوں کو بھی تباہ و برباد کر دیا گیا۔
آج جبکہ بی جے پی اقتدار والی متعدد ریاستی حکومتیں نام نہاد لو جہاد کے خلاف قانون بنا رہی ہیں تو شاداب کو اس کی سنگینی کا احساس ہو رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ آئین ہر شہری کو اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے، اس پر چلنے اور اس کی تشہیر کرنے کا حق دیتا ہے۔ لیکن سیاسی مفاد پرستی سے بوجھل ماحول مسلمانوں کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اپنی شناخت چھپا کر رہیں۔ 
بہرحال اسلام کی حقانیت وقتاً فوقتاً اپنا جلوہ دکھاتی رہتی ہے اور اگر ایک طرف قرآن مجید کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے پیدا ہوتے ہیں تو دوسری طرف اس کا دفاع کرنے والے بھی نکل کر آتے ہیں اور ان صفوں سے آتے ہیں جہاں سے کوئی توقع نہیں ہوتی۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ کلام اللہ کے خلاف عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹانے کی جرأت بیجا سے بالکل پریشان، بددل یا مشتعل نہ ہوں۔ ایسی کالی بھیڑیں مسلمانوں کی صفوں میں ہمیشہ رہی ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ  ؎
نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
موبائل نمبر۔ 9818195929