تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    19 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی

اسلامی لباس کے اصول وشرائط

اسلام نے کوئی مخصوص وضع اور ہیئت کا لباس یقیناََ مقرر نہیں کیا 

اگر لباس کی کسی خاص وضع یا ہیئت کا تعین کردیا جاتا تو ہر جگہ کے مسلمانوں کیلئے اس امر کی پابندی مشکل ہوتی
سوال : - اسلامی لباس کس لباس کو کہتے ہیں ؟ کیا کُرتا پاجامہ یا قمیص شلوار کواسلامی لباس کہا جائے گا اور کیا ٹوپی بھی اسلامی لباس میں داخل ہے۔ مو جودہ زمانہ میں عام رائج لباس پتلون ،شرٹ وغیرہ کے بارے میںکیا حکم ہے۔مہربانی کرکے مفصل جواب دیں۔
محمد مقبول بٹ…بارہمولہ
 
جواب :-لباس انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک اہم ترین ضرورت ہے۔ انسانی تاریخ کے کسی بھی متمدن دور میں انسان نے بغیر لباس کے زندگی گزاری ہو ، عمومی طور پر تاریخ میں ایسا کہیں نہیں پایا گیا ۔ لباس انسان کی جسمانی ضرورت بھی ہے موسمی ضرورت بھی ، سماجی ضرورت بھی اور معاشرتی ضرورت کے ساتھ ساتھ مذہبی طور پربھی یہ لازم ہے ۔ اسلئے دوسرے عام انسان اگر صرف قوم ، موسم، علاقہ ، رواج اور فیشن کو لباس کی بنیاد قرار دیں تو ان کے لئے اس کی گنجائش ہے لیکن زندگی کے تمام شعبوں پر محیط ، اور مسلمانوں کے تمام انفرادی واجتماعی معاملاتکیہر ہر ضرورت میں مکمل رہنمائی کرنے والامذہب ِحق یعنی اسلام  کو ماننے والے کے لازم ہے کہ وہ لباس جیسی اہم ضرورت میں بھی اسلام کے مقرر کردہ اصولوں کے دائرے میں ہی رہے اور اسلام کے طے کردہ شرائط سے باہر نہ نکلے ۔اگر مسلمان یہ سمجھتا ہوکہ لباس ایسی چیز ہے جس میں ہر فرد ، ہر طبقہ اور ہرجگہ کے رہنے والے مسلمان پوری طرح آزاد ہیں کہ جس وضع اور جس نوع کا لباس چاہیں استعمال کرسکتے ہیں اور یہ کہ اسلام نے لباس کی کوئی مقررہ ہیئت کا تعین نہیں کیا ہے  جس کی خلاف ورزی کوئی جرم ہو تو یہ شدیدقسم کی غلط فہمی ہے اور سراسر ایسا مغالطہ جس کے پیچھے صرف اپنی چاہتوں کی تکمیل وتسکین کا جذبہ کا رفرما ہوگا۔اسی طرح یہ بھی شدید نوع کی غلط فہمی ہے کہ کوئی یہ سمجھے کہ لباس کوئی سابھی اختیار کیا جائے ، اس کا کوئی اثر انسان کی شخصیت پر نہیں پڑتا۔ حقیقت یہ ہے کہ مذہب ، اخلاق اور نفسیات کے ساتھ جدید سائنس جو انسان کی شخصیت سے بحث کرتی ہے ، کی نظر میں یہ بات طے ہے کہ لباس کا اثر انسان کی شخصیت پراُس کے اخلاق پر اور اُس کے پورے معاشرے پر نہایت گہرا ہوتاہے یعنی انسان کا مزاج وکردار ،اسکی سیرت وطرزِ فکر اس کی ذہنیت وعملی مظاہرکے تمام پہلو جن امور کاشدید عمیق اوروسیع اثر قبول کرتے ہیں ان میںلباس بھی ایک اہم اور موثر ترین جز ہے ۔
اسلام چونکہ عالمگیر دین ہے۔فطرت کے تمام مسلمہ اصولوںکے مطابق ہے اور کرۂ ارض کی تمام اقوام کے لئے دائمی ہے اور اسے تحریف ، خذف واضافہ اورترمیم وتنسیخ سے محفوظ رکھا گیا ہے۔ اسلئے شریعت اسلامیہ نے ایسا نہیں کیا کہ لباس کی کوئی مخصوص ہیئت مقرر کرکے دیگر تمام لباسوں کو یکسر مسترد کردیا ہو۔ اسلئے کہ مختلف مزاجوں کے افراد ،مختلف ممالک میں رہنے والے اور مختلف ماحول اور موسموں میں سانس لینے والے پورے عالم میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کوکسی ایک ہی قسم کے لباس کا پابند بنادینا، انسانی فطرت کے خلاف بھی ہے اور اس کے نتیجے میں اسلام کے ناقابل عمل کا باعمل تصور بھی وقوع ہونے کاخدشہ تھا ۔ حالانکہ اسلام نہایت آسان ہے ،خود حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین آسان ہے(بخاری)۔آپ ؐ نے یہ بھی فرمایا ہمارے دین میں بڑی وسعت ہے ۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے ۔ دین میں تمہارے لئے کوئی تنگی نہیں ہے ۔یہ بھی فرمایا گیا کہ اللہ تم سے یسرو آسانی چاہتاہے ۔نہ کہ ناقابل برداشت سختی اور تنگی ۔ یرید اللہ بکم الیسر ولا یر ید بکم العسر۔
وہ دین جسے پورے عالم میں پھیلنا طے تھا اسے تمام دنیا کے انسانوں کی حقیقی ضروریات کا ادراک خود انسانوں کی اپنی سوچ سے کہیں زیادہ ہے۔ پورے عالم میں انسان چونکہ کہیں باریک ، کہیں موٹا ، کہیں گرم ،کہیں سرد،کہیں کسی وضع کا اور کہیںکسی اور ہیئت کا لباس استعمال کرنے کے لئے اپنے علاقائی ماحول اور موسم اور تمدن اور قومی وملکی شناخت کی بناء پر بہر حال مجبور ہیں اسلئے اگر کوئی ایک خاص وضع وہیئت کے لباس کا تعین کردیا جاتا تو ظاہر ہے کہ اسکی پابندی ہرجگہ کے مسلمانوںکے لئے سخت مشکل ہوتی ۔
غورکیا جائے ، اگر لباس میں نفاست پسند افراد کی رعایت کرکے ان کے مزاج والا لباس، اسلامی لباس قرار دیا جاتا تو سادہ لوح اور سادگی پسند افراد کے لئے نیز غریب اور مفلوک الحال مسلمانوں کے لئے یہ ناقابل برداشت ہوجاتا اور اگر اس کے برعکس کیا جاتا تو یہ بھی لطیف الطبع اور نفاست وتکلیف والی طبائع کے لئے گراں ہوتا۔اسی طرح اگر گرم ملکوں میں بسنے والے افراد کو ملحوظ نظررکھ کر لباس کی کوئی وضع مقرر کردی جاتی ہے تو سرد ملکوں میں رہنے والے افراد کیلئے اس لباس کو استعما  ل کر نے کے نتیجے میں سردیوں میں لازماً ٹھٹھرنا پڑتا۔ اسلئے اسلام نے کوئی مخصوص وضع اور ہیئت کالباس یقینا مقرر نہیں کیا ۔
لیکن کیا اسکے معنی یہ ہیں کہ مسلمان اس باب میں بالکل آزاد ہیں کہ جب  چاہیں،جیسا چاہیں لباس پہنا کریں اور اسلام نے اس کی کھلی چھوٹ دی ہے ۔جواب یہ ہے کہ ایسا ہرگر نہیں ، اسلئے بے شمار وہ مسلمان جو اس خیال میں مبتلا ہیں کہ اسلام نے کوئی ایک مخصوص لباس مقرر نہیں کیا ہے ۔درحقیقت اسلام سے گہری حقیقت شناسی کا ادراک کئے بغیر، یہ غلط فہمی میں ہیں اور یا پھر شوقِ نقالی کی تسکین کے لئے صریحاً یہ خیال وضع کیا گیا ہے ۔درحقیقت اسلام نے حکم یہ نہیں دیاہے کہ صرف ایسا لباس اختیار کرو اس کے سوا بقیہ سب غیر اسلامی ہے بلکہ حکم یوں دیا کہ ایسا ایسا لباس نہ پہنو اس کے علاوہ جو بھی لباس پہنو گے وہ شریعت اسلامیہ کے مطابق ہوگا ۔
اب اختصار کے ساتھ لباس کے متعلق اسلام کے مقررہ کردہ اصول ملاحظہ ہوں ۔ پہلا اصول یہ ہے کہ ایسا لباس ہرگز نہ پہنا جائے جس میں پوری طرح ستر پوشی نہ ہو ۔ یہ اول قران کریم کی اس آیت سے مصرّح ہے ۔
یا بنی آدم قد انزلناعلیکم لباسا یواری سوء ٰٰاتکم ۔(الاعراف)
اس اصول کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہر وہ لباس جو انسان کے شرکے لئے پوری طرح پردہ کا ذریعہ بن سکے غیر اسلامی ہوگا۔ لباس پہن کربھی انسان بے پردہ کیسے رہے گا اس کے مظاہر آج چاروں طرف موجود ہیں ۔اب مرد اگر ایسا تنگ لباس پہنے جس سے اس کے رانوں کا حجم اور اسکی سرین اور اعضاء جنسی کا حجم نمایاں ہو تو ایسا لباس ممنوع ہوگا۔ آج کا Skin Tightاسی زمرے میں آتاہے۔ اس لئے پتلون اگر ایسا ڈھیلا ہو کہ وہ ناف سے لیکر گھٹنے تک کے حصہ کی پوری ساخت اور حجم کو ظاہر نہ کرے اور اوپر سے قمیض بھی اس کے اندر نہ ٹھونسی گئی ہوتو اب اس پتلون میں ممانعت کی یہ علّت ختم ہوگئی ۔ اس طرح عورتیں یا تو اتنا چست لباس پہنیں کہ ان کے جسم کے اعضاء کی ساخت نمایاں ہوتی ہو تو وہ بلا شبہ لباس پہن کر بھی ننگی ہیں۔ اسی طرح کُرتے کی کٹائی اس طرح ہو کہ گردن ننگی ، سامنے سے چھاتی بھی ننگی اور بازو بھی برہنہ ہوتو یہ بھی ننگا پن ہوگا ۔اور حدیث میں ہے ’’امت کے دو طبقہ جہنم میںجائیں گے ان میں ایک طبقہ وہ عورتیں ہو ں گی جو لباس پہن کر بھی برہنہ ہی ہونگی ۔ برہنگی کی دوصورتیں ہیں کہ لباس مختصر اور کم ہو کہ بہت سارا بدن کا حصہ ننگاہو یا لباس اتنا تنگ اور چست ہو کہ اعضائے جسمانی کی ساخت نمایاں ہو اورجو دیکھنے والوں کے جذباتِ جنسیہ میں حرکت پیدا کرنے کا سبب بنے۔ اسی طرح عورت سر پر ایسی اوڑھنی رکھے جس سے گردن اور بال چھپا کربھی سب کی نظروں میں ہو ں۔ غرض کہ لباس کا پہلا اسلامی اصول یہ ہے کہ وہ مکمل سترہو۔ یعنی بدن چھپانے کا اصل مقصد پوراکرے۔ لہٰذا مرد کا ایسی پتلون جس سے اعضائے ستر کاحجم نمایاں ہو ممنوع ہوگا اور عورت کاایسا لباس جو یا تو چست ہو کہ جسم کا حجم ظاہر ہو یابدن کا کچھ حصہ ننگا رہ جائے ممنوع ہوگا۔
دوسرا اصول یہ ہے کہ ایسا لباس نہ پہنا جائے جو کسی دوسری قوم کا شعار اور علامت ہو۔ یہ اصول حدیث سے ماخوذ ہے ، ارشاد ہے :من تشبہ بقوم فھومنہم۔  جو کسی قوم کی نقالی اور مشابہت اختیار کرے وہ ان ہی میں سے ہے۔دراصل جب کوئی شخص جب کسی دوسری قوم کا وہ لباس اختیار کرتاہے جو اس قوم کی شناخت اور امتیاز ہے تو وہ درحقیقت اپنی عظمت ،عزت اور برتری کو اس قوم کے لباس اختیار کرنے میں ہی محسوس کرتاہے اور اپنے لباس میں رہنا ،اپنے متعلق حقارت اور کمتری وسبکی محسوس کرتاہے ۔گویایہ شخص شدید قسم کے احساس کمتری اور شکست خوردگی میں مبتلا ہے ۔ اسلئے یہ اصول مقرر کیا گیا کہ دوسری کسی بھی قوم کا وہ لباس جسے پہن کر مسلمان اُسی قوم کا فرد محسوس ہونے لگے ،اسلام کی رو سے غیر اسلامی لباس ہے اسلئے اس سے اجتناب کا حکم ہے ۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہایت اہتمام سے ان تمام امور سے بچنے کا حکم فرماتے تھے جس سے مسلم تہذیب مٹ جائے اور دوسری قوموں کی تہذیب کے مسلمان متوالے بن جائیں ۔ تہذیب کا آغاز لباس اور جسمانی وضع قطع سے ہی ہوتاہے ۔ مثلاً یہاں کشمیر میں اگر کوئی مسلمان عورت ساڑھی باندھے تو ہر دیکھنے والا شخص ضرور اس کا یقین کرے گا کہ یہ غیر مسلم عورت ہے ۔اسی طرح اگر ایک مسلمان کی کلائی پر کڑا پایا جائے تو یہ وہم گذرنے لگے گا کہ یہ شخص شاید غیر مسلم ہی ہوگا کیونکہ کڑا استعمال کرنا انہی کا مخصوص فعل ہے ۔اس اصول کا خلاصہ یہ نکلے گا مسلمان نہ یہود ونصاری کا لباس پہن سکتے ہیں نہ کسی اور قوم اور مذہب کے لباس کی نقالی کریں اور اگر ایسا لباس اختیار کیاگیا تو وہ غیرشرعی لباس ہوگا ۔
گویا اسلام چاہتاہے کہ مسلمان خود اپنی وضع کا لباس پہنیں نہ کہ دوسری کسی قوم کی نقالی کالباس!
تیسرا اصول یہ ہے کہ مرد عورتوں جیسا لباس نہ پہنیں اور عورتیں مردوں جیسالباس نہ پہنیں ۔ چنانچہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ 
ان عورتوں پر اللہ کی لعنت جو مردوںجیسا لباس پہنا کریں ۔ بخاری ومسلم۔ لہٰذا جوں ہی ایک صنف دوسری صنف کی نقالی والا لباس پہننے کا اقدام کریں تو یہ اسلام کے مقررہ اصول کی خلاف ورزی ہوگی اور ایسا کرنا حرام ہوگا اور اس کا مظاہرہ آج مسلم معاشرے میں پایا جارہاہے کہ عورتیں پتلون ، شرٹ استعمال کررہی ہیں ۔ یا چھوٹے بچیوں کو والدین لڑکوں کا ڈریس استعمال کروارہے ہیں ۔ 
چوتھا اصول یہ ہے کہ مرد خالص تیز قسم کا سرخ لباس نہ پہنیں اور نہ ہی ٹخنوں سے نیچے ازار ،شلوار ، پتلون یا تہہ بند لٹکائیں ۔ یہ دونوں چیزیں مردوں کے لئے اسی طرح منع ہیں جیسے ان کے لئے سونے کا استعمال کرنا منع ہے۔
پانچوں اصول یہ ہے کہ لباس صاف ، ستھرا ، نفاست والا اور زیست وپسندیدگی والا ہو۔ میلا کچیلا ،بے ڈھنگا ،پھٹا پرانا ،بھدا اورغیر موزوں لباس پہننا جس سے دوسروں کو نفرت ہو اسلام کی رو سے ناپسند ہے ۔اس سلسلے میں قرآن کریم میں اور احادیث میں ترغیب موجود ہے ۔
اب اگر کوئی شخص یہ جاننا چاہے کہ سیدھے صاف لفظوںاور مثبت انداز میں بتایا جائے کہ اسلام کے اصولوں کے مطابق لباس کیسا ہونا چاہئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ کسی بھی علاقہ اور ملک کے مسلمان اپنے مقام کے مستند ،تقویٰ اور ورع کے اونچے معیار کے صا لحین علماء جب لباس اسلام کے اوپر ذکرکردہ اصولوں کے مطابق اختیار کریں وہی اس علاقے کے مسلمانوں کے لئے اسلامی لباس ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭