تازہ ترین

عورت مارچ… آخر اب اور کیا چاہئے ؟

جوابی استدلال

تاریخ    18 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


الف عاجز اعجاز
عورت اس دنیا کی سب سے زیادہ مظلوم مخلوق تھی جسے سماج نے ٹھکرادیا تھا ، تاریخ نے گمنام بنایا، تھا ،ہوس پرستوں نے نشانہ بنایا تھا ، مذاہب کے ٹھیکیداروں نے اس کو فطری حقوق سے محروم رکھا تھا لیکن اسلام نے عورت کو دنیا کی سب سے خوبصورت اور حسین چیز بتایا۔ اْس کو ایک اعلیٰ مقام عطا کیا ،دکھ اور تکلیف کے گہرے گھڑے سے نکال کر سرپرستی کا تاج پہنا دیا۔ اْس کو مرد کے برابر حقوق عطا کئے۔ اْس کو مرد کی غیرت قرار دیا، اْس کو جنت کی دلیل بتایا۔ اسلام نے عورت کو اْس کا صحیح مقام عطا کیا اور اْس کی شرم و حیا کو ہی اْس کی سب سے بڑی زینت قرار دیا۔
آج کل جگہ جگہ عورت مارچ نکالا جاتا ہے، عورتیں آزادی کے نعرے لگاتی پھر رہی ہے، اپنے حقوق مانگ رہی ہیں۔ میرا جسم میری مرضی کے گیت گا رہی ہیں اور سر ِ راہ ناچتی پھر رہی ہیں۔ میرا جسم میری مرضی کے نام پر بیہودگی کو فروغ دینا چاہتی ہیں۔ یہ عورت ہے یقین نہیں آرہا۔ وہ عورت جو اپنی عزت کی حفاظت کے لئے کسی کو قتل تک کر سکتی تھی ، آج سر ِ راہ اپنے ہاتھوں سے اپنی عزت، اپنی چادر اچھال رہی ہے یقین نہیں آرہا۔ عورت جو شرم وحیاء کو اپنی زینت سمجھتی ہے آج سر ِ راہ ناچ رہی ہے یقین نہیں آرہا۔ 
عور ت مارچ نکالاکس کیخلاف جارہاہے۔ میراجسم میری مرضی کے نعرے لگانے والے مانگ کیارہے ہیں۔کہ وہ اپنی مرضی سے جوچاہے کرسکے۔وہ اپنے بھائی کا مقابلہ کریں اْس کی مرضی، وہ اپنے باپ کے سامنے بیہودہ حرکتیں کریں اْس کی مرضی،وہ بازار میںنیم برہنہ ہوکرچلیں اْس کی مرضی۔وہ اپنے جسم کی نمائش کرتی پھریں اورکوئی اْس کی طرف نظرنہ اْٹھائیں۔وہ راتوںکوگھرسے باہررہے اْس کی مرضی، وہ بے شرمی کی حدیں پار کریں اْس کی مرضی۔ کیا مطالبے ہیں یہ کہ سوچ کر شرم سے سر جھک جاتا ہے۔ یہ تو وہی بات ہوئی نا گوشت کو کھلا بازار میں چھوڑا جائے اور کتے اُس سے دور رہیں۔ کیا یہ ہوسکتا ہے؟ یہ کون سے حقوق ہیں جو یہ عورتیں مانگ رہی ہیں۔ خود کو مسلمان کہہ کر اسلام کا نام بدنام کر رہی ہیں۔ 
یہ وہی عورت ہے جس کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کیا جاتا تھا۔ یہ وہی عورت ہے جس کو مرد کے پیروں کی جوتی سمجھاجاتا تھا۔ یہ وہی   عورت ہے جس کی عزت کو مذاق سمجھاجاتا تھا لیکن تاریخ گواہ ہے کہ اسلام نے عورت کو کس قدر عزت بخشی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام نے عورت کو کتنا اونچا مقام عطا کیا ہے۔ اْس کے باوجود بھی یہ کہتی پھر رہی ہے ’’میرا جسم میری مرضی‘‘۔ارے اللہ کی بندی پہلے یہ جاننے کی کوشش تو کرو کہ جسم تجھے عطا کس نے کیا ہے۔ پہلے یہ سوچ تو لے کہ تو اپنی مرضی سے سانس لینے کی قوت تک نہیں رکھتی، جسم پر مرضی کیسے چلا سکتی ہے۔
آج کی عورت صرف یہ کہتی پھر رہی ہے کہ مجھے میرے حقوق چاہئیں لیکن خدارا بتاؤ تو سہی اب کون سے حقوق باقی رہ گئے جس کا مطالبہ کرتی پھر رہی ہو۔ کیا تجھے تیرے حقوق اُسی وقت نہیں مل گئے تھے جب سورۃالنساء نازل ہوگئی تھی۔ کیا اِس کے باوجود بھی کوئی حق باقی رہ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے نام پر ایک پوری سورۃ اُتاری ہے۔ اس سے بڑھ کر تجھے کیا چاہئے کہ تجھے جنت کی دلیل بتایا گیا ہے یعنی جب ایک عورت جنم لیتی ہے تو وہ اپنے والدین کے لئے جنت کی دلیل بن جاتی ہے۔ جب بڑی ہوکر اپنے شوہر کے گھر چلی جاتی ہے تو خود جنتی بن جاتی ہے۔ جب وہ صاحب اولاد ہوتی ہے تو اپنے بچوں کے لئے جنت کی دلیل بن جاتی ہے اور حضورؐ کا فرمان بھی ہے کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔ اب بتائیں کہ پیدائش سے لے کر موت تک جو جنت ہی جنت ہے، اُس کے اور کون سے حقوق باقی رہ جاتے ہیں۔تیرا پردہ تیری زینت ہے۔ شرم و حیا تیرا زیورہے۔ اور حدیث مبارکہ بھی ہے کہ باپردہ عورت کو شہیدوں کا درجہ مل جاتا ہے۔ اِس سے بڑھ کر تجھے اور کیا چاہئے۔ تجھے شہادت کا درجہ پانے کے لئے مرد کی طرح جہاد پر جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ تجھے وہ درجہ بھی گھر بیٹھے ہی مل جاتا ہے، اس سے بڑھ کر اور کیا چاہئے۔
باپ، بھائی، شوہر تیرے محافظ ہیں۔ ان کے سائے سے مکمل آزادی پا کر دیکھ لے تجھے درندوں کی دنیا ملے گی۔آپ آزادی چاہتی کس سے ہیں، اپنے محرموں سے جو ہر وقت تیرا بھلا چاہتے ہیں۔ آزادی کس کے لئے مانگ رہی ہو، اُن لوگوں کے شانہ بشانہ چلنے کے لئے جو تجھے ہر وقت ہوس کی نظر سے دیکھتے رہتے ہیں۔ آزادی کا مطلب بھی پتہ ہے کیا ہے؟ تجھے توحضورؐکے ظہور کے ساتھ ہی آزاد کر دیا گیا تھا جب تجھے پالنے پر تیرے والدین کو جنت کی بشارت دی گئی تھی۔ تجھے تو آزاد اُسی وقت کر دیا گیاتھا جب تجھ سے صحیح برتاؤ کرنے پر تیرے شوہر کو جنت کی بشارت دی گئی تھی۔ تجھے تو آزادی اُسی وقت ملی تھی جب تیری اولاد کو تیری خدمت پر جنت کی بشارت دی گئی تھی۔ اِس سے بڑھ کر تجھے اور کیا چاہئے۔ ذرا غور تو کر اسلام نے عورت کو آزاد ہی آزاد رکھا ہے۔
جا جاکر مغرب کی گلی کوچوں میں دیکھ لیں جہاں عورت کا کوئی مقام نہیں۔ جہاں عورت کو گوشت کا لوتھڑا سمجھا جاتا ہے۔ جہاں عورت کی کوئی عزت نہیں کی جاتی۔ جانتی بھی ہو کیوں، کیونکہ وہ ہر وقت اپنے جسم کی نمائش کرتی پھر رہی ہیں۔ جاکر اْن کی حالت دیکھ لیں وہاں عورت کو صرف عورت سمجھا جاتا ہے، ماں بہن اور بیوی نہیں۔ وہاں عورت کے جذبات کی کوئی قدر نہیں کی جاتی۔ حسن کی قدر کی جاتی ہے اور حسن کے خاتمے کے ساتھ ہی سب کچھ ختم۔ وہاں عورت کو محبت نہیں دی جاتی بلکہ عورت کے جذبات کو پیسوں سے تولا جاتا ہے۔ وہاں کی عورت کا کوئی مقام، کوئی رتبہ نہیں ہے۔ کیا تو چاہتی ہے کہ تجھے اسلام نے ظلم و ستم کے جس گہرے گھڑے سے نکالا تھا تجھے پھر سے وہیں پھینکا جایا،تیری عزت، تیرا مقام سب کچھ ختم ہو جائے۔ نہیں نا، تو پھر خود کو اپنی ہی نظروں میں گرانے کے لئے کیوں کمر باندھ رکھی ہے۔
 افسوس صد افسوس آواز اٹھا بھی رہی ہو تو کس کے خلاف، مطالبہ کر بھی رہی ہو تو کیا؟ آزادی مانگ بھی رہی ہو تو کس کی، اپنے جسم کی…حقوق مانگ بھی رہی ہو کیا بازاروں میں دن رات سر ِ عام آوارہ گردوں کی طرح پھرنے کا… کیا تجھے آواز اٹھانے کے لئے تیرا جسم ہی ملا تھاجو سر ِ عام کہتی پھر رہی ہو "میرا جسم، میری مرضی‘‘۔یہ جسم تو اللہ تعالیٰ کی امانت ہے تو اس پر اپنی مرضی کیسے چلا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی امانت میں خیانت کیسے کر سکتی ہے۔ اگر یہ جسم سچ میں انسانوں کی اپنی ملکیت ہوتا تو کیا خودکشی کرنا حرام ہوتا۔ اگر جسم واقعی انسانوں کی اپنی ملکیت ہوتا تو کیا خود کو خراش پہنچانا بھی گناہ ہوتا؟۔ نہیں نا، پھر کس جسم کو اپنا کہنے کی بات کر رہی ہو ۔وہ جسم جس کو زندہ رکھنے کے لئے بھی تیرے پاس اپنی مرضی سے سانس لینے کی قوت تک نہیں۔ وہ جسم جس کو جانا آخر خاک میں ہی ہے، وہ جسم جس کو بالآخر کیڑوں مکوڑوں کی خوراک بننا ہے۔ اُس جسم پر اپنی مرضی چلانے چلی ہو۔ارے اللہ کی بندی تْو تو سانس لینے کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے،پھر اُس اللہ تعالیٰ سے بغاوت کیسے کر سکتی ہو۔ اُس کے عطا کئے ہوئے جسم پر اپنی مرضی کیسے چلا سکتی ہو۔ خدا کی بندی ابھی بھی وقت  ہے۔ سدھر جا کہیں ایسا نہ ہو کہ تیری حالت مغرب کی عورتوں سے بھی بدتر ہو جائے۔ سدھر جا اور اپنی عزت کی حفاظت کر کیونکہ عزت ہے تو ہی سب کچھ ہے۔ 
کلسٹر یونیورسٹی، سرینگرکشمیر
فون نمبر۔  9622697944
�������