شہبازؔ راجوروی سے آغازِ شناسائی

یادیں

تاریخ    16 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


مشتاق فریدی، ڈوڈہ
1961کی بات ہے کہ راقم جناب سروری کسانہ کے غریب خانہ ( غریب خانہ اسلئے لکھا کہ ان کے مکان سے ہر طرف عْسرت کے سائے لہرا رہے تھے) پر پہنچا، کمرے کے اندر قدم رکھتے ہی دیکھا کہ چند افراد گفتگو میں مصروف ہیں۔ میں نے سلام کیا انھوں نے بھی رسماً سلام کا جواب دیا۔ چند ہی منٹوں میں راقم ضروری کام کیلئے بازار گیا ،جب قریباً ایک گھنٹہ کے بعد واپس آیا تو یہ افراد جا چکے تھے۔ کسانہ سے پوچھا یہ مہمان لوگ کہا ںکے تھے اور کہاں گئے۔ انہوں نے کہا یہ راجوری کے شہباز صاحب اور اُن کے ساتھی تھے۔ شاید واپس چلے گئے۔
سروری کسانہ نے کہاکہ میں نے ان کو آپ کا غائبانہ تعارف کرایا تو وہ کف ِ افسوس ملتے رہے کہ ہم نے نہ مشتاق صاحب کو اپنا تعارف کرایا نہ ان سے تعارف پوچھا۔ہفتہ روزہ ’’ نوائے قوم‘‘ میں فکر و خیال کا مختص کالم تھا جس میں جناب منظر اعظمی اور راقم اکثر لکھا کرتے تھے ۔ایک بار سری کسانہ نے کہا’’مشتاق صاحب کل اخبار چھپنا  ہے لیکن فکر و خیال کالم کیلئے میٹرئیل نہیں ہے۔ جلدی جلدی کچھ لکھئے اور کاتب تک پہنچائیے‘‘۔میں نے کہاکہ ذہن میں اس وقت کوئی عنوان نہیں ہے ،کیا لکھوںتو انہوں نے بے ساختہ کہا’’ شہباز صاحب پر لکھئے، نوائے قوم کی فائیل دیکھئے اس میں شہباز صاحب کی کچھ تحریریں ہیں‘‘۔
میں نے فائیل نکالی اور شہباز صاحب کی تخلیقات کو پڑھا ۔ان تخلیقات میں میں نے محسوس کہا کہ شہباز صاحب کے کلام میں قنوطیت غالب ہے۔ راجوری میں حالات ہی مایوس کن تھے۔ اپنی تحریر میں راقم نے قنو طیت پر اظہار خیال کیا کہ مومن ہر حال میں اْمیدوں کے چراغ روشن کرتا ہے  ؎
بہار ہو کہ خزاں لا الہ اللہ
اخبار چھپنے کے بعد راجوری سے قلمکاروں کا رد عمل آنا شروع ہوا۔ شہباز صاحب کے رفقاء نے راقم کے خیال کی تردید کی اور شہباز صاحب کا تازہ کلام اخبار کو بھیجاجو حرف حرف رجائیت کا آئینہ دار تھا۔ بات آتی گئی۔۔۔!
جب شہباز صاحب کو ہائر سکینڈری سکول ڈودہ میں ٹرانسفر کیا گیا تو ایک شام اچانک گیٹ پر دستک ہوئی۔ اندھیرے میں پہچان نہ سکا ۔انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا مشتاق بھائی میں شہباز راجوروی ہوں تو میں نے انتہائی مسرت سے خیر مقدم کیا اور بیٹھتے ہی پوچھا آپ کو تھکاوٹ ہے پہلے چائے پئیں گے، بعد میں کھانا کھائیں گے۔ انہوں نے کہا میں نے پل ڈوڈہ ہوٹل میں کھانا کھایا ہے،چائے یا قہوہ ہوسکے تو بہتر ہے۔ گھر میں شاید دودھ نہیں تھا، قہوہ ہی پلایا ۔دو چار دن تک وہ اجنبیت کے احساس سے کھانے پینے میں شرماتے سے رہے۔ پھر چند دنوں میں اپنے حسن اخلاق سے میری فیملی کو اسقدر متاثر کیا کہ وہ ہمارے فیملی ممبر ہی بن گئے۔ کھانے پینے کا احسان چکانے کیلئے کبھی بازار سے ضروری اشیاء لاتے۔ کبھی لکڑ ہارے کو بالن کی قیمت دے، میں کہتا تھا شہباز صاحب قیمت چکا نے کی فکر چھوڑیئے انشا اللہ جب میں راجوری آئوں گا حساب بے باک کروں گا۔میرے تاج محل کی مکانیت کی کمی دیکھ کر انھوں نے مکان کے بغل میں ہی ایک کمرہ کرایہ پر لیا۔ رات وہیں گذارتے تھے۔ جب تک شہباز صاحب ڈوڈہ میں رہے ،مجھ سے مسلسل احسانات کرتے رہے۔ تعطیلات میں گھر جاتے تو تحفے تحائف لیکر ہی آتے۔
بہر کیف وقت فصل بہار کی طرح گذرتا رہا، ہمارے دوستانہ نہیں برادرانہ تعلقات بڑھتے اور مستحکم ہوتے رہے۔ جب میں اپنے فرزند فردوس احمد کے ہمراہ راجوری گیا توبے پایاں خلوص سے ہم کو نوازا۔ محترمہ بھابی نے بات بات میں یہ احساس دلایا کہ میں مہمان نہیں ہوں بلکہ ان کا بھائی ہوں۔
شہباز صاحب کا تخلیقی سفر جاری رہا۔ وہ اپنے برادر مرحوم فدا راجوروی کی طرح اردو ،کشمیری، پیاڑی اور گوجری زبان پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔ ان کا کلام غالب کی طرح مشکل لگتا تھا اور میں کہا کرتا تھا کہ شہباز کے کلام کو سمجھنے کیلئے دوسرا شہباز چاہئے۔ نثر پاروں میں بلاغت و فصاحت کے دریا بہا دیتے تھے۔
یہ دونوں برادر کشمیری زبان کے شید ائی تھے۔ جب بھی ادب کے حوالہ سے بات ہوتی تھی تو کہا کرتے تھے مشتاق صاحب اردو میں تو سب ہی لکھتے  ہیں لیکن کشمیری مادری زبان ہونے کے باوجود اکثر اردو میں لکھتے ہیں۔ مجھے بار بار کشمیری زبان میں لکھنے کی فہمائش کرتے تھے۔ریڈیو کشمیر جموں کے پمپوش پراگرام میں جب کشمیری کلام پڑھتا تھا تو بہت خوش ہوتے تھے۔ کہتے تھے آپ نے مادری زبان کا تھوڑا سا ہی مگر حق ادا کیا۔میرے فرزندان مسعود اطہر ( 25 سال )، یاسر ندیم (21 سال) کی شہادت پر جو خطوط شہباز نے لکھے ،ان کا حرف حرف چشم تر ہوا کرتا تھا۔   
جس روز شہباز صاحب کے سانحہ ارتحال کی خریب سنی تب سے سوچ رہا تھا کہ پسماندگان کو فون پر یا خط لکھ کے تعزیت کروںمگر یہ افسوس ناک خبر سنتے ہی احساس جیسے منجمد ہوگئے ،نہ فون کر سکا اور نہ خط لکھ پایا۔ وفات سے ایک ہفتہ قبل شہباز صاحب نے فون کیا اور کہا مشتاق بھائی میرے دعا کریں ۔یہ جملہ تیرنیم کش کی طرح آج بھی میرے دل و جگر میں پیوست ہے ۔
 شہباز مرحوم کے پسماندگان میں ایک فرزند فاروق فرید نبی پائلٹ ، ڈاکٹر انیس الطاف نبی اور تین بیٹیاں عارفہ بانو ، عابد بانو اور صبیحہ بانو   والدین کے داغ مفارقت لئے سفر حیات جاری کھے ہوئے ہیں۔دعا ہے کہ شہباز کی لحدپر تا قیام قیامت رحمت برستی رہے ۔پسماندگان کو رب کریم صبر جمیل عطا کرے۔
مرحوم شہباز صاحب جس ادبی کارواں کے امیر ِ کارواں تھے۔ ان میں حسب ِ ذیل اہل علم و قلم حضرات شامل ہیں۔
1 جناب نثار راہی صاحب ہمعصر و ہم سفر شعراء کے شانہ بشانہ میدان شعر و سخن میں اپنی انفرادیت کے ساتھ محو سفر ہیں۔ ’’ حرف تمنا‘‘ آپ کی تازہ ترین تصنیف ہے۔ 2019 میں چھپ کر منظر عام پر آئی ہے۔ لکھتے ہیں پہاری زبان و ادب کی خدمت میں بہت وقت بتایا۔اس ضمن میں ’’ تہند‘‘ ’’ ورق ورق‘‘ اور شعری سرمایہ چھوڑا ۔اردو زبان کے ساتھ میرا لگائو کبھی کم نہ ہونے پایا ۔یوں بھی اپنی تنگ دامانی سے ذرا فرار حاصل کرنے اور باقی دنیا سے جڑنے کی سوچ نے مجھے آرام کرنے نہ دیا۔ تجربہ کے طور پر ’’ سبز جزیرے ‘‘ کو اردو لباس پہنایا۔
’’ حرف تمنا‘‘ کا پیش لفظ شیخ عبد الصمد مفتائی نے خلوص سے لکھا ہے۔
۲۔ فاروق مضطرصاحب صحافت و ادب کے کوہکن ہیں۔ راجوری میںبابائے صحافت رہے ہیں۔ ’’ دھنک‘‘ جریدے کا اجراء کرکے جدیدیت کی طرح ڈالی تھی۔ خیالی سے زیادہ عملی شخصیت کے مالک ہیں ۔نئی نسل کو تعلیمی زیور سے آراستہ کرنا ان کا مقصد وحید ہے۔ سر سید کی طرح تعلیمی اداروں کا بامعنی پھیلائو عزم صمیم کے ساتھ کرتے رہتے ہیں۔
۳۔   پروفیسر جاوید مغل صاحب انقلابی مزاج کے حامل ہیں۔ جہاں بھی جاتے ہیں علم کا عَلم بلند کرکے ہی رہتے ہیں۔ انہوں نے شاعری کی تہمت اپنے سر نہیں لی ہے۔ البتہ صاحب ذوق ہیں۔ راز دارانِ درونِ خانہ کا کہنا ہے کہ کالج لایف میں زبان سے کم آنکھوں سے زیادہ باتیں کرتے تھے۔ گاوں کی دوشیزہ کی طرح بہت ہی شرمیلے تھے۔
 پروفیسر جاوید مغل کے علاوہ ہمیں ایسے مغل سے واسطہ پڑا ہے جو پرے درچے کا ابن العصر ہونے کے علاوہ حد درجہ ذہین و فطین ہے۔ بڑے بڑوں کو شیشے میں اتارنے کا فن زرگر کی طرح خوب جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دونوں کی عمر دراز عطا کرے تاکہ سیاہ و سفید سے دامن بھرتے رہیں گوکہ ’’ سفید‘‘ سے ابھی کم ہی رغبت ہے۔
۴۔ میر عبدالسلام کی اپنی دنیا ہے۔ ہر وقت میر کارواں کے موڈ میں ہی رہتے ہیں ۔ان کی کج کامی ان کی ہمہ جہت شخصیت کی غمازی  کرتی ہے۔ اخبار ’’ آئینہ قلب‘‘ اجرا کرکے صحافت کے میدان خارزارمیں قابل داد اضافہ کیا تھا۔ مزاج کے تنوع نے بطور صحافی استقلال کا مطاہرہ نہ کر سکے ۔ پہاڑی کی بلندی پر یوں محوتماشائے باغ و بلبل ہیں کہ 
آرائش جمال سے فارح نہیں ہنوز
پیش نظر ہے آئند دائیم نقاب میں 
جناب ِ مکرم و محترم پروفیسر عبدالقیوم ندوی کی شخصیت کی عرنائی دعوت نظارہ دیتی ہے۔ علمی دنیا کے بے تاج بادشاہ ہیں۔یوں تو خاموشی ان  کا طرہ امتیاز ہے مگر گفتگو پر آزماہ ہوتے ہیں تو لعل و جوہر بکھیر کے رکھ دیتے ہیں۔ تحریر میں تکلف برتتے ہیں۔ سیرت طیبہ ؐ پر جب لب کشائی کرتے تو جلسہ میلاد ہو یا مجلس میلاد مبارک ہو تو فضا مشکبار ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو عاشقان نبیؐ کو مستفید کرنے کی مزید توفیق سے نوازے۔ آمین۔
۵۔ شفیق میر صاحب صحافت و سیاست کے درمیاں ہچکولے کھا رہے ہیں ۔شاندار مستقبل کے متلاشی ہیں۔ اللہ کرے ان کی امیدیں بھر آئیں۔
۶۔ خورشید بسمل کی دلنواز شخصیت کو بار بار دیکھنے کو جی چاہتا ہے۔ نزاکتیں ان کو سورج کی کرنوں کے ساتھ ہی سلام کرتی ہیں۔ شاعرانہ مزاج ان کے خد و خال سے متر شح ہے۔ اپنوں کے علاوہ غیروں سے پیار کرنا ان کو خوب آتا ہے۔ دعا ہے کہ یہ پیار حد سے نہ بڑے کیونکہ ٹوٹ کر پیار کرنے والوں کو پریاں اچک لیتی ہیں۔ اہل علم و قلم ان کے مزید شہ پاروں کے منتظر ہیں۔
۷۔ محترمہ روبینہ میر صاحبہ بڑی جرأت کے ساتھ میدان شعر و ادب میں نو آموز ہی سہی اپنی صلاحیتوں کو بروے کار لارہی ہیں۔ آپ کا کلام روز نامہ ’’  اڑان ‘‘ میں چھپتا رہتا  ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ روبینہ میر اپنی شناخت قائم کر سکتی ہے۔ اپنی ہمجولیوں میں بھی ادبی صلاحیتوں کو نکھار سکتی ہیں۔ انھیں اپنی تخلیقات کی احساس اسلامی اقدار پر رکھنا ہوگی۔ فدا راجوروی اور شہباز تو نہ رہے۔ جناب خورشید بسمل اور فاروق مضطر ،عبدالسلام بہارسے رہبری حاصل کر سکتی ہے۔جناب عبدالقیوم نائیک اس ادبی کارواں کے بیچ میں پھنس کر اپنی ادبی تشنگی کا مداوا تلاش کر رہے ہیں۔ 
رابطہ۔9596959045

تازہ ترین