تازہ ترین

ڈی ڈی سی نمائندوں کے مشاہرے اور پروٹوکول کا مسئلہ

بیروکریسی نے ہمیشہ جمہوریت کی جڑیں اکھاڑنے کی کوشش کی: بخاری

تاریخ    11 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//’اپنی پارٹی‘ صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ ضلع ترقیاتی کونسل چیئرپرسن اور اِس کے ممبران کیلئے اعلان کردہ اختیاری پروٹوکول اور مشاہرے نے بیروکریسی ذہنیت کی پول کھول دی ہے جوکہ اپنے مقاصد کی خاطر کبھی بھی نہیں چاہتے کہ جموں وکشمیر میں جمہوریت پھلے پھولے۔جموں وکشمیر حکومت کی طرف سے جاری پروٹوکول’وارنٹ آف پریسی ڈنٹس‘کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے بخاری نے کہاکہ ضلع ترقیاتی کونسل چیئرپرسنز اور اِس کے کونسل ممبران کی حیثیت کی درجہ بندی جموں وکشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ منعقدہ اِن انتخابات کے مقصد کو ناکام بنانے کیلئے ایک ٹیکنیکل کوشش ہے۔یہ اُمیدظاہر کرتے ہوئے کہ حکومت ِ ہند کو اب یہ انداز ہ ہوگیا ہوگا کہ بیروکریسی نے سیاسی طور حساس ملک کے اِس خطہ میں ہمیشہ جمہوریت کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کی کوشش کی ہے۔الطاف بخاری نے کہاکہ ’’حکومت نے ڈی ڈی سی چیئرپرسن اور کونسل ممبروں کیلئے جو ذلت آمیز پروٹوکول اختیارات اور اعزازات کا اعلان کیا ہے وہ بالکل اُس کے متضاد ہے جس کا وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ نے عوام کے اِن منتخب نمائندوں کیلئے تصور کیا تھا"۔ بخاری نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اِس معاملہ پر سیاست نہ کریں جوکہ عہدیداران کی طرف سے تخلیق کردہ ہے۔انہوں نے کہا’’مجھے اِس میں سیاست کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، جموں وکشمیر کی تمام سیاسی جماعتیں اس معاملہ کو لیکر یک زبان ہیں، میری ڈی ڈی سی چیئرپرسنز اور کونسل ممبران سے بھی اپیل ہے کہ وہ اُمید کا دامن نہ چھوڑیں اور اس مسئلے کے حل کے لئے استعفیٰ کو آخری حربہ سمجھیں‘‘۔انہوں نے کہاکہ بیروکریسی جموں وکشمیر میں جمہوری منتخبہ اداروں اور نمائندوں کو کمزور کرنے کیلئے ہمیشہ غیر ضروری اور ناپسندیدہ رویہ اختیار کرتی رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا’’محض فیصلہ سازی پر اپنی بالادستی قائم رکھنے کیلئے زیادہ تر بیوروکریٹس نے منتخب نمائندوں کو اپنے لئے سنگین خطرہ کے طور دیکھا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ بیوروکریٹک نظام زمینی سطح پر جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے میں مدد ملنی چاہئے اگر وہ واقعی جموں و کشمیر میں عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں ‘‘۔ انہوں نے کہاکہ ان منتخب نمائندگان کو انتظامیہ نے خارجہ سفارتکاروں کے سامنے پیش کیا اور  2019کے سیاسی پیش رفت کے بعد اس کو بڑی جمہوری کامیابی قرار دیا ، افسوس اسی انتظامیہ نے اب وزیر اعظم کی کاؤشوں کوسبوتاژ کیا ۔ انہوں نے معاملہ کو حل کرنے کے لئے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے اِس میں ذاتی مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ جموں وکشمیر میں جمہوریت کو مضبوط کیاجاسکے۔