تازہ ترین

جموں کشمیر میںخواتین کمیشن بند ، متاثرین کی دلی تک رسائی میں مشکلات | ماضی میں سالانہ3ہزار سے زائد شکایتیں موصول،گزشتہ 2 برسوں میں صرف ایک شکایت درج

تاریخ    8 مارچ 2021 (54 : 12 AM)   


اشفاق سعید

 

سرینگر //پوری دنیا میں آج خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے لیکن جموں وکشمیر ایک ایسا خطہ ہے جہاں خواتین کیلئے قائم ریاستی کمیشن برائے خواتین دفعہ 370کی تنسیخ کے بعد مکمل طور بند کر دیا گیا اور خواتین کے حقوق کی شنوائی قومی کمیشن برائے خواتین میں ہو تی ہے۔جہاں تک جموں وکشمیر کی خواتین کی کوئی رسائی نہیں ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ یہاں کمیشن کے بند ہونے کے نتیجے میں خواتین کے خلاف تشدد  کے واقعات کو روکنے کیلئے کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور گذشتہ دو برسوں کے دوران جو بھی واقعات رونما ہوئے، ان میں سے ایک بھی کیس قومی کمیشن میں نہیں اٹھایا جاسکا ہے۔ سرینگر زنانہ پولیس سٹیشن میں روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 20سے25 گھریلو جھگڑوں  یا پھر خواتین کیخلاف تشدد کے معاملات کی شکایات پیش کی جاتی ہیں۔معلوم رہے کہ5 اگست 2019 کو مرکزی حکومت نے جموں و کشمیرکو آرٹیکل 370 کے تحت اپنی خصوصی حیثیت سے محروم کردیا اور  ریاست کو دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کردیاجس کے بعد راتوں رات ، خواتین کا کمیشن ، بشمول انسانی حقوق ، اطلاعات کے حق (آر ٹی آئی) اور معذور افراد کے حقوق سے متعلق کام کرنے والے چھ دیگر کمیشنوں کو ختم کر دیا گیا، اور اس طرح مارچ 2020 سے گھریلو تشدد میں اضافے کے بعد خواتین نے ایک اور پناہ گاہ کھو دی، جہاں وہ اپنی شنوائی کیلئے جاتی تھیں ۔خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں ریاستی کمیشن سے تھوڑی بہت راحت ملتی تھی ۔معلوم ہوا ہے کہ 2020کے بعد خواتین کے خلاف تشدد کا کوئی بھی کیس کمیشن برائے خواتین میں درج نہیں ہوسکا ہے۔ کمیشن میں سال2019کے درمیان 3069 معاملات درج ہوئے تھے ،جن میں عصمت دری ، بدسلوکی اور گھریلو تشدد کے معاملات شامل ہیں۔شوہروں کے ذریعہ زیادتی کے 348 واقعات اور 2019 میں جہیز سے متعلق آٹھ اموات ریکارڈ کی گئیں۔ کمیشن کی مرتب کردہاعدادوشمار کے مطابق ، جنوری 2016 اور فروری 2017 کے درمیان خواتین کمیشن کو 220 کیس موصول ہوئے ، جو 2015 کے دوران صرف 142 تھے۔زنانہ پولیس سٹیشن رام باغ کے عہدیدران کا کہنا ہے کہ روازنہ کی بنیاد پر پولیس سٹیشن میں 20سے25شکاتیں موصول ہوتی ہیں جن کا ازالہ کیا جاتا ہے اور اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد میں کتنا اضافہ ہو رہا ہے ۔بند کئے گئے وومن رائٹس کمیشن کی سابق چیئرپرسن شمیمہ فردوس نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ جب کمیشن ہی بند ہے تو خواتین کے مسائل کی شنوائی کیسے ممکن ہے ۔انہوں نے حکام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں جموں وکشمیر سے کمیشن کو بند کرنا تھا تو خواتین کے مسائل کے حل کیلئے کوئی کمیشن قائم کیا جانا چاہئے تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ ہر روز تشدد کے کیسوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکام خواتین کو باصلاحت بنانے کے دعویٰ کر رہی ہے لیکن ان پر ہو رہے تشدد کی جانب کوئی دھیان نہیں دیا جارہا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ جموں وکشمیر یوٹی بننے کے بعد قومی کمیشن برائے خواتین کو جموں وکشمیر سے 31 اکتوبر کو گھریلو زیادتی کا پہلے معاملے کی شکایت موصول ہوئی تھی۔قومی کمیشن برائے خواتین کی چیئر پرسن ریکھا شرما نے کہا  کہ جموں وکشمیر سے ان کے پاس بچوں اور خواتین کے حقوق کے جو بھی کیس پہنچیں گے ہم ان پر فوری طور کارروائی کریں گے تاہم معلوم ہوا ہے قومی کمیشن تک حواتین کی رسائی ہی نہیں ہے ۔
 
 
 
 

خواتین کی حفاظت سب پر لازم |  لیفٹیننٹ گورنر کا پیغام

نیوز ڈیسک
جموں// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ، خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں ، تمام خواتین کو دلی مبارکباد اور انکے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا’’خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ، میں سب کو اپنی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ آئیے زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کے کارناموں کو مناتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں‘‘۔انکا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر اور ملک کی فلاح و بہبود اور ترقی میں خواتین نے نمایاں شراکت کی ہے۔ یہ ایک موقع ہے کہ خواتین کی اہمیت اور ان کی سخت محنت کو جو انہوں نے ہماری زندگی کے ہر پہلو میں ڈالی۔میں جموں و کشمیر کے عوام سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ صنفی مساوات کے لئے اپنی وابستگی کی توثیق کریں اور خواتین کے معاشی استحکام ، تعلیم کو فروغ دینے اور پر امن اور خوشحال معاشرے کی تشکیل کے لئے خواتین کی افرادی قوت میں اضافہ کے لئے خواتین کی حفاظت کے لئے مستقل جدوجہد کریں۔
 
 
 

تعلیمی محاذ پر طبقہ نسواں کی عمدہ پیش رفت | 50سال کے دوران خواندگی شرح میں 500فیصد اضافہ

بلال فرقانی
سرینگر//جموں کشمیر میں صنفی مساوات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ50برسوں سے خواتین کی خواندگی5فیصد سے60فیصد تک پہنچ گئی ہے اوراس میں500فیصد اضافہ ہوا ہے۔صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کی کمی کی وجہ سے دنیا کے بہت سارے خطے انسانی صلاحیت کے ایک اہم وسیلہ سے محروم ہے۔ مردم شماری 2011 سے ظاہر ہوتا ہے کہ جموں کشمیر میں مرد تعلیم یافتہ لوگوں کی  شرح78.26فیصد ہے،جبکہ خواتین خواندگی کی شرح58.01فیصد ہے۔ مرد و خواتین کی شرح خواندگی پر اگر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے بھی آتی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں خواتین کی شرح خواندگی میں اضافہ ہوا۔ سال1961کی مردم شمار ی کے مطابق جموں کشمیر میں مرد وں کی خواندگی کی شرح19.75فیصد تھی جبکہ خواتین خواندگی کی شرح محض5.05فیصد تھی،تاہم گزشتہ50برسوں کے دوران مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی شرح خواندگی میں بھی قریب یکساں اضافہ ہوا۔ جموں یونیورسٹی کی شعبہ سماجیات کی اسسٹنٹ پروفیسر دپتی گپتا کی جانب سے اس میدان میں کی گئی تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ1971میں خواتین کی شرح خواندگی جہاں10.94فیصد تھی،وہی 1981کی مردم شماری کے مطابق سابق ریاست جموں کشمیر میں خواتین کی شرح خواندگی19.86تک پہنچ گئی۔1991میں جموں کشمیر میں مردم  شماری نہیں ہوئی تاہم2001کی مردم شماری میں خواتین کی شرح خواندگی43فیصد پہنچ گئی اور آئندہ10برسوں میں اس میں مزید15 فیصد اضافہ ہوا اور2011کی مردم شمار میں خواتین کی شرح خواندگی58.01 فیصد پہنچ گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الوقت جموں کشمیر میں خواتین کی شرح خواندگی70فیصد سے زیادہ ہوگئی تاہم امسال ہونے والی مردم شماری میں اس کی اصل صورت سامنے آئے گی۔ 2011کی مردم شماری کے مطابق جموں کشمیر کے دیہی علاقوں میں خواتین کی خواندگی کی شرح53.36ہے وہیں شہری علاقوں میں اس کی شرح75.19ہے۔ جموں کشمیر میں خواتین کی مجموعی شرح47.05فیصد ہے جبکہ جنسی تناسب1000مردوںکے مقابلے میں889خواتین کی ہے۔