تازہ ترین

عائشہ کی موت… خود کشی یا قتل؟

میری بات

تاریخ    8 مارچ 2021 (00 : 12 AM)   


مشتاق عالم
کیا دنیا میں انسانیت بالکل ختم ہو چکی ہے؟کیا اخلاقی قدروں کا جنازہ بھی پوری طرح نکل چکا ہے؟ کیا رشتو ں میں محبت کے بجائے دولت نے اہمیت حا صل کی ہے؟کیا آج کے اس نام نہاد تر قی یافتہ دور میں بھی بیٹیاں اپنے والدین پر بوجھ ہیں؟ایسے بے شمار ’’کیا ‘‘ہیں جو میرے ذہن میں گذشتہ تین دنوں سے گردش کر رہے ہیں ۔احمد آباد گجرات کی وہ معصوم دوشیزہ جس نے ابھی فقط زندگی۲۳ تیس بہاریں دیکھی تھیں اپنی جان کا خاتمہ کربیٹھی۔عائشہ کی خود کشی کی خبر نے دنیا کو بالعموم اور امت مسلمہ کو بالخصوص متزلزل کر دیا۔ہر ذی حس  فرد کی روح کانپ اٹھی ہے۔
عورت خلوص محبت اور وفاداری کا پیکر ہے۔عا ئشہ نے یہ منحوس قدم اٹھانے سے قبل بھی اپنی وفاداری کا ثبوت دیا ہے ۔مراد یہ کی خودکشی کرنے سے پہلے اس بچی نے اپنی ویڈیو بنا ئی جو اس کے بے غیرت شوہر نے اس کو کہا تھا ۔ویڈیو کے علاوہ اپنے والدین سے آخری مرتبہ بات کرتے ہوئے وہ اس بات کو واضح کرتی ہے کہ اس کے شوہر کو پتہ تھا وہ یہ سنگین اور جان سوز قدم اٹھانے جاری رہی ہے بجائے اس کے کہ وہ اس کو روکتا وہ کم ظرف شخص اس کو کہتا ہے کہ مرنے سے پہلے ویڈیو بنا لینا تاکہ بعد میں مجھے کو ئی پریشانی نہ ہو۔وہ معصوم بچی اس وقت بھی فر مانبرداری اور وفاداری کا ثبوت پیش کرتی ہے۔ عائشہ کی ویڈیو دیکھنے کے بعد دل خون کے آنسو روتا ہے کہ اس بے قصور کی کیا خطا تھی جو اس نے اپنی جان ہی لے لی۔زندگی سے بھر پور ان کا چہرا دیکھ کر کسی کو گما ں ہی نہیں گزرتا کہ یہ چند لمحات کے بعد موت کی آغوش میں میں چلی جائے گی ۔مجھے اس ویڈویو میں اس بچی کی باتیں کچوکے کی طرح چب رہی ہیں۔جب وہ کہتی ہیں:’’عائشہ لڑائی کے لئے نہیں بنی ۔۔۔میں اللہ سے ملوں گی انھیں کہو ں گی میرے سے غلطی کہاں ہوئی،ماںباپ بہت اچھے ملے ،دوست بھی بہت اچھے ملے،پر شاید مجھ میں کہیں کمی رہ گئی مجھ میں یا شایدتقدیر میں ،میں خوش ہوں اور سکون سے جانا چاہتی ہوںاللہ سے دعا کرتی ہوں کہ اب دوبارہ انسانوں کی شکل نہ دکھائے۔‘‘آخری جملے میں انسان اور انسانیت پر بہت بڑا سوال کھڑا کیاگیا ہے۔کچھ بے غیرت مردو ں کی وجہ سے عائشہ جیسی معصوم بچیوں کی زندگیاں یوں ہی بر باد کر دی جاتی ہیں ۔جو انسان کوانسان نہیں بلکہ درندروں کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے۔
جہیز جیسی لعنت پر بار ہا لکھا گیا اور دینی مجلسوں میں کہا گیا ہے اوراس کو سماج کی ایک بری چیز قرار دیا گیا ہے ۔لیکن عملی طور پر اس لعنت سے گلو خلاصی سماج میں نہیں دیکھی جاتی ہے۔اس کے برے اور سنگین نتائج آئے دن ہمارے سامنے آتے ہیں ۔ جن میںمعصوم عائشہ کا واقعہ ایک اور اضافہ ہے ۔عارف خان جیسے درندہ صفت انسان ہمارے معاشرے میں کل بھی تھے ، آج بھی ہیں اور اگراب بھی اس لعنت کے خلاف کوئی سخت قانو ن نہ بنایا گیا تو کل بھی ہوں گے۔
اب سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ عائشہ کے اٹھائے گئے اس سنگین قدم کا زمہ دار کون ہے؟ کیا وہ شوہر جو عورت کو مجبور اور مظلوم مانتا ہے اورکمائی کا معقول ذریعہ سمجھتا ہے؟ کیا وہ ساس جو خود عورت ہوکر کسی کی بیٹی کی ہنستی کھیلتی زندگی جہنم بنادیتی ہے؟ کیا وہ سسر جس کو عائشہ کے والد پانچ بار فون کال کرتے ہیں وہ نہیں اٹھاتے ہیںاور سب کچھ دیکھتے ہوئے خا موش تماشائی بن بیٹھتے ہیں؟ کیا وہ معاشرہ جس میں بیٹی مجبو ر اور بیٹے کو مغرور بنایا جاتا ہے؟ کیا وہ رشتہ دار جو بیٹی کو عاجز اور بیٹے کو مجاز کی صورت میں دیکھتے ہیں؟کیا بیٹی ہونا گنا ہ ہے جس کی سز عائشہ کو ملی ؟کیا مرد کسی عورت سے نہیں جنما ہے؟آخر کب تک مردعائشہ جیسی معصوم کلیوں کو کھلنے سے پہلے ہی اپنے حرص کی خاطر مسلتے رہیں گے؟۔
میں نے متعد د مرتبہ عائشہ کی وہ آخری ویڈیو دیکھی کس طر ح وہ مختصر سی زندگی کو الوداع کہتی ہے اور اپنا خاتمہ سابرمتی ندی میں کود کر کرتی ہے ۔لیکن میں اس کو خود کشی نہیں سمجھتا ہوں ۔اگر ویڈیو پر اورعائشہ کی آخری کال جس میں وہ رو رو کر اپنے والدین کو اپنے ارادے سے آگاہ کرتی ہے پر غور کیا جائے تو یہ خود کشی در پردہ قتل نظر آتا ہے ۔جس کے کئی زمہ دار ہیں۔سب سے زیادہ زمہ داراس کا بے غیرت اور حیوان صفت شوہر عارف خان ہے جو اپنی شریک حیات کی زندگی اجیرن بنادیتا ہے ۔بار باراس سے جہیز کا مطالبہ کرتا ہے ۔دوران حمل معصوم کو اتنا مارتا پیٹتا ہے کی اس کا حمل زایہ ہوجاتا ہے۔ڈیڑھ لاکھ روپے اینٹھنے کے باوجود مزید روپیوں کی مانگ کرتا ہے۔اس طر ح کے معاملات سے روز روز نبردآزما ہونے کے بعد وہ بچی اس کا مستقل حل تلاش کرنے لگی بہت صبر کیا بہت دکھ سہے لیکن بے سود آخر میں اس کو ایک ہی راستہ نظر آیا خود کشی کا۔لیکن یہ جان لیوا قدم اس نے اپنے شوہر اور سسرال والوں کے ناروا سلوک کی وجہ سے اُٹھا یا ہے۔اس رو سے ہم اس کو خود کشی نہیں بلکہ قتل سمجھتے ہیں ۔کیوں کہ اگر عارف خان اس سے جہیز کا بار بار مطالبہ نہ کرتا اور اس کو میکے نہیں چھوڑتا تو وہ یہ قدم کبھی نہیں اُٹھاتی کبھی نہیں۔دوسرے زمہ دا ر وہ والدین ہیں جو عارف خان کی حرکات کو دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہیں کرتے ہیں ۔تیسرے زمہ دار عائشہ کے والدین بھی کسی حد تک ہیں جب ان کو پتہ چلا تھا کہ عارف خان کی لالچ ختم نہیں ہوری ہے تو انہیں اپنی بیٹی کو واپس نہیں بھیجنا چاہئے تھا ۔
آخر میں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ سماج کی بہترین تعمیر میںمرد اور عورت کا کردار یکساں ہے۔ہمیں اپنے گھروں میں اپنے بیٹیوں سے زیادہ بیٹوں کی تربیت کا خیال رکھنا چاہئے۔یہ بات میں اس لیے کہہ رہا ہوں کیوں کہ جب ابتدائی عمر میں ہی ہم بچو ں کو جہیز کے سنگین نتائج سے آگاہ کرتے رہیں گے تو یقینا سماج میں خاطرخواہ تبدیلی آئے گی۔جب تک انسان میں یہ حس بیدار نہ ہوجائے گی کہ جہیز سے گھر آباد نہیں برباد ہوجاتے ہیں تب تک عائشہ جیسی معصوم بچیاں اس کا شکار ہوتی رہیں گی۔اور اپنی ہنستی کھیلتی زندگی کا خاتمہ کرتی رہیں گی۔کاش ہمارے معاشرے ایسے ذی حس افراد پیدا ہوجائیں جو اس لعنت کے خلاف عوام کی ذہن سازی کا کام انجام دیں۔
 پتہ۔سامبورہ ،پانپور ،پلوامہ کشمیر
فون نمبر۔7006402409