تازہ ترین

! کہاں سنتا ہے وہ کہانی میری

ندائے حق

تاریخ    8 مارچ 2021 (00 : 12 AM)   


جبیں نازاں ،نئی دہلی
اکیسویں صدی کی تیسری دہائی اکیسویں سال میں ہم داخل ہوچکے ہیں۔اتفاق سے یہ مارچ کا مہینہ ہے۔آج 8مارچ کو عالمی پیمانے پر "یوم خواتین "منانے کی تیاریاں زور و شور سے  ہورہی ہیںجو عموما" 1 مارچ سے شروع ہوجاتی ہیں۔سیاسی ، ثقافتی، معاشرتی، ادبی غرض کے ہر سطح پر جوش و خروش سے یوم نسواں منایا جاتا ہے۔
یوں تو 8مارچ عورتوں کی جد وجہد آزادی نسواں کے طور پر علامتی شکل میں منایا جاتا ہے لیکن آزادی تو کیا برابری کا بھی حق ملا کیاخواتین کو؟یہ غور و فکر کا مقام ہے ۔اگر یہ حق ملا ہوتا تو1 مارچ کو میڈیاسوشل سائٹ پر عائشہ نامی خاتون کی ویڈیو وائرل نہیں ہورہی ہوتی !2مارچ کی خبر کہ افغانستان کے شہر جلال آباد میں تین خاتون صحافیوںشہنازرؤفی ، سعدیہ سادات، مرسل کونامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک  نہ کردیاہوتا۔
اسی رات ایک ٹی وی چینل پر ایک لڑکی چھیڑ ے جانے کی مخالفت میں اپنے باپ کو گنوانے کے بعد نہیں رو رہی ہوتی۔ اس لڑکی کے سامنے کھیت میں آلو کی کاشت سمیٹتے ہوئے اس کے باپ پر گولیوں کی بوچھار کی گئی ، اس جرم میں کہ لڑکی چند منچلوں کی چھیڑخوانی کی مخالفت مسلسل کئی مہینوں سے کررہی تھی۔اور باپ نے تھانے میں جاکر اس منچلے کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ اس سے دودن قبل ایک دلت لڑکی کھیت میں ماں کے ساتھ کام کررہی تھی، اسے پیاس لگی اور وہ پانی پینے گئی لیکن لوٹ کر نہیں آئی ۔شدید انتظار کے بعد ماں بیٹی کی تلاش میں نکلی ،جس جگہ پانی پینے گئی تھی ،اس جگہ زمین کے اندر سے لاش نکلی۔پولیس نے اس لڑکی کی لاش نکالی اور پہلی نظر میں جنسی ہراسانی یا جنسی تشدد کا شک ظاہر کیا جسے بعد میں ہلاک کیا گیا ہے ، تفتیش جانچ ہونا ابھی باقی ہے۔ اس نوعیت کی وارداتیں، ہاتھرس جیسے سانحات روز مرہ کی معمولات بن چکی ہیں ، جسے ہم آئے دن نظر انداز کرتے ہوئے گزر جاتے ہیںاورشاذو نادر جب میڈیا کی توجہ کا مرکز بنتے ہیںتوہر مکتبہ فکر کے افراد اپنی اپنی سطح پر 'مذمتی بھڑاس 'نکالتے ہیں اور پھر مطمئن ہوجاتے ہیں ۔اس طرح آئے دن نہ جانے کتنی عائشہ جہیز کے نام پر قربان ہوتی ہیں جس کا اندراج نہ ہماری حکومت کے انڈیکس میں شامل ہو پاتا ہے اورنہ ہی ہمارے مذہبی ادارے اس طرف خاطر خواہ پیش رفت حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے ہیںآج تک۔
یوں تو ہمارے ملک میں جہیز مخالف قوانین بھی ہیں اورسزائیں بھی طے کی گئی ہیں۔قانون بن جانا تمام مسائل کا حل ہوتاتو پھر یہ مسئلہ ختم ہوجانا چاہئے تھا؟سارے کام حکومت کے سر ڈال کر اپنی ذمہ داری سے انحراف کرنا ہماری نا اہلی ،لا پرواہی، غفلت شعاری کا جیتا جاگتا ثبوت ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ سماج جرائم اوربرائیوں کی آماج گاہ بن چکا ہے۔
عائشہ جاہل خاتون نہیں تھیں؟ایم اے پاس تھیں، با شعور، باہمت تھیں۔آخر کمی کہاں رہی جو اس نے عزیز اور بیش بہا 'زندگی ' کو ہلاک کر ڈالا ؟سب سوچ رہے ہیں اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں!تو صاحب صرف عائشہ اور فاطمہ نام رکھ دینے سے کوئی لڑکی اسلامی یا دیندار لڑکی نہیں بن سکتی ۔اصل ضرورت دینی تعلیم و تربیت کی ہے جس کا فقدان پایا جاتا ہے ہمارے معاشرے میں!
موت سے قبل ویڈیو بنانا سماج کی بے حسی کو آئینہ دکھانے کے مترادف عمل تھا۔پتہ نہیں ویڈیو دیکھ کر آپ کو کیا خیال آیا ؟مجھے تو "بلیو وہیل گیم"یاد آگیا۔'بلیو وہیل گیم ' جس پر اب ہندستان سمیت متعدد ممالک میں پابندی عائد ہے۔جب نوجوان لڑکے لڑکیاں یہ گیم کھیلتے ہوئے ویڈیوبناتے رہے اور لائیو موت مررہے تھے ۔خیال رہے لائیو موت کی ابتدا جیڈی سے ہوتی ہے ۔ اس طرح کا نظارہ ازیں قبل کی نسل فلموں میں دیکھ کر مغموم بعض اوقات نمناک بھی ہو جایا کرتی تھی حا لانکہ وہ ادا کاری ہوا کرتی تھی۔ناظرین کو معلوم ہوا کرتا تھاباوجود اس کے وہ جذبات پر قابو پانے میں ناکام رہا کرتے تھے ۔لیکن ہم آن لائن لوگوں کو حقیقت میں مرتا ہوا دیکھ کر نہیں روتے۔یہ بے حسی ہمیں کس مقام پر لے کر آگئی ؟
جدید عہد کی زندگی پردہ سیمیں پر دکھائے جانے والی زندگی سے" بلیو گیم" میں تبدیل کردی گئی ہے؟ ۔عائشہ کی خودکشی نہ جانے کتنے سوالات کے بلبلے سابرمتی ندی میں چھوڑ گئی ! ۔عائشہ کی خودکشی کو م مذہبی تعلیمات کا فقدان ٹھہرارہے ہیںلیکن آپ اس عالم کے متعلق کیا کہیں ؟ بالکل یہ حقیقت ہے جو میرے شناساؤں میں سے ہیں۔عالم ہیں، صوفی ازم کے مقلد۔بزرگی وراثت میں ملی ہوئی ہے۔زندگی کے آخری ایام ہیں۔انھیں معلوم کہ میں اب چند دنوں کا مہمان ہوں ،گھر میں پیسہ نہیں،دیکھیں پیسے کا انتظام کس طرح ہوتا ہے۔
بیٹا جوان ہے۔ اس کی شادی کرنا چاہتے ہیں کہ اپنی موت سے قبل ایک خوشی دیکھتا جاؤں۔ یہ خبر مشتہر ہوتی ہے رشتے داروں میں۔ بیوی کی بہن اپنی لڑکی سے رشتہ طے کردیتی ہیں۔ عالم بے عمل بہنوئی صاحب سالی صاحبہ سے نقدی کا مطالبہ کردیتے ہیں۔سالی صاحبہ مطالبہ پورا کرتی ہیں اپنی استعداد سے زیادہ۔(یعنی کہ بہنوئی صاحب کے تجہیز تدفین کا انتظام کرتی ہیں) سالی کو خبر نہیں کہ داماد کو دی جانے والی نقدی بہنوئی صاحب کی تدفین کے کام آئے گی! بہرحال ساری زندگی اپنے علم کو دنیا کے حصول کے لیے استعمال کیا تو آخری وقت خدا نے بھی  کہا لو تمھارا یہی انجام ہونا تھا!اتنا ہی نہیں زندگی میں اپنی زوجہ کو دو بار طلاق رجعی دیا۔تیسری طلاق کی دھمکی دے کر سسرال کی ساری جائیداد اپنے نام کروالیا۔ان کے مریدا ن کی تعداد ہزاروں میں۔یہ ہزار اپنے مرشد کے پیغام پر ہی تو عمل کریں گے!؟ اسلام کے نام نہاد رہبر۔آپ اتنا ہی کہہ سکتے ہیں۔
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہےجو ساری زندگی جہیز مخالف تقاریر کرتے رہے، اپنے مریدوں کے لیے جہیز کی رقم حرام قرار دیتے رہے، اپنے لئے حلال کرلیااور وہ بھی آخری وقت میں ؟ آخری وقت میں عام آدمی اچھا عمل کرنا چاہتا ہے لیکن ایک عالم بے عمل عوام الناس کے لیے کیا پیغام چھوڑ گئے؟
جس معاشرے میں اس طرح کی روش کا رواج پا یا جاتا ہو !اس معاشرے میں برائیوں کا خاتمہ ممکن ہے کیا؟
کاش!عائشہ کو معلوم ہوتا زندگی ' بلیو گیم'یا فلمی یا سیریل ڈرامہ نہیں ، زندگی بندگی ہے اور بندگی صرف وحدہ لا شریک کی ہی کی جاسکتی ہے کسی اور کی نہیں۔ دنیا میں قائم رشتے ناطے عارضی ہوتے ہیں ، ہر رشتے کی ایک حد ہے اور اسی حد تک ہمیں محبت کرنی ہے۔خدا کی ذات سے محبت کی انتہا نہیں۔اس ذات سے محبت کا صلہ وہ ملتا ہے جو محب کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا  رائیگاں ہونے کا سوال ہی نہیں۔بقول اسد اللہ خان غالب
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
ای میل۔
jabeennazan2015@gmail.com