تازہ ترین

دلنشین نعرے میں شہزادی سے اسیرزادی ہوگئی

حقوقِ نسواں

تاریخ    8 مارچ 2021 (00 : 12 AM)   


بلال احمد پرے
مارچ 8 عالمی یومِ حقوقِ نسواں کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ پوری دنیا میں تحریکِ آزادی نسواں بڑی زور پکڑتی جارہی ہے ،لیکن خواتین کی آزادی کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ در حقیقت عورت کے احترام کی نفی اور اس کی روح و جسم کا استحصال ہورہا ہے۔ جس پر آزادی نسواں کا رنگین ، خوشنما پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ عورت کو ' میرا جسم میری مرضی ' کے دلنشین نعروں سے دھوکا دے کر ورگلایا جارہا ہے۔ عورت کو سرعام بازاروں میں " عورت مارچ " کے بینر تلے جدید دور کے انسان کو ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہو رہی ہے بلکہ اپنی بے غیرتی کا ثبوت دیتے ہوئے فخریہ انداز میں اس کی عکس بندی کرتا ہوا نظر آرہا ہے ۔
حقوقِ نسواں سے مراد وہ حقوق ہیں جو عورتوں کو بھی مردوں کی طرح سماجی و قانونی مقام دے سکے ۔ آج مغربی نظریہ فکر رکھنے والے لوگ یہ وکالت کرتے ہیں کہ اسلام میں عورت کو پردے میں رکھ کر چہار دیواری کے اندر قید کر دیا گیا ہے۔
جو لوگ زرو و شور سے عورتوں کو بھی مردوں کے شانہ بہ شانہ چلنے کا نعرہ لگا رہے ہیں وہ اس مسلم حقیقت سے ناآشنا ہیں کہ عورتوں کا جسمانی نظام ، ان کا مزاج و طبیعت اور ان کی فکری صلاحتیں مردوں سے کافی مختلف ہیں۔ اس کے باوجود نئے فیشن نے عورتوں کو مردوں جیسا لباس و حلیہ اور مردوں نے عورتوں جیسا لباس و حلیہ اختیار کرنے کو ترقی کا راز بتایا ہے جو انسانی فطرت کے مترادف ہے۔
اسلامی نظریہ کے مطابق انسانی زندگی کو دو بڑے شعبوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے ؛
۱۔ اندرون خانہ ، امور خانہ داری کا تعلق عورتوں سے ہے۔
۲۔ بیرون خانہ ، کسب معاش کا تعلق مردوں سے ہے۔
تاکہ عورتوں پر زیادہ بوجھ نہ ہو اس لئے کہ وہ فطرتاً وخلقتاً نازک اندام ہوتی ہے ۔ اس سے گھر کی زینت اور اپنے خاندان ومعاشرے کی عزت سمجھی جاتی ہیں، اس کا عملی ثبوت حضرت علی ؑاور حضرت فاطمہ ؓکی ازدواجی زندگی ہے جو اقوام و ملت کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ اسلام نے بنت حوا کو ہر حیثیت سے ایک منفرد مقام عطا کیا ہے۔ بحیثیت بیوی تو گھر کی ملکہ ہے ، بحیثیت بیٹی تو والدین کے لیے رحمت ونعمت ہے ، بحیثیت بہن تو پرورش کرنے والے بھائی کے لئے جنت کی بشارت ہے اور سب سے بڑھ کر بحیثیت ماں تو اس کے قدموں کے نیچے جنت رکھی ہے ۔کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڑ کی خواتین شاخ نے 6 اور 7 مارچ کو کل ہند کنونشن برائے خواتین کا پروگرام منعقد کیا جس میں صنف نازک کی خود مختاری اور دیگر ما حاصل حقوق پر خوب سیر گفتگو کی گئی ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پیغمبر آخر الزمان حضرت محمدؐ کی ازواج مطہرات کے واسطے سے ساری مسلمان خواتین سے مخاطب ہوکر فرمایا ، ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ " یعنی تم اپنے گھروں میں ٹھہرے رہو۔ اور اگر کبھی نکلنے کی ضرورت ہوئی تو اس طرح زیب و زینت کے ساتھ نمائش کرتی ہوئی نہ نکلو ، جیسا کہ جہالت کی عورتیں نکلا کرتی تھیں "۔ (الاحزاب ۔۳۳)
اس آیت مبارکہ کے مطابق عورت کو اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ گھر میں مقیم رہ کر امور خانہ داری کی ذمہ داری سنبھالیں ،صرف ضرورت کے وقت گھر سے باہر جانے کی اجازت ہے ، دور جہالت کی عورتوں کی طرح بے پردہ نکلنے سے منع کر دیا گیا ہے تاکہ اپنی عفت، عصمت و عزت کی حفاظت کر سکیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ صنف نازک کو گھر کے اندر ہی قید و بند کردیا جائے۔
حضور اکرم ؐنے جائز تفریح کرانے کے لئے حضرت عائشہ ؑکے ساتھ مدینہ کی بستی سے باہر تنہائی میں ایک دوڑ لگائی ، کبھی حبشیوں کی جنگی مشق ، لاٹھی وخنجر اور تلوار وتیر اندازی دکھانے لے گئے جن کی سیرت پاک میں امت مسلمہ کے لئے قابل تقلید وعملی نمونہ ہے۔
آج مغربی معاشرہ یہ مطالبہ کرتا ہوا تھکتا نہیں ہے کہ خواتین کو حقوق دیے جائیں لیکن خود اس معاشرے نے خواتین کو کیا دیا ہے۔ آج دنیا میں اسمگل شدہ عورتوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ جو جسم فروشی کا اڈہ ، عریانت و اخلاقی بے راہ روی اور گناہوں کا ایک سیکٹر بن چکا ہے۔ یہ سارا طرز عمل مغرب کا دیکھایا اور سکھایا ہوا کھیل تماشہ ہی تو ہے کہ عورتوں کوکھلونے کی طرح جب چاہا جہاں چاہا دل فریبی کے لئے استعمال کیا -
اسلام نے عورت کو مردوں کے برابر کے حقوق اس وقت دیے جب دنیا میں کہیں اس کا تصّور بھی موجود نہیں تھا۔ آج سے چودہ سو سال پہلے نبی آخر الزمان ؐ نے عورتوں کی بے بسی کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے انہیں بلند و بالا مقام عطا کیا ہے۔ قرآن کریم جیسی مقدس و عظمت کتاب اِلٰہی کے اندر ایک سورت کو عورت کے نام " النساء " (Women  The ) منسوب کر کے شرف کا مقام بخش دیا ہے۔ عورت و مرد کے مساوات کا نظریہ سب سے پہلے اسلام نے پیش کیا تاکہ اس کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کیا جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ " تم لوگ عورتوں کے لیے لباس ہو اور وہ تمہارے لیے لباس ہیں "- (البقرہ۔187)
اس کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر بھی عورت کو مرد کے برابر اہمیت دی۔ عورتوں کے معاملہ میں خدا سے ڈرنے کی تاکید فرمائی - اس کے برعکس مغرب نے عورت کو ایک ایسی شے بنا ڈالا ہے۔ جس سے مرد لطف اندوز ہوتے ہے۔ فن و ثقافت کے خوبصورت پردوں کے پیچھے اْس کا اِس قدر استحصال کیا جاتا رہا ہے کہ عملاً وہ جنس کے متلاشیوں اور کارباریوں کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر رہ گئی ہیں، جس کا عورتوں کو ذرّا برابر بھی احساس نہیں۔
صحافت کی دنیا اور الکٹرونک میڈیا نے عورت کے حجاب کو تشویش ناک اور تنازعات کا موضوع بناکر عورتوں کی تعلیم، تحفظ، انسانی حقوق حتیٰ کہ ان کے مذہب کو عالمی خطرہ قرار دیا ہے۔ اور پردہ نشین خواتین کو محکوم، مظلوم اور مجبور قرار دے دیا ہے۔ جب کہ حقیقت میں پردے نے ان خواتین کو اسیرزادی نہیں بلکہ شہزادی بنا کر عزت سے اپنا دامن بچائے رکھنے کی آزادی فراہم کی ہے۔ عرب دنیا کی پہلی خاتون نوبل انعام یافتہ برائے امن توکل کرمان (یمنی جرنیلسٹ) نے پردے پر سوال اٹھانے والوں کو اس طرح منفرد جواب دیا کہ اْن کی عقل کے تالے کْھل گئے - آپ پردے کے دفاع میں کہتی ہیں کہ " ابتدائی دور میں انسان بالکل ننگا تھا جیسے جیسے اس کی ذہنی صلاحیت بڑھتی گئی تو اس نے کپڑے پہننا شروع کیا۔ آج یہ انسان جو پہن رہا ہے یہ اس کی سوچ کی مرہون منت ہے اور جو انسانی تہذیب و تمدن کی عکاسی کرتا ہے ، یہ انسانی پوشاک افسوس نہیں بلکہ شرمگاہ کی پردہ پوشی ہے جو لائق تحسین و قابل اعتبار ہے۔ اب دوبارہ جسم سے کپڑے ہٹاکر جنگلی زندگی جینے کی ترغیب دی جارہی ہے جو لائق افسوس ہے "۔
تحریک آزادی نسواں کے نام پر عورت کو کبھی مس ورلڈ و مس پلانیٹ انٹرنیشنل، تو کبھی ماڈل گرل جیسے نام دے کر دلفریب نعروں سے متاثر کئے بغیر نہیں چھوڑا ہے اور اس سے یہ باور کرادیا گیا کہ اسے صدیوں کی غلامی کے بعد آج آزادی ملی ہے۔ جب کہ اسے تجارتی اداروں ، شراب خانوں، فحش اڈوں اور ٹیلی ویڑن جیسے پلیٹ فارم دے کر لوگوں کی تھکن دور کرنے کے لئے ایک تفریح کا سامان بنا دیا گیا ہے۔ اس سب کے نتیجے میں گھر کا نظام تباہ و برباد ہو کر رہ گیا ہے ۔
اسلام کا مقصد ہمیشہ یہ رہا ہے کہ خواتین کے حوالے سے ہماری سوچ، ہمارے خیالات ، ہمارے احساسات اور ہماری طرز زندگی میں بہتری لائی جائے اور معاشرے میں عورت کا مقام بلند تر کیا جائے۔ اگر تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں ایسی ایسی ہمت و استقلال کا پیکر ، عزم و حوصلے کی با کردار مثالی مائیں نظر آئیں گی جنہوں نے اپنے سنہرے کارنامے تاریخ کے اوراق پر ثبت کر دیے ہیں۔ اسلام نے انسان کو عموماً اور خواتین کو خصوصاً جو حقوق عطا فرمائے ہیں وہ دنیا کے کسی بھی مذہب نے نہیں دیے ہیں۔ یہ حقوق چھ بنیادی درجات میں تقسیم کیے گئے ہیں۔
(۱) مذہبی و روحانی حقوق ( rights  spiritual  and  Religious )
(۲) معاشی حقوق ( rights  Economic)
(۳) تعلیمی حقوق ( rights  Educational)
(۴) قانونی حقوق ( rights  Legal)
(۵) معاشرتی حقوق (rights  Social )
(۶) سیاسی حقوق ( rights  Political)
الغرض آج کے جدید دور میں خواتین کی جس طرح تذلیل کی جاتی ہے، اور انہیں حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے، وہ سماج کے لیے ایک قابل غور المیہ ہے۔ آج ملت اسلامیہ کی بیٹیاں مایوسی اور محرومی کا شکار ہیں۔ظلم کی انتہا اس قدر ہے کہ اگر عورت پے درپے بیٹیوں کو جنم دے گی تو اْسے طلاق جیسے ظلم کو بھی سہنا پڑتا ہے یا مرد دوسری شادی رچا کر اسے گھونٹ گھونٹ کرجینے پر مجبور کرتا ہے۔ جہیز جیسی رسم کے نام پر بیٹیوں کا جینا حرام کیا جاتا ہے۔ احمد آباد کی عائشہ بیٹی اس خونِ آشام کی تازہ کہانی ہے جو سماج کے لیے المیہ ہے۔جب ہر کوئی شخص اپنے فرائض ادا کرنے لگے تو سب کے حقوق ادا ہو جائیں گے۔مغرب، میڈیا اور اسلام مخالف عناصر کی اندھی تقلید نہ کی جائے ۔ عورت کو گھر کے اندر ہی واپس اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے رکھا جائے اور اس کی مقصدِ تخلیق کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کیا جائے ورنہ یہ دنیا کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ اللہ تعالی ہمیں اپنی ماؤوں، بہنوں کی عزت و قدر کرنے کی توفیق دے۔ آمین
پتہ ۔ہاری پاری گام، ترال کشمیر
رابطہ۔ 9858109109
��������