محبت

کہانی

تاریخ    7 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


رئیس احمد کمار
وہ ایک نہایت ہی غریب باپ کی بیٹی تھی ۔ شکل و صورت سے حسین و جمیل دکھتی تھی ۔ اسکے مفلس باپ کو چار اور بچے پالنے پڑتے تھے ۔ بڑی مشکل سے ہی گھر کا گزارہ ہو رہا تھا ۔ حسین و جمیل ہونے کے ناطے بہت سے نوجوان اسکو اپنی طرف مائل کرنے کی تگ و دو میں لگے رہتے تھے ۔ جب بھی وہ اسکول یا کسی اور کام کےلئے گھر سے باہر نکلتی تھی تو نوجوانوں کے درمیان آپس میں مقابلہ لگ جاتا تھا کہ کس کے ساتھ اسکی بات ہوگی ۔۔۔۔۔۔
کئی مہینے اسی طرح گزر گئے ۔ آخر کار ایک پنتالیس سالہ نوجوان، جسکی ابھی تک شادی نہیں ہوئی تھی، اسکو اپنی معشوقہ بنانے میں کامیاب ہوا۔۔۔۔۔
پنتالیس سالہ نوجوان کا باپ ایک بڑا ٹھیکیدار تھا۔ کئی سالوں سے ٹھیکیداری کے کام میں اس نے کافی رقم کمائی تھی ۔ گاؤں اور پورے علاقے میں وہ غنی خواجہ کے نام سے جانا جاتا تھا ۔ جب بھی کسی شخص کو بڑے امیر آدمی کی مثال دینی ہوتی تھی تو غنی خواجہ کا نام لیتا تھا ۔ اس بیس سالہ حسین و جمیل لڑکی کو بھی اسی وجہ سے غنی خواجہ کے بیٹے سے ہی دل لگ گیا حالانکہ دونوں باپ بیٹے شراب نوشی اور دیگر نشہ آور چیزوں کا استعمال کھل کر کیا کرتے تھے ۔ اسکے لئے بھی وہ مشہور تھے لیکن دولت کے لحاظ سے وہ مالامال تھے۔۔۔
 بیس سالہ خوبصورت لڑکی نے نہ تو لڑکے کی زیادہ عمر کی پرواہ کی نہ ہی اور ان دونوں باپ بیٹوں کی خراب عادات کی طرف اس نے کبھی دھیان دیا ۔ بس مال و دولت کے لالچ نے اسکو ایسا کرنے پر آمادہ کیا۔۔۔
کئی سال سے عاشق اور معشوقہ ایک دوسرے کے ساتھ محبت کے دن گزارتے رہے۔ بازاروں کے چکرلگانا، تفریح گاہوں کی سیر کرنا اور دیگر جگہوں پر گھومنا پھرنا انکا معمول بن گیا۔ حسین لڑکی اپنے عاشق کے ساتھ دن گزارنے میں مزہ لے رہی ہے کیونکہ اسکا عاشق دولت مند باپ کا بیٹا ہے۔۔۔
گھر میں بہت سے لوگ رشتہ مانگنے آرہے ہیں ۔ غریب باپ اپنی مفلسی دیکھ کر اپنی بیٹی کا رشتہ طے کرنے کےلئے متفق ہوجاتے لیکن جب بات بیٹی کے سامنے رکھی جاتی ہے تو وہ صاف انکار کردیتی۔ معلوم کرنے پر غریب میاں بیوی کو پتہ چلتا ہے کہ انکی بیٹی غنی خواجہ کے بیٹے سے شادی رچانا چاہتی ہے ۔ کافی وعظ و نصیحت کرنے کے بعد بھی وہ کسی کی نہیں سنتی ۔ وہ اپنے عاشق کو دھوکہ نہیں دے سکتی ہے کیونکہ اسکو معلوم ہے کہ اُس کے عاشق نے اس پر کئی سالوں سے کتنی رقم خرچ کی  ہے اور کیسے اسکو عیش بھی کرائے ۔۔۔
جب مفلس میاں بیوی اپنی بیٹی کو منانے میں پوری طرح ناکام ہوئے تو اسکی شادی آخرکار غنی خواجہ کے بیٹے سے ہی کرائی گئی ۔۔۔
اب میاں بیوی اپنے قریبی رشتے داروں وغیرہ کو شادی کے بارے میں مطلع ہی نہیں کرتے ہیں کیونکہ وہ سب اس رشتے کے خلاف تھے اور انہوں نے بھی اپنی طرف سے لڑکی کو کافی سمجھایا تھا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئی ۔۔۔۔۔
ایک دن جب وہ دردہ زہ میں مبتلا ہوئی تو سسرال والوں نے شہر کے سب سے بڑے پرائیویٹ ہسپتال میں اسکو ایڈمٹ کرایا، جہاں اسکی ڈلیوری ہوئی اور اس نے بیٹے کو جنم دیا ۔ میاں بیوی، انکے ہمسائے اور رشتے دار سب ہسپتال میں موجود ہیں ۔ جنہوں نے ابھی تک لڑکی کے شوہر اور سسرال والوں کو دیکھا بھی نہیں تھا وہ بھی خبر گیری کے لئے ہسپتال آرہے ہیں ۔۔۔۔
سسرالوالوں کے پاس مال و دولت تو کافی تھا لیکن انکی خراب عادات اور غیر انسانی حرکات نے اب اسکا دل کافی رنجیدہ کردیا تھا ۔ گھر کا ماحول بھی اسکو راس نہیں آرہا تھا ۔ کسی طریقے سے وہ شوہر اور سسرال والوں سے اپنی جان چھڑانا چاہتی ہے لیکن کیا کرے شادی اپنی مرضی سے رچائی تھی۔۔۔۔
ہسپتال میں سبھی  ہمسایہ اور رشتے دار انکی خراب عادات اور غیر انسانی حرکات کا زکر کر رہے تھے ۔ اس وقت بیٹی یہ سب کچھ بغور سن رہی تھی اور اتفاق بھی کرتی تھی لیکن وہ کچھ کہہ نہیں سکتی۔۔۔۔
جب ہسپتال سے چھٹی ملی تو گھر میں دو دن بعد ہی اسکی موت واقع ہو جاتی ہے ۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے خودکشی کی تھی۔۔۔
���
بری گام قاضی گنڈ 
 
 
 

تازہ ترین