افسانچے

تاریخ    7 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


خالد بشیر تلگامی

یاد الٰہی

 تقریباً دس سال بعد ماجد کے بچپن کا دوست اچانک اس سے ملنے گھر آیا۔ ماجد بہت خوش ہوا۔بیوی سے جلدی جلدی چائے ناشتے کے لئے کہا۔ چائے ناشتے کے بعد دونوں دوست ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔دوست نے باتوں باتوں میں ماجد سے پوچھا۔
"ماجد۔۔۔میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی زندگی میں کامیاب اور بہت خوش ہو۔ اس کی کوئی خاص وجہ۔؟"
"دوست اس خوشی کی پہلی وجہ یہ ہے کہ تم ایک عرصے کے بعد ہمارے غریب خانے پر تشریف لائے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ میں سکون کے ساتھ اپنے گھر میں ماں باپ کے ساتھ رہ رہا ہوں۔"
"واہ! یہ سن کر بہت خوشی ہوئی."
"اب تم کچھ اپنی سناؤ؟"ماجد نے دوست سے کہا۔
"ارے یار کیا بتاؤں............! اللہ  نے مجھے، ان دس برسوں میں بہت نوازا ہے۔ کار ،بنگلہ، بینک بیلنس سب کچھ ہےمیرےپاس لیکن۔" دوست کے لہجے سے افسردگی صاف ظاہر تھی۔
"مگر اتنی دولت...........؟" ماجد نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
 "دوست... یہ سب کچھ بچوں کی بدولت ممکن ہوا ،جنہوں نے دولت مند خاندانوں میں شادی کی۔ میری تینوں بہویں رئیس والدین کی اولادیں ہیں۔ بہت ماڈرن بھی ہیں اور آزادخیال بھی!! " دوست نے مصنوعی مسکراہٹ  اپنے ہونٹوں پر بکھیرتے ہوئے کہا۔
" بہت خوب۔۔مگر پھر بھی تمہیں دیکھ کر یہ نہیں لگتا کہ سکون سے جی رہے ہو"
"سچ کہا دوست مگر یہ سکون ملتا کہاں ہے؟"
"آؤ میرے ساتھ میں دکھاتا ہوں" یہ کہتے ہوئے ماجد اپنے دوست کو دوسرے کمرے میں لے گیا جہاں ماجد کی ایک بہو نماز پڑھ کر دعا مانگ رہی تھی اور دوسری بہو  قرآن کی تلاوت کر رہی تھی...!!
 
 

مصروفیت

"ایک روٹی دے دو بابا۔۔۔۔ تین دنوں کا بھوکا ہوں"بھک منگے کی صدا رقت آمیز تھی۔
سیٹھ جی نے ایک اُچٹتی سی نگاہ اُس پہ ڈالی اور اپنے کتے کو گوشت کھلاتے ہوئے بولا۔
"معاف کرو ،ابھی میں بزی ہوں"
 
 
تنلگام پٹن
 

 

تازہ ترین