صباء

افسانہ

تاریخ    7 مارچ 2021 (00 : 01 AM)   


رحیم رہبرؔ
ہوائی جہاز کے شور سے شانت آکاش کا سکوت کچھ لمحات کے لئے ٹوٹ گیا۔ میرے سوچ کے بھنور میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔
’’صباء ویسے بھی چھوٹے چیزوں کو حقیر سمجھتی تھی۔ اتنی اُونچائی سے میں اس کو کیا دکھائی دوں گا۔ ایک کیڑا۔۔۔۔ کیڑے کی بساط ہی کیا ہے؟ کیڑے کی اوقات نہیں ہوا کرتی! کیڑے کی کوئی اپنی شناخت نہیں ہوتی ہے۔ لوگ اس کو پائوں تلے روندتے ہیں!
کہاں ہوائی جہاز میں اُڑنے والی صباء! اور کہاں میں لفظوں کا سوداگر ایک ضعیف کہانی کار؟ یوں تو اُس نے مجھے اپنے بنانے کی قسم کھائی تھی۔۔۔ میں اس کو خوامخواہ دِل دے بیٹھا۔ اپنے برہنہ جسم پر چاندنی اوڑھنے والی صباء کہاں اور کہاں میں۔ ایک معمولی سا کیڑا! صباء ہمیشہ کہا کرتی تھی ’’میرا حُسن میرا غرور ہے۔‘‘ جب اُس کے لئے میرے پاس الفاظ کم پڑتے تھے تو بھی اُس سے کہتا تھا۔ 
’’میری کہانی میرا غرور ہے‘‘پھر وہ مسکراتی تھی۔ اُسکی مسکراہٹ اُس کے رسیلے ہونٹوں کی طرح پُراسرار ہوتی تھی!
صباء کو سر سوتی کے پھول اچھے لگتے تھے۔ دور سے جب اُس پر نگاہیں جمتیں تھیں تو وہ گلال کے پھول کی ماننددکھائی دیتی تھی لیکن گلال کے پھول میں بھی داغ ہے، میں نے ایک دن صباء سے کہا تھا۔
’’تم کتنی حسین ہو!‘‘
اُس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
’’وہ۔۔۔وہ کتنا حسین ہوگا، جس نے مُجھے تخلیق کیا!‘‘
’’بس۔۔۔ بس ایک کمی ہے تُم میں صباء !‘‘
’’کمی۔۔۔!؟‘‘ وہ دفعتاً بولی۔
’’ہا۔۔۔ہاں کمی‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’ہاں۔۔۔ بتائو تمہیں میری قسم ہے۔ کون سی کمی تمہیں مجھ میں نظر آتی ہے۔‘‘ اُس نے اپنا دایاں بازُو میرے کندھے پر رکھ کر پوچھا۔
’’تمہیں اپنے آس پاس ساری چیزیں نکمی لگتی ہیں!‘‘ میں نے جواب دیا،۔
’’اُونہہ‘‘ پھر وہ حسرت بھری نگاہوں سے مجھے دیکھنے لگی۔
’’اور۔۔۔۔!‘‘ اُس نے پھر پوچھا۔
’’تم حسین ہو۔ تندرست ہو۔ تعلیم یافتہ۔۔ امیر باپ کی اکلوتی بیٹی ہو۔ لیکن یہ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی تم ایک ماں ہو‘‘۔
’’ماں۔۔۔!‘‘ وہ چونک گئی۔
’’ہاں، ہاں۔۔۔ ماں۔۔ ہر ایک لڑکی ماں کے طور ہی جنم لیتی ہے۔(Every girl is a devine Mother)
’’تم ۔۔۔ تُم کیا چاہتے ہو‘‘۔ اُس نے غصے میں پوچھا۔۔۔
میں۔۔۔میں تجھے چاہتا ہوں۔۔۔ پھر اُس نے میرے ماتھے کو چوما تھا۔ اُس کے ہونٹوں کی حرارت میری رگ رگ میں پیوست ہوگئی۔ میں اُس کا دیوانہ ہوگیا۔ فراقِ یار میں میں نہ جانے کیا کیابَکتا رہا۔۔۔!
ہوائی جہاز دھیرے دھیرے میری نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔ صباء چلی گئی۔ آج دو بجے کی فلائٹ میںوہ اپنے دُولھے کے ساتھ دوبئی ہنی مون منانے کے لئے چلی گئی۔
’’بیٹا کھانا کھالو۔۔۔ کتنی دیر اور اس تپتی ہوئی دھوپ میں بیٹھو گے‘‘ماں کی آواز سُن کر میں چونک پڑا۔
’’آیا ماں‘‘ میں نے جواب دیا۔
میری آزاد سن کر ماں برآمدے سے باہر آنگن میں میرے پاس چلی آئی۔ اُس نے اپنی قباء سے میرا پسینہ پونچھ لیا اور بولی۔
’’بیٹا! یہ دُنیا بہت ہی سنگ دِل ہے۔ یہاں انسان کو اقدار اور اوصاف کی بُنیاد پر تولا نہیں جاتاہے۔ یہاں بیٹا اِنسان کو دولت کی بُنیاد پر تولا جاتا ہے۔ یہاں آپ کے الفاظ میں روپیہ بولتا ہے!‘‘
���
رابطہ: آزاد کالونی پیٹھ کا انہامہ،موبائل نمبر؛9906534724

تازہ ترین